خاموشی……
وہ اپنے گرم اور تاریک کمرے میں جاگا، تو کھڑکی کے باہر پرشور شہر پھیلا تھا۔
وہ سڑک پر نکل آیا، اس امید پر کہ شاید وہ خاموشی مل جائے،
جو کہیں خواب میں کھو گئی تھی۔
مگر بازار، چوراہے اور فٹ پاتھ؛ ہر طرف شور تھا۔
دوپہر میں وہ ایک زیرِ تعمیر عمارت کے پاس سے گزرا،
چند مزدور دائرے میں، دیوار کے سائے میں بیٹھنے کھانا کھا رہے تھے۔
ان کے درمیان ایک جگہ خالی تھی، جیسے ابھی کوئی اٹھ کر گیا ہو۔
وہ ٹھہر گیا۔ پھر ایک آدمی آیا، اور اس خالی جگہ ایک روٹی رکھ دی۔
اسں نے ایک مزدور سے پوچھا، ’’یہ روٹی کس کے لیے ہے؟‘‘
اس نے لقمہ توڑا، اور کہا: ’’وہ، جو کل یہاں بیٹھا تھا۔‘‘
اس نے پوچھنا چاہا: اب وہ مزدور کہاں ہے، بیمار ہے، چھٹی پر ہے، یا مر گیا؟
مگر وہ خاموش رہا، اور تھکے ہارے مزدوروں کو دیکھتا رہا۔