• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اسلام آباد ہائیکورٹ نے افسران کی بیرون ملک تعیناتی روکنے کا فیصلہ کالعدم قرار دیدیا

اسلام آباد ہائیکورٹ نے انٹیلی جنس رپورٹ پر ٹریڈ اینڈ انویسٹمنٹ افسران کی بیرون ملک تعیناتی روکنے کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔

عدالت نے وزیر اعظم کی منظوری سے دوبارہ اشتہار جاری کرنا بھی غیر قانونی قرار دیتے ہوئے ٹریڈ اینڈ انویسٹمنٹ کے 10 افسران کی بیرون ملک تعیناتی سے متعلق درخواستیں منظور کرلیں۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس انعام امین منہاس نے انٹیلی جنس رپورٹ کی بنیاد پرسرکاری افسران کی تعیناتی روکنے سے متعلق درخواستوں پر 26 صفحات پر مشتمل تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کردیا۔

فیصلے میں کہا گیا کہ عدالت کو نہیں بتایا گیا انٹیلی جنس رپورٹ میں کیا تھا، جس کی بنیاد پر’ناٹ سوٹ ایبل‘ کی سفارش کی گئی، عدالتی نظیریں موجود ہیں، اگر کوئی انتظامی فیصلہ کسی ٹھوس مواد کے بغیر ہو تو وہ غیر معقول اور من مانی تصور ہوگا، یہ بھی عدالتی نظیریں موجود ہیں۔

فیصلے میں مزید کہا گیا کہ سول سرونٹس سے بغیر جواب مانگے، ان کے خلاف انٹیلی جنس رپورٹ کو استعمال کرنا غیرقانونی ہے، وزارت تجارت حکام خود مانتے ہیں، انہوں نے رپورٹ پوری نہیں پڑھی صرف غیر معقول کا ٹک لگا کر سکیورٹی کلیئرنس روک دی۔

فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ عدالت سمجھتی ہے کہ پالیسی اور سیکیورٹی کے معاملات میں عدالت کو مداخلت سے گریز کرنا چاہیے۔

عدالت نے فیصلے میں لکھا کہ یہاں پٹیشنرز کا سیکیورٹی کلیئرنس انٹیلی جنس رپورٹ ’غیر معقول‘ کی بنا پر روک دیا گیا، وزارت تجارت کو بار بار کہا گیا رپورٹ کا مواد بتائیں یا پٹشنرز کو صفائی کا موقع دینا چاہیے لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔

عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ اینٹلی جنس رپورٹ کلاسیفائیڈ ہونے سے متعلق بھی کوئی آرڈر یا نوٹیفکیشن پیش نہیں کیا گیا۔

عدالت نے وزارت تجارت کو درخواست گزار افسران کو تعیناتی لیٹر جاری کرنے کا حکم دے دیتے ہوئے کہا کہ لیٹر جاری کرنے کے 30 دن کے اندر تعیناتی کے قبل تمام امور مکمل کئے جائیں، پٹیشنرز کو بغیر تاخیر بیرونِ ملک پاکستان ٹریڈ مشنز میں پوسٹنگ چارج کی اجازت دی جائے ۔

عدالت نے قرار دیا کہ درخواست گزار افسران کے حوالے سے کوئی بھی منفی رپورٹ یا مواد عدالت کے سامنے نہیں رکھا گیا، بار بار عدالتی احکامات کے باوجود وزارتِ تجارت مبینہ انٹیلی جنس رپورٹ ریکارڈ پر پیش کرنے میں ناکام رہی، بغیر وجوہات کے وزیر اعظم اور سلیکشن بورڈ کی طرف سے منظور شدہ میرٹ لسٹ کو منسوخ یا ویٹو نہیں کر سکتے۔

فیصلے میں کہا گیا کہ پٹیشنرز نے تمام ٹیسٹ اور انٹرویو کلیئر کیا اور 28 کامیاب امیدواروں کی لسٹ میں شامل ہوئے، یہ امتیازی سلوک آئین کے آرٹیکل 25 کی خلاف ورزی کا کلاسک کیس ہے۔

عدالت نے کہا کہ لسٹ کے 28 میں سے 18 افسران کو بیرونِ ملک تعینات کر دیا گیا، پٹیشنرز کو الگ کر کے ان کے حقوق سلب کیے گئے۔

عدالت نے حکم دیا کہ اشتہار سے قبل موجودہ ویٹنگ لسٹ کو سختی سے میرٹ کے مطابق مکمل طور پر نافذ اور ختم کیا جائے۔

وزارتِ تجارت نے قائمہ ویٹنگ لسٹ کی موجودگی کے باوجود حقائق چھپا کر وزیر اعظم سے دوبارہ اشتہار کی سمری منظور کروائی، وزیر اعظم سے دوبارہ منظوری سیکریٹریٹ انسٹرکشنز 2021 کی خلاف ورزی تھی۔

قومی خبریں سے مزید