پہلے تو صرف ایک آستانہ عالیہ ہوتا تھا جہاں ایک اللہ کے ولی فالج لقوہ ، کالی کھانسی ،دائمی قبض ، گردوں کی خرابی ، جنوں بھوتوں کو’ گھر بدر‘ کرنے ، گونگوں ،’بولوں‘ اور طویل عرصے سے بستر علالت پر پڑے مریضوں کا علاج صرف ایک پھونک سے کر کے انھیںچنگابھلا کر دیتے تھے۔ چنانچہ اس آستانہ عالیہ پر ہزاروں لوگ حاضری دیتے اور من کی مرادیںپاتے ۔ اللہ کے اس ولی کی شہرت دور دراز مقامات تک پہنچی اور یہ انھی کا فیض ہے کہ اب پاکستان کے بہت سے شہروں میں آستانہ ہائے عالیہ کھل گئے ہیں۔
فی الحال ہزاروں تو نہیںسینکڑوں کی تعداد میں ایک دم کے نتیجے میں ایک دم ہر بیماری دفع دور ہو جاتی ہے، مگر سچی بات یہ ہے کہ کہاں وہ بات مولوی مدن کی سی۔ چنانچہ میں نے دیکھا کہ آستانہ عالیہ کے پیرفقیر پھونکیں مارتے مارتے ہلکان ہو جاتے ہیں۔ مگر اس مریض کی ظاہری حالت میںبظاہر کوئی فرق نظر نہیں آتا ۔ خصوصاً جن نکالنے کیلئے انھیں بہت زیادہ تگ و دو کرنا پڑتی ہے۔ اس کے علاوہ جن کے حسب نسب اور عقیدے کے حوالے سے بھی بہت انوسٹی گیشن کرنا پڑتی ہے۔ مثلاً جس شخص کو جن ’چمڑا‘ ہوتا ہے، وہ اپنے ساتھ آئے ہوئے شخص کےہاتھوں سے نکلنے کی تگ و دو کرتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ خوفناک آوازیں بھی نکالتا ہے۔اس دوران آستانہ عالیہ کے درویش اس سے سوال جواب کرتے ہیں جو اصل میں جن سے پوچھے جا رہے ہوتے ہیں۔
مثلاً تمہارا مذہب کیا ہے؟ تم عیسائی ہو، ہندو ہو، سکھ ہو یا مسلمان؟ اس سوال سے جن کے پسینے چھوٹ جاتے ہیں اور وہ ہتھیار پھینک دیتا ہے اورنارمل دکھائی دینے لگتا ہے اور اس سے کہا جاتا ہے کہ تم آستانہ عالیہ سے منسلک ہو گئے ہو۔پھر وہ جن آستانہ عالیہ والے پیر صاحب کے ہاتھ چومتا ہے اور نیواں نیواںہو کےوہاں سے نکل جاتا ہے۔ا ب الحمدللہ آستانہ عالیہ جگہ جگہ کھل گئے ہیں۔ چنانچہ بعض مقامات پر مشرقی وضع قطع کی بھی کوئی ضرورت نہیں سمجھی جاتی ۔ حضرت داڑھی مونچھ کے محتاج نظر نہیں آتے اور ان میں سے کئی ایک تو صرف نو جوان نہیں، بالکل بچے ہیں جو اپنے والد صاحب کے ساتھ لگے بیٹھے ہوتے ہیں۔ ان کی ولایت کے قائل باری باری ان کے پاس آتے ،ان کے پاؤں کو چھوتے اور ان کی خدمت میں نذرانہ پیش کر کے رخصت ہو جاتے ہیں۔ اس دوران ایک اور نسل بھی سامنے آئی، یہ باریش لوگ ہیں۔ ان سب نے مخصوص طرز کی پگڑیاں باندھی ہوتی ہیں اور یہ گول دائرے میں لڈیاں ڈال کر اپنے مرشد کو راضی کرتے ہیں۔ انھیں باقی آستانوں کی طرح اس آستانے پر بھی یقین ہے کہ ان کی دلی مرادیں پوری ہوں گی ۔ اب اس نوع کے روحانی آستانے اتنی تعداد میں کھل گئے ہیں کہ کہیں دور جانے کی ضرورت ہی نہیں پڑتی۔ کچھ تو ایسے بھی ہیں جو آپ کی فون کال پر آپ کے آستانے پر بھی آجاتے ہیں، تاہم یہ سہولت ہر آستانے پر میسر نہیں ہے۔
میں کبھی اس بات پر بہت کڑھا کرتا تھا کہ ہمارے لوگ مذہب سے دور ہوتے جا رہے ہیں، مگر اب وہ مذہب سے دور نہیں بلکہ بہت دور تک خود مذہب کے اندر گھس گئے ہیں۔ یہ صرف پاکستان یا مسلمانوں ہی میں نہیں بلکہ ہندوؤں اور عیسائیوں میں بھی ایسے عامل آچکے ہیں، جن کے سامنے ہزاروں کا مجمع ہوتا ہے۔ یہ عامل حاجت مندوں کو صرف چھوتے ہیں اور وہ ٹھیک ہو جاتے ہیں ، تاہم مردوں اور عورتوں کو چھونے کے مقامات مختلف ہیں ۔ مگر اس سے کیا فرق پڑتا ہے؟ مقام کوئی بھی ہو وہ عامل سے زیادہ مقدس نہیں ہوتا۔ اس دوران میں نے ٹک ٹاک پر ایک پادری کو بھی اپنی روحانیت کا سکہ جماتے ہوئے دیکھا۔ شروع شروع میں یہ مناظر دیکھ کر کوفت ہوئی اور سمجھا شاید لوگوں کو بیوقوف بنایا جا رہا ہے۔ میں خود ایک پیر خاندان کا فرد ہوں جن کا فیض صدیوں سے جاری ہے۔ خود میں نے اپنے اندر ایک نہیں کئی دفعہ محسوس کیا کہ مجھے خلق خدا کی طبی ضرورتوں کیلئے پیدا کیا گیا ہے۔
ایک دفعہ میں نے ایک مریض کو دم کیا تو وہ ایک دم ٹھیک ہو گیا۔ تب مجھے یقین ہوا کہ آستانہ عالیہ سے واقعی لوگوں کی مرادیں پوری ہوتی ہیں اور وہاں کسی کو بے وقوف نہیں بنایا جاتا۔ میں نے ابھی بتایا تھا کہ میں خود ایک روحانی خانوادے کا فرد ہوں ، اس سے آگے میں کچھ نہیں کہوں گا عقلمند کیلئے اشارہ ہی کافی ہوتا ہے۔