گزشتہ دنوں قومی اسمبلی کے انرجی اکانومی پارلیمانی فورم نے پاکستان انسٹیٹیوٹ آف پارلیمنٹری سروسز (PIPS) اسلام آباد میں پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر ایک سیمینار’’پاکستان میں فیول کا بحران‘‘ کا انعقاد کیا جس میں مجھے بھی فورم کے ممبر کی حیثیت سے اپنے خیالات کے اظہار کیلئے مدعو کیا گیا۔ سیمینار میں میرے علاوہ پارلیمانی فورم کی کنوینر اور رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر نفیسہ شاہ، پارلیمانی سیکریٹری بیرسٹر دانیال چوہدری، شیر علی ارباب، خورشید جونیجو، ڈاکٹر خاقان نجیب اور دیگر اراکین پارلیمنٹ اور معیشت دانوں نے شرکت کی۔ میں نے اپنی تقریر میں پیٹرولیم مصنوعات میں پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی (PDL) کےناقابل برداشت اضافے پر تشویش کا اظہار کیا جو اس وقت حکومتی ٹیکسز میں سب سے بڑا نان ٹیکس ریونیو ہے اور براہ راست وفاقی حکومت کو جاتا ہے۔
امریکہ، ایران جنگ کے بعد ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھائو دیکھا گیا لیکن پاکستان میں گزشتہ 3 مہینوں کے دوران پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ دیگر ممالک کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے جسکی وجہ پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی ہے جس کو حکومت ایف بی آر کے ریونیو شارٹ فال پورا کرنے کیلئے استعمال کررہی ہے۔ سال 2000ء میں پیٹرول 14 روپے فی لیٹر ہوتا تھا مگر آج 380روپے لیٹر سے تجاوز کرگیا ہے۔ میں آپ کو پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی (PDL) کے نفاذ کی دلچسپ تاریخ بتانا چاہوں گا۔ پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی کا نفاذ پہلی بار 2009 میں ملک میں دہشت گردی پر قابو پانے کیلئے بڑھتے اخراجات پورے کرنے کیلئے کیا گیا تھا۔ 2013-18 ءتک یہ 14 روپے فی لیٹر تک وصول کیا گیا جبکہ 2020ءمیں ایف بی آر کے ریونیو ہدف میں 480ارب روپے کے شارٹ فال کی وجہ سے اسے بڑھاکر پیٹرول پر 20 روپے اور ڈیزل پر 25 روپے کردیا گیا۔ 2022 ءمیں آئی ایم ایف کیساتھ معاہدہ کرتے وقت پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی 50 روپے فی لیٹر تک کرنے کا فیصلہ کیا گیا اور 2024 ءمیں آئی ایم ایف سے معاہدہ ہونے پر پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی بڑھاکر 80 روپے فی لیٹر کردیا گیا جو امریکہ ایران جنگ کے بعد بڑھاکر 117.50 روپے فی لیٹر وصول کیا جارہا ہے۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پیٹرولیم نے بھی پیٹرول کے مہنگے ہونے کی وجہ 117 روپے فی لیٹر پیٹرولیم ڈویلپمنٹ کا نفاذ بتایا۔ گزشتہ دنوں حکومت نے ڈیزل اور پیٹرول کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کیا جسکے بعد ڈیزل کی قیمت 380.78 روپے ہوگئی ہے جس میں 42.60 روپے (11 فیصد) PDL شامل ہے جبکہ پیٹرول کی نئی قیمت 377.78 روپے ہوگئی ہے جس میں 117.41 روپے (31 فیصد) PDL شامل ہے جو ڈیزل کے مقابلے میں تقریباً 3 گنا زائد ہے جبکہ آئی ایم ایف نے پیٹرول اور ڈیزل پر 80 روپے فی لیٹر پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی (PDL) لگانے کی تجویز دی تھی مگر حکومت نے پیٹرول پر 117.41 روپے لیٹر پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی عائد کیا ہے۔ اسکے علاوہ اگر 2.5 روپے لیٹر کاربن لیوی، کسٹم ڈیوٹی اور دیگر ٹیکسز کو شامل کیا جائے تو یہ مجموعی ٹیکسز 145 روپے فی لیٹر بنتے ہیں جو پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کو ناقابل برداشت بنادیتے ہیں۔ 2025-26 میں آئی ایم ایف نے پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی (PDL) کا ہدف1468 ارب روپے رکھا ہے جس میں سے حکومت جولائی سے اپریل 2026ء تک 1333 ارب روپے وصول کرچکی ہے جبکہ آئندہ مالی سال 2026-27 میں 18 فیصد اضافے سے PDL کا ہدف 1727 ارب روپے رکھا گیا ہے جو نان ٹیکس ریونیو کا ایک بڑا ذریعہ ہے۔ خطے کے دیگر ممالک بھارت، بنگلہ دیش، سری لنکا اور نیپال میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں معمولی اضافہ جبکہ پاکستان میں دگنا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ PDL کے ساتھ حکومت نے آئی ایم ایف کے کلائمنٹ سپورٹ پروگرام کیلئے 2.5روپے کاربن لیوی کی مد میں 2025-26 میں 48ارب روپے اور 2026-27ءمیں 95 ارب روپے کی وصولی متوقع ہے جس کے عوض آئی ایم ایف نے ہمیں RSF کی مد میں 1.4 ارب ڈالر کا قرضہ دیا ہے جس میں سے پاکستان کو اب تک 420 ملین ڈالر مل چکے ہیں جس کا پورا بوجھ عوام برداشت کررہے ہیں۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر کب تک ٹیکس اہداف پورا کرنے کیلئے حکومت عوام سے پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی اور کاربن لیوی وصول کرتی رہے گی۔ آئی ایم ایف کے مطابق پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی اور کاربن لیوی، ٹیکس ریونیو بڑھانے، بجٹ خسارہ پورا کرنے، قرضوں کی ادائیگی اور توانائی سیکٹر کی فنانسنگ کیلئے عائد کیا گیا ہے جس میں ایف بی آر کے ریونیو ہدف میں کمی کو پورا کرنے کیلئے مسلسل اضافہ کیا جارہا ہے جسکے نتیجے میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں عوام کی قوت برداشت سے باہر ہوتی جارہی ہیں جس کیلئے ہمیں فیوسل آئل کی امپورٹ پر انحصار کم کرنا ہوگا۔اس کے علاوہ ہمیں متبادل توانائی سولر، ہائیڈرو، ونڈ، کوئلے اور نیوکلیئر توانائی سے بجلی کی پیداوار اور جلد از جلد الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال کو فروغ دینا ہوگا تاکہ خام آئل، پیٹرول، ڈیزل اور ایل این جی جیسے مہنگے فیول کی امپورٹ میں کمی لائی جاسکے۔ ایف بی آر کو بھی ٹیکس نادہندگان کو ٹیکس نیٹ میں لانا ہوگا تاکہ PDL وصولی سے ریونیو اہداف پورا کرنے کی ضرورت نہ پڑے۔