• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سپریم کورٹ نے شوہر کے قتل کیس میں خاتون کی عمر قید 14 سال قید میں تبدیل کر دی

---فائل فوٹو
---فائل فوٹو 

سپریم کورٹ نے شوہر کے قتل کے مقدمے میں سزا یافتہ خاتون افشاں سحر کی عمر قید کی سزا کم کر کے 14 سال قید میں تبدیل کر دی۔

کیس کی سماعت جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کی۔ 

جسٹس کاکڑ نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ عموماً شوہر بیوی کو قتل کرتا ہے، پہلا کیس دیکھا ہے جس میں بیوی نے شوہر کو قتل کیا۔

عدالت کو بتایا گیا کہ بیروزگار شوہر اپنی اہلیہ پر تشدد کرتا تھا اور اسے بار بار میکے سے پیسے لانے پر مجبور کرتا تھا۔ 

وکیلِ صفائی کے مطابق خاتون کی والدہ اکثر مالی مدد کرتی تھی تاہم آخری بار رقم دینے سے انکار پر شوہر نے خاتون کو تشدد کا نشانہ بنایا۔

استغاثہ کے مطابق خاتون نے ردِعمل میں شوہر کے سر پر وار کیا جس سے اس کی موت واقع ہوگئی۔

وکیلِ صفائی نے مؤقف اختیار کیا کہ خاتون نے اپنی عزت اور تحفظ کو لاحق خطرے کے باعث یہ قدم اٹھایا۔

عدالت نے استفسار کیا کہ کیا مجرمہ نے اپنے بیان میں جرم کا اعتراف کیا تھا؟ کیس میں مجرمہ کے 2 بھائی بھی نامزد تھے تاہم انہیں بری کر دیا گیا، استغاثہ کے شواہد پر فیصلہ کیا جائے تو کیس میں تینوں ملزمان بری ہو جاتے ہیں۔

عدالت کو بتایا گیا کہ خاتون 2016ء سے جیل میں ہے اور تقریباً 10 سال قید کاٹ چکی ہے، سپریم کورٹ نے تمام دلائل سننے کے بعد عمر قید کی سزا کم کر کے 14 سال قید مقرر کر دی۔

قومی خبریں سے مزید