کب تک ہماری بیٹیاں تیزاب کا نشانہ بنتی رہیں گی؟ کب تک خوبصورت چہرے ناقابل شناخت ہوتے ر ہیں گے؟ انسانیت کے دشمن کب تک قانون کا منہ چڑھاتے رہیں گے؟ تیزاب گردی ایک ایسا معاشرتی المیہ ہے جسے سوچ کر ہی رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ کوئٹہ میں ایک خاتون ڈاکٹر پر تیزاب پھینکے جانے کا حالیہ افسوسناک واقعہ پورے ملک کے ضمیر کو جھنجھوڑنے کیلئے کافی ہے۔ اطلاعات کے مطابق صوبائی دارالحکومت کوئٹہ کے ایک بڑے سرکاری اسپتال میں ڈیوٹی پر موجود خاتون ڈاکٹر پر ایک شخص نے تیزاب پھینک دیا جس سے وہ شدید زخمی ہو گئیں۔ بعدازاں انہیں بہتر علاج کیلئے کراچی منتقل کیا گیا۔ اس واقعے کیخلاف ڈاکٹر برادری نے شدید احتجاج بھی کیا۔ یہ واقعہ محض ایک فرد پر حملہ نہیں بلکہ پورے معاشرے کے چہرے پر ایک بدنما داغ ہے۔ تیزاب گردی ان جرائم میں شمار ہوتی ہے جن میں مجرم جسمانی نقصان کیساتھ ساتھ متاثرہ فرد کی شناخت، اعتماد اور سماجی زندگی کو بھی تباہ کرنیکی کوشش کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں اسے انسانیت سوز جرم قرار دیا جاتا ہے۔ پاکستان میں تیزاب گردی کا مسئلہ نیا نہیں۔ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران سیکڑوں خواتین، بچیاں اور بعض مرد بھی اس وحشیانہ تشدد کا شکار ہو چکے ہیں۔ مختلف تحقیقی مطالعات اور سماجی تنظیموں کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں ہر سال تقریباً 200کے قریب تیزاب حملے رپورٹ ہوتے ہیں جبکہ بعض برسوں میں یہ تعداد اس سے بھی زیادہ رہی ہے۔اعداد و شمار مزید بتاتے ہیں کہ تیزاب حملوں کے متاثرین میں خواتین کی شرح سب سے زیادہ ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق 2007ء سے 2016ء کے درمیان رپورٹ ہونیوالے 1375متاثرین میں تقریباً 56فیصد خواتین تھیں جبکہ دیگر مطالعات میں خواتین اور بچیوں کا تناسب اس سے بھی زیادہ بیان کیا گیا ہے۔سوال یہ ہے کہ آخر تیزاب گردی کے اسباب کیا ہیں؟ اس جرم کے پیچھے کئی سماجی، نفسیاتی اور قانونی عوامل کارفرما ہوتے ہیں۔ سب سے بڑی وجہ انتقامی ذہنیت ہے۔ شادی سے انکار، گھریلو تنازعات، جائیداد کے جھگڑے، خاندانی دشمنیاں اور مردانہ برتری کا بیمار تصور اکثر ایسے جرائم کو جنم دیتا ہے۔ بعض افراد اپنی انا کے مجروح ہونے پر کسی خاتون کی زندگی برباد کرنے کیلئے تیزاب کو بطور ہتھیار استعمال کرتے ہیں۔ اسکے علاوہ معاشرتی رویے بھی اس جرم کے فروغ میں بالواسطہ کردار ادا کرتے ہیں۔ ہمارے ہاں خواتین کو ابھی تک مکمل تحفظ اور مساوی عزت حاصل نہیں ہو سکی۔ بعض علاقوں میں عورت کو اپنی مرضی سے تعلیم، ملازمت یا شادی کا فیصلہ کرنے پر بھی دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ جب قانون کی گرفت کمزور ہو اور معاشرہ متاثرہ فرد کے بجائے مجرم کیلئے نرم گوشہ رکھتا ہو تو ایسے جرائم کی حوصلہ شکنی نہیں ہو پاتی۔اگرچہ پاکستان میں تیزاب گردی کیخلاف قوانین پہلے کی نسبت سخت ہوئے ہیں اور پارلیمنٹ نے اس جرم کے لیے سخت سزائیں مقرر کی ہیں، لیکن اصل مسئلہ قانون کے نفاذ کا ہے۔ مقدمات کے طویل دورانیے، گواہوں پر دباؤ اور متاثرین کی مالی مشکلات انصاف کے حصول میں بڑی رکاوٹیں بنتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بعض متاثرین برسوں تک عدالتوں کے چکر کاٹتے رہتے ہیں۔تیزاب گردی کے اثرات صرف جسمانی نہیں ہوتے۔ متاثرین شدید نفسیاتی صدمے، احساسِ محرومی، سماجی تنہائی اور معاشی مشکلات کا شکار ہو جاتے ہیں۔ چہرے اور جسم کے جھلس جانے کے بعد متعدد سرجریاں درکار ہوتی ہیں جن پر لاکھوں روپے خرچ ہوتے ہیں۔ بہت سی خواتین اپنی ملازمت، تعلیم اور سماجی تعلقات سے محروم ہو جاتی ہیں۔اس مسئلے کے تدارک کیلئے چند بنیادی اقدامات ناگزیر ہیں۔ اول، تیزاب کی خرید و فروخت پر مؤثر نگرانی اور سخت ضابطہ کاری کی جائے۔ دوم، ایسے مقدمات کیلئے خصوصی عدالتیں قائم کی جائیں تاکہ فوری انصاف ممکن ہو۔ سوم، متاثرین کے علاج، پلاسٹک سرجری اور نفسیاتی بحالی کیلئے سرکاری سطح پر خصوصی فنڈ قائم کیا جائے۔ چہارم، تعلیمی اداروں، مساجد، میڈیا اور سوشل پلیٹ فارمز کے ذریعے خواتین کے احترام اور انسانی حقوق سے متعلق آگاہی مہم چلائی جائے۔مزید برآں، والدین اور اساتذہ کو نئی نسل میں برداشت، صبر اور اختلافِ رائے کو قبول کرنے کی تربیت دینی ہوگی۔ ہمیں نوجوان نسل کو یہ باور کرانا ہوگا کہ محض انکار کے سبب ایک زندہ انسان کو جلا ڈالنا انسانیت نہیں بلکہ درندگی ہے۔میں تو سمجھتا ہوں کہ یہ معاملہ قانونی سے زیادہ معاشرتی تربیت کا ہے جب ایک مرد،کسی خاتون کی طرف سے انکار کو اپنی نام نہاد مردانگی پر حملہ تصور کرتا ہے۔جب تک ہم اپنی اجتماعی سوچ کو تبدیل نہیں کریں گے، صرف قوانین اس ناسور کا مکمل علاج نہیں کر سکیں گے۔
اس نوعیت کے حادثات کے بعد صنفی پہلو کے حوالے سے بھی بحث کی جاتی ہے کہ ایک مرد نے عورت پر ظلم کیا۔میری دانست میں مجرم صرف مجرم ہوتا ہے اسکی بنا پر پوری صنف کو مطعون نہیں کیا جا سکتا۔ کوئٹہ میں ڈاکٹر ماہ نور پر تیزاب پھینکنے والے درندہ صفت شخص کا تعلق بھی مردوں سے تھا، لیکن اس ہولناک واقعے کا ایک دوسرا رخ بھی ہے جسے فراموش نہیں کیا جانا چاہیے۔ جس وقت حملہ آور اپنی سفاکی کا مظاہرہ کر رہا تھا، اسی وقت ایک اور مرد اپنی جان کی پروا کیے بغیر انسانیت کا علم بلند کر رہا تھا۔ یہ مرد سول اسپتال کوئٹہ کے ملازم عبدالرزاق ترکئی تھے۔ جنہوں نے فوری طور پر آگے بڑھ کر ڈاکٹر ماہ نور کی مدد کی اور اس کوشش میں خود بھی تیزاب سے متاثر ہوئے۔ ان کی جرات اور انسان دوستی کو بعد ازاں بلوچستان حکومت نے بھی سراہا اور ان کیلئے سول ایوارڈ کا اعلان کیا۔
یہ واقعہ اس حقیقت کی یاد دہانی کراتا ہے کہ کسی جرم کو پورے معاشرے یا پوری جنس سے منسوب نہیں کیا جا سکتا۔ ایک مرد نے ظلم کیا تو دوسرے مرد نے اپنی جان خطرے میں ڈال کر مظلوم کی مدد کی۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ان جرائم کے حوالے سے معاشرے کے تمام طبقات اپنا کردار ادا کریں۔