پاکستان کی معیشت اس وقت ایک ایسے نازک موڑ پر کھڑی ہے جہاں برآمدات میں اضافہ محض معاشی ترجیح نہیں بلکہ بقا کا سوال بن چکا ہے۔ زرمبادلہ کے ذخائر، صنعتی سرگرمیاں، روزگار اور روپے کی قدر سے لے کر مجموعی اقتصادی استحکام تک تقریباً ہر شعبہ برآمدات سے جڑا ہوا ہے۔ ایسے میں ملک کے سب سے بڑے برآمدی شعبے یعنی ٹیکسٹائل انڈسٹری کی بجٹ 27-2026ءسے وابستہ توقعات نہایت اہمیت اختیار کر گئی ہیں۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ پاکستان کا معاشی استحکام برآمدات میں اضافے سے جڑا ہوا ہے اور اس سلسلے میں ہمارے پاس مناسب مواقع بھی دستیاب ہیں۔ تاہم اس کیلئے ضروری ہے کہ حکومت برآمدی صنعتوں بالخصوص ٹیکسٹائل انڈسٹری کو درپیش مسائل کے حل کو بجٹ کا حصہ بنائے۔ اس طرح نہ صرف انڈسٹری کے اعتماد میں اضافہ ہو گا بلکہ مستقبل میں برآمدات میں اضافے کے تسلسل کو برقرار رکھنے کیلئے ایک روڈ میپ بھی تشکیل دیا جا سکے گا۔
اہم بات یہ ہے کہ موجودہ جیوپولیٹکل حالات میں پاکستان کے لیے فوری طور پر پانچ ارب ڈالر تک اضافی برآمدات بڑھانے کے مواقع دستیاب ہیں۔ مشرق وسطی میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی سپلائی چین میں تبدیلیاں، عرب ممالک میں پاکستانی مصنوعات کی مانگ میں اضافہ، چین سے صنعتوں کی منتقلی اور سنٹرل ایشیا کی نئی مارکیٹوں تک رسائی نے پاکستان کو برآمدات بڑھانے کا سنہری موقع مہیا کیا ہے۔ اس سلسلے میں ٹیکسٹائل انڈسٹری کی نمائندہ مختلف تنظیموں نے حکومت کو جو بجٹ تجاویز پیش کی ہیں وہ کسی سبسڈی یا خصوصی رعایت کا مطالبہ نہیں ہے بلکہ یہ اقدامات کاروباری استحکام اور پالیسی تسلسل کے لئے ضروری ہیں۔ انڈسٹری کا یہ موقف بالکل درست ہے کہ اگر حکومت صرف توانائی کی قیمتوں، ٹیکس پالیسی، شرح سود اور ریفنڈز جیسے بنیادی مسائل حل کر دے تو پاکستانی ایکسپورٹرز عالمی منڈی میں خود ہی اپنا شیئر بڑھا سکتے ہیں۔
واضح رہے کہ 2018ء میں بجلی کی قیمت 7.20 سینٹ فی کلوواٹ گھنٹہ تھی جو 2026 ءمیں 67 فیصد اضافے کیساتھ 12.01سیٹ فی کلوواٹ گھنٹہ تک پہنچ چکی ہے۔ اس کے مقابلے میں انڈیا کا موجودہ ٹیرف آٹھ سینٹ فی کلوواٹ گھنٹہ ہے جبکہ بنگلہ دیش میں بجلی کی قیمت چھ سینٹ فی کلوواٹ گھنٹہ ہے۔ ان حالات میں ضروری ہے کہ پاکستان میں بجلی کی قیمت دوبارہ سات سینٹ کی سطح پر لائی جائے۔ اس ضمن میں یہ تجویز بھی وزن رکھتی ہے کہ اگر توانائی کی قیمتیں آئندہ پانچ برس کیلئے منجمد کر دی جائیں تو سرمایہ کار پیداوار بڑھانے کیلئے طویل المدتی منصوبہ بندی کر سکیں گے۔ اسی طرح شرح سود کو دس فیصد سے کم کرنا بھی ناگزیر ہے کیونکہ پاکستان میں صنعتی شعبہ پہلے ہی مہنگی فنانسنگ، یوٹیلیٹی بلز میں اضافے اور غیر یقینی معاشی پالیسیوں کے بوجھ تلے دب ہوا ہے۔ ایسے میں اگر ایکسپورٹ انڈسٹری کو 11 یا 12 فیصد شرح سود پر قرض ملے گا تو عالمی مارکیٹ میں اس کی مسابقت ان ممالک کے مقابلے میں کم ہو جائے گی جہاں صنعتوں کو سستی فنانسنگ دستیاب ہے۔
ٹیکسٹائل سیکٹر کی ایک اہم شکایت ٹیکس نظام سے متعلق ہے جس کا اس بجٹ میں ازالہ ضروری ہے۔ اس کیلئے ایکسپورٹ انڈسٹری کو نارمل ٹیکس رجیم (NTR) سے نکال کر واپس فائنل ٹیکس رجیم (FTR) میں ڈالنے کی ضرورت ہے۔ حکومت نے جب سے برآمد کنندگان پر نارمل ٹیکس رجیم کا نفاذ کیا ہے انڈسٹری اس کے خلاف آواز بلند کر رہی ہے۔ انڈسٹری کا مؤقف ہے کہ پیچیدہ ٹیکس نظام، اضافی آڈٹس، سپر ٹیکس اور ریفنڈز میں تاخیر سے ایک طرف کاروباری لاگت میں اضافہ ہوتا ہے تودوسری طرف غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے کام بھی متاثر ہوتا ہے۔ علاوہ ازیں ریفنڈز کی عدم ادائیگی نے بھی صنعتوں کو سرمائے کی قلت سے دوچار کر رکھا ہے۔
یہاں ایک بنیادی سوال یہ بھی ہے کہ کیا حکومت واقعی برآمدات میں اضافے کو اپنی اقتصادی پالیسی کا بنیادی نکتہ سمجھتی ہے۔ یہ سوال اس لئے اہم ہے کہ گزشتہ پانچ سال سے حکومت ایک طرف مسلسل برآمدات بڑھانے کے دعوے کرتی آ رہی ہے اور دوسری طرف پالیسیوں کے عدم تسلسل، ٹیکس کی شرح میں بار بار اضافے، بجلی و گیس کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور ریگولیٹری مسائل نے انڈسٹری کو اس مخمصے میں مبتلا کر رکھا ہے کہ مستقبل میں کیا ہو گا۔ درحقیقت پاکستان کی معیشت کا سب سے بڑا المیہ ہی یہ ہے کہ یہاں کبھی کوئی طویل المدت صنعتی پالیسی تشکیل نہیں دی جا سکی ہے۔ اسکے برعکس حکومت کے تبدیل ہونے سے پالیسیاں بھی فوری تبدیل ہو جاتی ہیں اور پھر ان میں سدھار لانے کی کوششوں میں ایک لمبا عرصہ ضائع ہو جاتا ہے۔ نئے مالی سال کے بجٹ کی تیاری کے حوالے سے خوش آئند بات یہ ہے کہ اس وقت موجودہ حکومت کو اندرونی طور پر کسی بڑے سیاسی چیلنج کا سامنا نہیں ہے اورعالمی سطح پر بھی پاکستان کے خارجہ تعلقات امریکہ، یورپ، چین اور مشرق وسطی سمیت تمام اہم ممالک سے خوشگوار اور اچھے ہیں۔ اسلئے ان اچھے تعلقات کو باآسانی برآمدات بڑھانے کیلئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ تاہم اس کیلئے ضروری ہے کہ نئے مالی سال کے بجٹ میں برآمدی صنعتوں کو حقیقی ریلیف، پالیسی استحکام اور مسابقتی ماحول فراہم کیا جائے تاکہ برآمدات میں اضافے سے ملک کے معاشی استحکام اور خوشحالی کا ہدف حاصل کیا جا سکے۔ یہ موقع اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ برآمدات میں اضافے کا فریم ورک تشکیل دے کر ملک میں لاکھوں نئی ملازمتیں پیدا کی جا سکیں گی اور اس سے مقامی صنعتوں کو بھی فائدہ ہو گا۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ معاشی ترقی کا حصول برآمدی مسابقت، صنعتی جدت اور پالیسی تسلسل کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ اسلئے اگر آنیوالے بجٹ میں ایک واضح اور مستقل برآمدی پالیسی شامل نہ کی گئی تو صرف ٹیکسٹائل سیکٹر کو ہی نہیں بلکہ پوری معیشت کو اس کی قیمت ادا کرنی پڑے گی۔