• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سارہ شریف قتل کیس: سوتیلی ماں کی انکوائری جیوری کے سامنے کرانے کی درخواست

---فائل فوٹو
---فائل فوٹو

 10 سالہ سارہ شریف کے قتل کیس میں عمر قید کی سزا پانے والی سوتیلی ماں بینش بتول نے سارہ کی موت کی انکوائری جیوری کے سامنے کرانے کی درخواست کر دی۔

برطانوی ذرائع ابلاغ کے مطابق بینش بتول اور سارہ شریف مقتول کے والد عرفان شریف کو دسمبر 2024ء میں بچی کے بہیمانہ قتل کے جرم میں عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

 سارہ کی لاش برطانیہ کے علاقے ووکنگ میں واقع خاندانی گھر سے برآمد ہوئی تھی۔

عرفان شریف کے لیے کم از کم 40 سال جبکہ بینش بتول کے لیے کم از کم 33 سال قید کی مدت مقرر کی گئی تھی، سارہ کے چچا فیصل ملک کو سارہ کی موت کا سبب بننے یا اسے روکنے میں ناکامی کا مجرم قرار دیتے ہوئے 16 سال قید کی سزا دی گئی۔

عدالتی کارروائی میں یہ بات سامنے آئی کہ 2 سال تک مسلسل بچی کو جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا، جسم پر زخموں کے مختلف نشانات پائے گئے، پوسٹ مارٹم رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی کہ بچی کے جسم پر گرم لوہے سے جلانے اور کھولتے پانی سے جلنے کے بھی آثار تھے۔

گزشتہ روز سماعت میں بینش بتول کے وکیل ڈاکٹر اینٹون وین ڈیلن نے مؤقف اختیار کیا کہ انکوائری جیوری کے ذریعے ہونی چاہیے تاکہ کئی اہم پہلوؤں کا تعین کیا جاسکے۔

انکوئسٹ کا دائرۂ کار آئندہ سماعتوں میں طے کیا جائے گا، عرفان شریف اور بینش بتول نے جیل سے ویڈیو لنک کے ذریعے سماعت میں شرکت کی۔

سینئر کورونر رچرڈ ٹریورز نے کہا کہ آیا انکوئسٹ جیوری کے ساتھ ہوگی یا نہیں، اس سوال کو اگلی ابتدائی جائزہ سماعت کے ایجنڈے میں شامل کیا جائے گا۔

سماعت کے ایک موقع پر مسٹر ٹریورز نے عرفان شریف پر یہ واضح کیا کہ یہ انکوئسٹ دوبارہ مقدمے کی سماعت نہیں ہے، ہم کریمنل کورٹ کے فیصلوں یا نتائج کو دوبارہ زیرِ بحث نہیں لائیں گے۔

اگلی ابتدائی انکوئسٹ جائزہ سماعت 10 ستمبر کو ہوگی، جبکہ سارہ شریف کی موت سے متعلق مکمل انکوئسٹ اپریل 2027ء میں شروع ہونے کا امکان ہے۔

برطانیہ و یورپ سے مزید