• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ڈاکٹر ماہ نور کو بچانے والے عبدالرزاق نے واقعے کی تفصیلات بیان کردیں

---فائل فوٹوز
---فائل فوٹوز

کوئٹہ سے تعلق رکھنے والی نوجوان ڈاکٹر ماہ نور پر تیزاب پھینکے جانے کے افسوسناک واقعے میں ان کی جان بچانے والے نوجوان عبدالرزاق نے حالیہ انٹرویو میں واقعے کی تفصیلات بیان کر دیں۔

یاد رہے کہ گزشتہ دنوں ڈاکٹر ماہ نور پر ایک عملے کے رکن نے تیزاب پھینک دیا تھا، جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہوگئی تھیں جبکہ ان کی ایک آنکھ بھی متاثر ہوئی، اس دوران عبدالرزاق ترکئی نے اپنی جان خطرے میں ڈال کر ڈاکٹر ماہ نور کو مزید نقصان سے بچایا، انہیں ڈھانپ کر فوری طور پر اسپتال منتقل کیا، تاہم وہ خود بھی جھلس گئے تھے۔

اسپتال سے ڈسچارج ہونے کے بعد عبدالرزاق کے گھر کے باہر لوگوں کی بڑی تعداد جمع ہوئی اور انہیں خراجِ تحسین پیش کیا۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عبدالرزاق نے کہا کہ میں ان تمام لوگوں کا شکر گزار ہوں جو مجھ سے ملنے آئے، میری اصل ڈیوٹی میڈیسن وارڈ میں تھی لیکن میں اپنی ناک کے معائنے کے لیے کچھ دیر کے لیے آرتھوپیڈک وارڈ گیا ہوا تھا، اسی دوران مجھے ایک خاتون کی چیخیں سنائی دیں۔

انہوں نے بتایا کہ میں نے دیکھا کہ ایک خاتون بری طرح زخمی تھی، ان کا چہرہ جھلس چکا تھا، کپڑے جل چکے تھے اور وہ خون میں لت پت تھیں، ان کے پاس مناسب کپڑے بھی نہیں تھے، اس لیے میں نے اپنے کپڑوں سے انہیں ڈھانپا، شدید تکلیف کے باعث وہ مجھ سے لپٹ گئیں، جس کے نتیجے میں میں بھی تیزاب سے متاثر ہوا اور زخمی ہو گیا۔

عبدالرزاق کے مطابق ڈاکٹروں نے میرے ہاتھ کے شدید متاثر ہونے کے باعث سرجری تجویز کی، اگر انہیں بچاتے ہوئے میری جان بھی چلی جاتی تو مجھے کوئی خوف نہ ہوتا، اس وقت میرے ذہن میں صرف انسانیت تھی اور میں صرف انہیں بچانا چاہتا تھا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ میں پرائیویٹ امیدوار کے طور پر انٹرمیڈیٹ کے دوسرے سال کا طالب علم ہوں اور جزوقتی ملازمت کرتا ہوں، میری خواہش ہے کہ میں اپنی تعلیم مکمل کروں اور ایک اچھی ملازمت حاصل کروں۔

واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر عبدالرزاق کی بہادری کو بھرپور سراہا جا رہا ہے، متعدد صارفین نے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے علاج کے تمام اخراجات حکومت برداشت کرے، مالی معاونت فراہم کی جائے اور ان کی خدمات کے اعتراف میں سرکاری ملازمت بھی دی جائے۔

قومی خبریں سے مزید