دنیا کی تاریخ میں کچھ لمحات ایسے آتے ہیں جب ظلم کی داستانیں اتنی ہولناک ہو جاتی ہیں کہ ضمیرِ انسانی مزید خاموش رہنے سے قاصر ہو جاتا ہے۔ آج ہم ایک ایسی ہی تاریخی تبدیلی کے گواہ بن رہے ہیں۔ وہ اسرائیل، جسے دہائیوں تک مغربی طاقتوں اور عالمی میڈیا کی غیر مشروط حمایت حاصل رہی، آج عالمی سطح پر تنہائی اور شدید عوامی نفرت کا سامنا کر رہا ہے۔ یہ نفرت کسی عارضی غصے کا نام نہیں، بلکہ دنیا بھر کے انسانوں کے ٹوٹتے ہوئے صبر کا پیمانہ ہے۔ غزہ کی گلیوں میں بہنے والا معصوم بچوں کا خون، اسپتالوں کے ملبے سے اٹھتی چیخیں اور تعلیمی اداروں کی راکھ نے دنیا کا رخ بدل دیا ہے۔ اب یہ جنگ صرف مشرقِ وسطیٰ کی سرحدوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ یہ دنیا بھر کے عوام کے دلوں میں لگی وہ آگ بن چکی ہے جو اسرائیلی پالیسیوں اور بنیامین نیتن یاہو کی حکومت کو جھلسانے کیلئے تیار ہے۔ غزہ میں جاری اسرائیلی کارروائیوں، فلسطینی شہریوں کی بڑے پیمانے پر شہادتوں اورانسانی بحران نے انسانیت کے ماتھے پر ایسا کلنک لگا دیا ہے جسے تاریخ کبھی فراموش نہیں کر سکے گی۔ اسرائیل کی جارحیت نے دنیا کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ کیا عالمی قوانین صرف کمزوروں کیلئے ہیں؟ یہی وجہ ہے کہ اسرائیل کیخلاف اٹھنے والی یہ آواز اب صرف مسلم دنیا تک محدود نہیں رہی۔ مغرب کے وہ ملک جنکے ایوانوںمیں ، کبھی اسرائیل پر تنقید کرنا ایک جرم سمجھا جاتا تھا، آج سڑکوں پر نکلنے والے لاکھوں کے ہجوم سے گونج رہے ہیں۔ امریکہ، کینیڈا، یورپ، آسٹریلیا، جاپان اور جنوبی کوریا کے عوام نے اپنی حکومتوں کی منافقت کو مسترد کرتے ہوئے فلسطینیوں کے حق میں ایک ایسا محاذ کھڑا کر دیا ہے جسکی ماضی میں کوئی نظیر نہیں ملتی۔ طلبا، انسانی حقوق کے کارکنوں، دانشوروں اور عام شہریوں نے اپنی حکومتوں سے مطالبہ کیا ہےکہ وہ اسرائیل سے متعلق اپنی پالیسی پر نظرِ ثانی کریں، غزہ میں فوری جنگ بندی کیلئے دباؤ ڈالیں اور فلسطینی عوام کے حقوق کو تسلیم کریں۔ اس بدلتی ہوئی عالمی رائے کی سب سے خوبصورت اور طاقتور مثال مغرب کے تعلیمی ادارےہیں۔امریکہ اوریورپ کی نامور یونیورسٹیوں کے نوجوانوں نے تمام تر ذاتی مفادات اور سیکورٹی کے خوف کو بالائے طاق رکھ کر فلسطینیوں کے درد کو اپنا درد بنایا ہے۔ تعلیمی اداروں کے میدان جنگ بن جانے کے باوجود، طلبہ کے نعروں نے حکومتوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ان کا مطالبہ صرف سیاسی نہیں، بلکہ خالصتاً ایک انسانی مطالبہ ہے’’غزہ میں جاری اس قتلِ عام کو فوری روکا جائے، معصوموں کی نسل کشی بند ہو اور فلسطینیوں کو ان کی اپنی زمین پر جینے کا حق دیا جائے‘‘۔ مغرب کے نوجوانوں کا یہ جذبہ اس بات کا ثبوت ہے کہ پروپیگنڈے کی دیواریں گر چکی ہیں اور سچائی کھل کر سامنے آ گئی ہے۔ امریکہ کی بڑی یونیورسٹیوں سے لے کر یورپ کے معروف تعلیمی اداروں تک، نوجوان نسل نے فلسطینیوں کے حق میں آواز بلند کی۔ یہ صورتحال اسلئے بھی اہم ہے کہ مغربی معاشروں میں اسرائیل کیخلاف اس پیمانے پر عوامی ردعمل پہلے کبھی دیکھنے میں نہیں آیا۔یہ صرف جذبات نہیں ہیں، بلکہ عالمی سروے کے وہ کاٹ دار اعداد و شمار ہیں جو اسرائیل کی اخلاقی شکست کی گواہی دے رہے ہیں۔ 8 فروری سے 13مئی تک تمام براعظموں کا احاطہ کرنیوالے ایک سروےمیں44,657بالغ افراد سے اسرائیل کے بارے میں رائے پوچھی گئی جسکے نتیجے میں یہ حقیقت سامنے آئی کہ اوسطاً 67فیصد عوام اسرائیل کے بارے میں شدید منفی رائے رکھتے ہیں، جبکہ مثبت سوچ رکھنے والے صرف 25فیصد رہ گئے ہیں۔ مسلم اکثریتی ممالک مثلاً ترکیہ، پاکستان، بنگلہ دیش، انڈونیشیا اور ملائیشیا میں یہ غصہ انتہا کو چھو رہا ہے۔ خاص طور پر ترکیہ میں 91 فیصد جواب دہندگان نے اسرائیل کے بارے میں انتہائی منفی رائے کا اظہار کیا۔ اسرائیل کے قدیم دوست کینیڈا میں 65فیصد اور اسرائیل کے سرپرست امریکہ میں 60فیصد عوام اب اسرائیل کو ایک منفی ریاست کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ مغربی حکومتوں کی اندھی حمایت اور انکے عوام کی سوچ کے درمیان ایک گہری خلیج پیدا ہو چکی ہے۔یورپ کا دل بھی اب فلسطین کیلئے دھڑک رہا ہے۔ سویڈن اور اسپین جیسے ممالک میں 78 فیصد عوام اسرائیل کی پالیسیوں کیخلاف ہوچکے ہیں۔ اٹلی، ہالینڈ، جرمنی اورفرانس جیسےاسرائیل کےروایتی حامی ممالک میں بھی نصف سے زائدآبادی اسرائیل کے نام سے بیزارہے۔ اسپین جیسے ممالک اب علامتی طورپر فلسطین کو تسلیم کرنےکی مہم چلا رہے ہیں۔ مشرقِ بعید اور بحرالکاہل کے خطے میں بھی اسرائیل کے بارے میں منفی رجحان نمایاں ہے۔ جاپان میں 83فیصد، آسٹریلیا میں 79 فیصد اور جنوبی کوریا میں 70فیصد عوام نے اسرائیل کی جارحیت کو مستردکیا ہے۔ صرف ہندوستان ایک ایسا ملک ہے جہاں 32 فیصد جواب دہندگان نے اسرائیل کے بارے میں مثبت رائے دی ہے۔ دنیا کے 24 میں سے 13 بڑے ممالک میں سال 2025 ء کے بعد اسرائیل سے نفرت میں تیزی سے اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔اس تمام تر نفرت اور عالمی تنقید کے مرکز میں ایک شخص کھڑا ہے، اور وہ ہے بنیامین نیتن یاہو۔ کینیا اور فلپائن جیسے چند گنے چنے ممالک کے علاوہ، پوری دنیا نیتن یاہو کو امن کا قاتل اور انسانیت کا مجرم سمجھتی ہے۔ یہ ایک عالمی بیداری ہے۔ دنیا بھر کے عوام نے یہ واضح کر دیا ہے کہ وہ طاقتور کے ظلم میں اس کے شراکت دار نہیں بنیں گے۔ اگر یہی رجحان برقرار رہا، تو وہ وقت دور نہیں جب اسرائیل دنیا کے نقشے پر اخلاقی، سفارتی اور عوامی سطح پر مکمل طور پر تنہا ہو جائیگا۔ حکومتیں شاید اب بھی اپنے سیاسی مفادات کیلئے اسرائیل کا ساتھ دیں، مگر تاریخ گواہ ہے کہ جب عوام کا ضمیر جاگتا ہے، تو بڑے بڑے فرعونوں کے برج الٹ جایا کرتے ہیں۔ غزہ کے مظلوموں کی فریاد رنگ لا رہی ہے، اور دنیا اب ایک نئے رخ پر چل پڑی ہے۔