نیٹ (این ای ای ٹی) پیپر لیک (بھارت کے میڈیکل اور ڈینٹل کورسز میں داخلے کے لیے ہونے والے ٹیسٹ میں گڑ بڑ اور پیپر لیک ہونے) پر ہونے والے ہنگامہ میں جنوبی بھارت سے تعلق رکھنے والے مشہور اداکار پرکاش راج بنگلور میں نوجوانوں کے احتجاج میں شامل ہوئے اور انہوں نے مودی حکومت پر کڑی تنقید کی۔
اپنے بیباک بیانات کے لیے مشہور سینیئر اداکار پرکاش راج اتوار کو بنگلور کے فریڈم پارک میں 'کاکروچ جنتا پارٹی' (سی جے پی) کے بینر تلے ہونے والے نوجوانوں کے ایک بڑے احتجاج میں شامل ہوئے۔
شدید بارش کے باوجود بڑی تعداد میں جمع ہونے والے یہ نوجوان حالیہ نیٹ (این ای ای ٹی) پیپر لیک اور امتحانات میں مبینہ بےضابطگیوں پر مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کر رہے تھے۔
سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو میں پرکاش راج لداخ کے مشہور سماجی کارکن سونم وانگچک کے ساتھ کھڑے نظر آ رہے ہیں۔ احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے پرکاش راج نے حکومت پر سخت وار کیے اور کہا کہ منتخب رہنماؤں کو اپنا کام کرنا چاہیے۔
انکا کہنا تھا کہ تم لوگ سیاست کر رہے ہو اور ملک کا نوجوان اپنے مستقبل کی جنگ خود لڑنے کے لیے سڑکوں پر نکل آیا ہے۔ انکل اور آنٹیاں! آپ لوگ ریٹائرمنٹ کی عمر کے بعد بھی اس ملک پر حکومت کر رہے ہیں، اب یہاں سے جائیں۔ یہ نوجوان اپنے خوابوں اور اپنے مستقبل کے لیے لڑ رہے ہیں اور میں اس پُرامن احتجاج کی مکمل حمایت کرتا ہوں۔
ملک گیر احتجاج کے دوران کاکروچ جنتا پارٹی نے مطالبہ کیا کہ وزیر تعلیم استعفیٰ دیں۔ سوشل میڈیا سے شروع ہونے والی یہ مہم اب پورے بھارت میں پھیل چکی ہے۔
دہلی کے جنتر منتر پر 6 جون کو ہونے والے بڑے احتجاج کے بعد پونے، لکھنؤ اور امرتسر میں بھی مظاہرے کیے گئے ہیں۔ تنظیم کے بانی ابھیجیت دیپکے کا کہنا ہے کہ جب تک وزیرِ تعلیم استعفیٰ نہیں دیتے، یہ پُرامن احتجاج جاری رہے گا اور 20 جون کو دہلی میں ایک بار پھر بڑا عوامی مارچ کیا جائے گا۔