وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ آزاد کشمیر کے انتخابات کو ملتوی کیا جانا غیر آئینی ہوگا۔
جیو نیوز سے گفتگو میں طارق فضل چوہدری نے کہا کہ پیپلزپارٹی نے آزاد کشمیر انتخابات ملتوی کرنے سے متعلق ن لیگ سے مشاورت نہیں کی۔
انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیرمیں انتخابات کا شیڈول جاری ہوچکا، 27 جولائی پولنگ ڈےہے، انتخابات کا شیڈول کسی کی خواہش پر جاری نہیں ہوا۔
وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ آزاد کشمیر کے آئین کے مطابق یہ انتخابات ہو رہے ہیں، 4 اگست ہمارے پاس آخری تاریخ ہے، جس سے پہلے انتخابات ہونے ہیں۔
اُن کا کہنا تھا کہ اسمبلی کی مدت ختم ہونے سے 45 دن قبل یہ شیڈول دیا جاتا ہے، موجودہ اسمبلی نے 3 اگست کو حلف اٹھایا تھا، 4 اگست سے قبل ہر صورت انتخابات ہونے ہیں۔
طارق فضل چوہدری نے کہا کہ اگر آزاد کشمیر کے انتخابات کو ملتوی کیا جاتا ہے تو وہ غیر آئینی ہوگا، الیکشن ہی تمام مسائل کا حل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کاغذات نامزدگی جمع کرانے کی تاریخ کو آگے کیا جاسکتا ہے، مسلم لیگ ن چاہتی ہے آزاد کشمیر میں الیکشن برقت ہوں تاخیر نہ ہو۔
وفاقی وزیر نے یہ بھی کہا کہ میرپور ڈویژن مظفرآباد ڈویژن میں حالات نارمل ہیں، صرف راولاکوٹ میں کشیدگی پائی جاتی ہے، جن قیمتی انسانی جانوں کا نقصان ہوا ہے وہ باعث افسوس ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی جو 12 سیٹوں کا نعرہ لگا رہی ہے وہ سیاسی بات ہے، کمیٹی کو حکومت آزاد کشمیر نے کالعدم قرار دیا ہے، وہ دھرنا ختم کریں۔
طارق فضل چوہدری نے کہا کہ دھرنے ختم ہوں تو ہم دیکھتے ہیں صورتحال کو کیسے معمول پر لاسکتے ہیں، کالعدم ایکشن کمیٹی کے لوگوں سے پوچھوں گا کل آپ ان کی ماؤں کو کیا جواب دیں گے، کیا آپ نے 12 مہاجرین کی سیٹوں کے خاتمے کےلیے ان لوگوں کو آگ میں ڈالا۔