• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

حج کا سفر بلاشبہ ایک مبارک اور منفرد سفر ہے۔ مشاہدہ اور عملی تجربہ کہتا ہے کہ یہ بلاوے کی بات ہے۔ یہ سفر مبارک درویش وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف کے ساتھ کرنے کی سعادت نصیب ہو ئی۔ لوگ وزیروں کے ساتھ اس لیے سفر کرتے ہیں کہ ان کو پروٹول ملے گا۔ سہولیات ملیں گی۔ بہت سارے احباب کی خواہش تھی کہ وہ وہاں قیام کریں جہاں وزیر صاحب رہائش پذیر ہیں۔احباب کا خیال تھا کہ وزیر مکہ ٹاور میں قیام پذیر ہوں گے مگروزیر کا قیام اسی عمارت میںرہاجہاںپاکستان کے عام حاجی مقیم تھے۔پارلیمانی سیکرٹری سردار شمشیر مزاری،سینیٹر عبدالقادر، عبدالغفار ڈوگر، ملک ندیم، سردار مشتاق، اظہر الاسلام، شرجیل بھائی، ای ڈی نیوٹیک عامر جان ، ممبرانقومی اسمبلی عثمان اویسی، میاں خان بگٹی، قاری محبوب الرحمن اور بہت سارے عشاق کے ہمراہ لبیک کے ترانوں کے ساتھ سفر حج ایک دلفریب نظارہ تھا۔ ہر گروپ کو ایک ناظم ملا تھا، ہمارے ساتھ طیب تھے۔ اس کے سوا حج مشنکا عملہ پروٹوکول کی بجائے عام حاجیوں کی خدمت میں مصروفتھا۔ عرفات کا تاریخی خطبہ مسجد نبوی ﷺ کے امام شیخ ڈاکٹر علی عبدالرحمن الحذیفی، جن سے ملنے کا شرف ہمیں حاصل ہے،نے دیا۔ میدان عرفات کی سفید چادروں میں لپٹے لاکھوں حجاج کے سامنے امام مسجد نبوی نے خطبہ دیتے ہوئے امت کو یاد دلایا کہ حج صرف جسم کی مشقت نہیں، روح کی صفائی ہے۔ فرمایا: ’’تقویٰ اختیار کرو، اسی میں دنیا و آخرت کی بھلائی ہے‘‘۔ شیخ نے کہا کہ یہاں عرفات میں کوئی عربی نہیں، کوئی عجمی نہیں، کوئی امیر نہیں، کوئی غریب نہیں۔ احرام کی دو چادریں دنیا کو بتا دیتی ہیں کہ اللہ کے ہاں برتری صرف تقویٰ سے ہے۔ اسی لیے فرقہ واریت، لسانی تعصب اور سیاسی نعروں کو حج کے مقدس صحن سے دور رکھنا ہوگا۔خطبے کے اختتام پر فلسطین کے مظلوم بچوںکیلئے آہ بھری گئی اور دعا کی گئی کہ’’یا اللہ! تو ظالموں کو ان کے ظلم سمیت غرق کر دے اور مظلوموں کی مدد فرما‘‘۔ پیغام ایک تھا: اگر عرفات کا اتحاد ہم گھر لے جائیں، تو امت کے ٹوٹے دل بھی جڑ سکتے ہیں۔ عرفات میں سردار محمد یوسف نےمختلف خیموں میں جا کر عازمین حج سے ملاقاتیں کیں اور ان کی خیریت دریافت کی۔ مزدلفہ کی رات بھی عجیب ہے۔ نرم بچھونوں پر سونے والے ، دنیا کے عظیم رہنما، اپنے اپنے ملکوں کی قیادت کرنیوالے یہاں کھلے آسمان تلے کھردری زمین پر اپنے اللہ کو پکار رہے تھے اور شکر ادا کر رہے تھے۔ ڈی جی حج یا کسی عملہ کی بجائے گوجرانوالہ کے ہمارے دوست چوہدری خرم افتخار نے کمال یہ کیا کہ منیٰ اور مزدلفہ میں بہترین کھانے کا اہتمام کر دیا۔سعودی اعداد وشمار کے مطابق اس سال 1707301 مسلمانوں کو یہ عظیم الشان سعادت نصیب ہوئی۔بیرون ممالک سے 1546655 جبکہ سعودی عرب سے 160646 حاجیوں کو یہ سعادت ملی۔ جن میں مقامی سعودی اور یہاں مقیم غیر ملکی شہری بھی شامل ہیں۔ صنفی تقسیم بھی بہت دلچسپ رہی جس کے مطابق مرد اور خواتین قریب قریب برابر رہے۔ مرد 894396جبکہ خواتین 813905 تھیں۔ دنیا کے ایک سو اسی ممالک کے مسلمان اس سعادت سے سرفراز ہوئے۔ سعودی عرب کے فرماںروا شاہ سلمان بن عبد العزیز اور ولی عہد محمد بن سلمان حج مشن کیلئےاپنے تمام وسائل بروئے کار لائے۔ ولی عہد جو وزیراعظم ہیں براہ راست اس آپریشن کی نگرانی میں مصروف عمل رہے۔ سیکورٹی فورسز کےقریباً ایک لاکھجوانوں نے سخت ترین موسممیں حاجیوں کی بہترین اندازمیں رہنمائی کی۔پاکستان سے ایک لاکھ اسی ہزار کے قریب عازمین نے فریضہ حج ادا کیا۔ وفاقی وزیر مذہبی امور سردارمحمد یوسف کا موجودہ دور حکومت میں یہ دوسرا حج تھا۔ رواں برس کے حج انتظامات کیلئےانہوں نےسعودی عرب کے تین دورے کیے اور انتظامات کا جائزہ لیا۔ پاکستان کا شمار ان دو تین ممالک میں ہوتا ہے جن کے حاجی سب سے زیادہ ہوتے ہیں۔ اس سال سرکاری سطح پر ایک لاکھ بیس ہزار عازمین نے حج کیا۔ اتنی بڑی تعداد میں حاجیوں کا انتظام کر نا بہر حال ایک مشکل امر ہے۔ حج 2026 کے دوران بہترین کوآرڈنیشن کا ’’لبیتم ایکسی لینس‘‘ایوارڈ ملا ۔ سیکرٹری مذہبی امور ابرار مرزا، ڈی جی حج عبدالوہاب سومرو، ڈائریکٹر عارف اسلم راو ، وزارت مذہبی امور اور حج مشن کے عملے نے مستعدی کے ساتھ اپنے فرائض سر انجام دیے۔ جبکہ پرائیوٹ حج اسکیم کو تین ایوارڈ ملے۔ روٹ ٹو مکہ پراجیکٹ رواں سال لاہور سے بھی شروع کیا گیا جسکی وجہ سے اسی فیصد عازمین حج اس سہولت سے مستفید ہوئے۔ مدینہ منورہ میں بہترین ہوٹل حاصل کیے گئے۔ 146 شدید بیمار اور ضعیف حجاج کو وقوف عرفات اور طواف زیارت سمیت دیگر مناسک ادا کروائے گئے۔ اس سلسلے میں سعودی جرمن اسپتال، سعودی عرب میں مقیم پاکستانیوں کی حج رضاکار تنظیم اور حج میڈیکل مشن کا تعاون مثالی رہا۔ سعودی سفیر جناب نواف بن سعید المالکی کا ویزوں کے اجرا سے ہر عمل تک تعاون مثالی رہا۔ گزشتہ سال ہر گروپ کے اوپر ایک ناظم مقرر کیا گیا تھا، چند ایک کے سوا سب کی کارکردگی اچھی رہی۔ تاہم اس میں مزید بہتری کی گنجائش موجود ہے۔ کھانے کے حوالے سے لوگوں نے اطمینان کا اظہار کیا۔ سرکاری حج کے اچھا ہونے کی وجہ سے بہت سارے وہ عازمین جو امیر طبقے سے تعلق رکھتے ہیں انھوں نے بھی اس سال کثیر تعداد میں سرکاری حج اسکیم سے استفادہ کیا۔ وزیر مذہبی امورکیلئے یہ چیلنج ہے کہ سعودی وزارت حج نے اگلے حج کی پالیسی کا اعلان کر دیا ہے اور تمام مراحل کیلئے اوقات کار بھی متعین کر دیے ہیں۔ سردار محمد یوسف نے اعلان کیا ہے کہ حج پالیسی فوری منظوری کیلئے پیش کی جائیگی اور جو لوگ حج پر جانا چاہتے ہیں وہ اپنے پاسپورٹ بنوا لیں۔اعلیٰ انتظامات کویقینی بنانےکیلئےضروری ہے کہ حج مشن، وزارت مذہبی امور کے ماتحت ہو۔

تازہ ترین