• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے موجودہ حکومت کا 2026-27 قومی بجٹ پیش کیا۔ آئی ایم ایف کی نگرانی میں بننے والے بجٹ میں بہت کم مالی گنجائش نظر آتی ہے جسکی وجہ سے ایک غریب آدمی، بزنس کمیونٹی اور سوسائٹی کے دیگر طبقات کو مراعات دینا ممکن نہیں لیکن اسکے باوجود وزیراعظم شہباز شریف نے بزنس کمیونٹی کے مطالبات کو کسی حد تک پورا کرنے کی کوشش کی۔ زراعت کے شعبے کی مایوس کن کارکردگی رہی اور وہ اپنے 4.5 فیصد ہدف کے مقابلے میں صرف 0.6فیصد ہدف حاصل کرسکا، مینوفیکچرنگ کا شعبہ بھی اپنا ہدف حاصل نہیں کرسکا، صرف بڑے درجے کی صنعتوں (LSM) ، فرٹیلائزر، آٹو موبائل اور سیمنٹ سیکٹر کی بہتر کارکردگی رہی۔ سروس سیکٹر نے اپنے ہدف 4 فیصد سے زیادہ 6.8 فیصد کارکردگی دکھائی، ملکی جی ڈی پی کا حجم 452ارب ڈالر (18.7 کھرب روپے) تک پہنچ گیا لیکن جی ڈی پی گروتھ 4.2 فیصد ہدف کے مقابلے میں صرف 3.7فیصد رہی، اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر 17.5 ارب ڈالر تک پہنچ گئے، کرنٹ اکائونٹ معمولی خسارے کے باعث منفی 252ملین ڈالر رہا، خلیجی ممالک میں کشیدگی کے باوجود ترسیلات زر جون 2026ءنک 41 ارب ڈالر متوقع ہیں۔ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث گزشتہ 10 مہینوں میں تجارتی خسارہ 32ارب ڈالر رہا، دفاعی اخراجات کیلئے بجٹ میں 2550 ارب روپے جبکہ قرضوں اور سود کی ادائیگی کیلئے 8200 ارب روپے رکھے گئے ہیں جو ناقابل برداشت حد تک بڑھ گئےہیں۔ ریٹائرڈ سرکاری ملازمین کی پنشن کیلئے بجٹ میں 1055 ارب روپے، ترقیاتی منصوبوں (PSDP) کیلئے 1126اور بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) کیلئے 800 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔ خطے کے حالات اور بھارت کے دفاعی بجٹ میں ریکارڈ اضافے کے پیش نظر دفاعی بجٹ میں اضافے، قرضوں اور سود کی ادائیگی کیلئے اضافی فنڈز کیلئے پنجاب، سندھ، خیبرپختونخوااور بلوچستان حکومت نے ایک خوبصورت میکنزم کے تحت 1225 ارب روپے آئندہ 3 سال کیلئے وفاقی حکومت کو دینے پر اتفاق کیا ہے جسکی وجہ سے اب نہ NFC کو چھیڑا جائے گا اور نہ اٹھارہویں آئینی ترمیم کے رول اوور کی بات ہوگی۔ بجٹ میں رئیل اسٹیٹ سیکٹر کو کچھ مراعات دی گئی ہیں۔ ریٹیلرز کیلئے فکس ٹیکس رجیم متعارف کرائی گئی ہے، ایکسپورٹ پر سپر ٹیکس کے خاتمے اور ایڈوانس انکم ٹیکس میں 2فیصد سے 1.25 فیصد اور 7E کے خاتمے سے رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں بہتری آئے گی۔ بجٹ میں مالی سال 2025-26میں پیٹرولیم مصنوعات پر پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی (PDL) کی مد میں 1700 ارب روپے وصول کئے گئے ہیں جو ایک بہت بڑا نان ٹیکس ریونیو ہے جس نے غریب اور مڈل کلاس طبقے کی کمر توڑ دی ہے۔ ایف بی آر کے ریونیو ہدف میں 866 ارب روپے کا شارٹ فال رہا جو PDL سے پورا کیا جائے گا۔ ایف بی آر نے رواں مالی سال 13600ارب روپے وصول کئے ہیں جبکہ 2026-27 کا ہدف 15260ارب روپے رکھا گیا ہے۔ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 7 فیصد اضافہ کیا گیا ہے جس کی 10 فیصد توقع تھی۔ مزدور کی کم از کم اجرت 10فیصد اضافے سے 40700 روپے کردی گئی ہے۔ وزیر خزانہ نے پی آئی اے اور فائیو جی کی نیلامی کے بارے میں بات کی لیکن ڈسکوز اور خسارے میں چلنے والے حکومتی اداروں(SOEs)کی جلد نجکاری کا کوئی شیڈول نہیں دے سکے۔ 5000ارب روپے سے زائد پاور اور گیس کے گردشی قرضے ایک لٹکتی تلوار ہیں جن کو کنٹرول کرنے کا کوئی میکنزم نہیں دیا گیا۔ مالی گنجائش نہ ہونے کی وجہ سے بجٹ میں کوئی نئی ترقیاتی اسکیم نہیں دی گئی جس سے نئی ملازمتوں کے مواقع محدود ہونگے۔ تیز معاشی گروتھ کیلئے ہمیں ایکسپورٹ لیڈ گروتھ پر جانا ہوگا تاکہ زرمبادلہ حاصل کرنے کیساتھ ساتھ نئی ملازمتوں کے مواقع بھی پیدا ہوسکیں۔

بجٹ سے قبل اکنامک سروے 2025-26 پیش کیا گیا جسکے مطابق کچھ معاشی اہداف حاصل ہوئے اور کچھ حاصل نہیں ہوسکے۔ سروے کے مطابق گزشتہ کئی سال کے بعد پاکستان کی معیشت میں مائیکرو اکنامک استحکام آیا ہے اور ملکی معیشت بحالی کی سمت میں نظر آتی ہے۔ 2025-26ءمیں آئی ٹی سیکٹر کی جولائی سے اپریل کے دوران ایکسپورٹ 21 فیصد اضافے سے 3.8 ارب ڈالر رہی جو گزشتہ سال 3.1 ارب ڈالر تھی۔ فری لانس آئی ٹی ایکسپورٹرز نے رواں مالی سال کے پہلے 10 مہینوں (جولائی سے اپریل) میں 959 ملین ڈالر کی ایکسپورٹس کی جبکہ 2025ءمیں یہ 779ملین ڈالر تھی جسکی وجہ آئی ٹی ایکسپورٹ پر 0.25 فیصدمعمولی ٹیکس اور ایکسپورٹ آمدنی سے مارکیٹنگ کیلئے 50 فیصد فنڈز استعمال کرنے کی مراعات دینا ہے۔ غیر ملکی سرمایہ کاری (FDI) میں کمی آئی جو 2 ارب ڈالر سے کم ہوکر 1.4 ارب ڈالر پر آگئی ہے۔ حکومت نے اس کمی کو پورا کرنے کیلئے اپریل 2026 میں 750ملین ڈالرز کے یورو بانڈز اور 250 ملین ڈالر کے پانڈا بانڈز کا اجراکیا ہے۔ بجٹ2026-27اور اکنامک سروے 2025-26 ایک ایسی معیشت کی تصویر پیش کرتا ہے جو بحران سے نکل کر استحکام اور بحالی کے مرحلے میں داخل ہوچکی ہے لیکن میں بجٹ کو گروتھ پر مبنی بجٹ کے بجائے ریونیو پر مبنی بجٹ کہوں گا۔

تازہ ترین