اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے مانیٹری پالیسی کا اعلان کر دیا۔
مرکزی بینک کی جانب سے شرحِ سود برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
اسٹیٹ بینک نے شرحِ سود 11.50 فیصد پر برقرار رکھا ہے۔
ملک بھر کی صرافہ مارکیٹوں میں سونے کی قیمتوں میں بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
ذرائع محکمۂ خزانہ کے مطابق نئے مالی سال کا بجٹ وزیرِ اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ پیش کریں گے۔
تجویز کے مطابق ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں ہر ٹیکس اپیل دائر کرنے سے قبل کمیٹی کی منظوری لازمی ہو گی۔
وفاقی وزیر بحری امور جنید انوار چوہدری کی جانب سے کراچی پورٹ کی ایک اور کامیابی کا اعلان کردیا گیا۔
گزشتہ ہفتے کے آخری روز کاروبار کے اختتام پر 100 انڈیکس 1 لاکھ 72 ہزار 399 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔
امریکا اور ایران نے تنازع کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے ایک ابتدائی مفاہمتی یادداشت پر اتفاق کیا ہے، دونوں ممالک کے درمیان جوہری سرگرمیوں سے متعلق مزید مذاکرات بھی متوقع ہیں۔
خریداروں کا کہنا ہے کہ حکومت کو روزمرہ کی اشیاء میں ریلیف فراہم کرنا چاہیے۔
ایف بی آر سے کاروبار کا ڈیجیٹل انٹیگریشن نہ کرنے پر 10 لاکھ روپے تک جرمانہ تجویز کیا گیا ہے۔
ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل کی قیمت 85 ڈالرز فی بیرل ہو گئی۔
فیڈریشن آف پاکستان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) نے وفاقی بجٹ 27-2026ء کو کاروبار اور ترقی دوست قرار دیدیا۔
چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ سیاسی استحکام ہوگا تو معاشی استحکام آئے گا۔
وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب دیگر وزراء کے ہمراہ پوسٹ بجٹ کانفرنس کر رہے ہیں۔
انڈیکس کی ہفتہ وار بلند ترین سطح 173093 اور کم ترین سطح 168432 رہی۔
پیٹرول پر لیوی میں کمی کر دی گئی، جبکہ ڈیزل پر لیوی میں اضافہ کیا گیا ہے۔
وفاقی وزیرِ بحری امور محمد جنید انور چوہدری نے کہا ہے کہ بجٹ 27-2026ء میں شپنگ انڈسٹری پر عائد 18 فیصد سیلز ٹیکس ختم کر دیا گیا ہے جس سے میری ٹائم اور لاجسٹکس کے شعبے کو فروغ ملے گا۔
ممبر ایف بی آر عتیق سرور نے پوسٹ بجٹ ٹیکنیکل بریفنگ میں کہا کہ کم مالیت کی الیکٹرک گاڑیوں کو ٹیکس سے استثنیٰ برقرار رکھنے کی تجویز ہے۔