گلگت بلتستان کے عام انتخابات کے نتائج سے متعلق 12حلقوں میں دائر اعتراضات پر چیف الیکشن کمشنر جی بی نے محفوظ فیصلے سُنا دیے۔
گلگت میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر راجہ شہباز خان نے کہا کہ انتخابات مکمل شفاف انداز میں منعقد ہوئے۔ 10 جون سے اب تک 14 انتخابی پٹیشنز کی سماعت کی جا چکی ہے جبکہ مختلف حلقوں سے متعلق فیصلے بھی جاری کر دیے گئے ہیں۔
الیکشن کمیشن نے جی بی اے 10 اسکردو 4، جی بی اے 5 نگر 1، جی بی اے 17 دیامر 3 اور جی بی اے 19 غذر 1 میں اعتراضات مسترد کرتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدواروں کی کامیابی برقرار رکھی۔
اسی طرح جی بی اے 14 استور 2، جی بی اے 18 دیامر 4 اور جی بی اے 20 غذر 2 میں مسلم لیگ (ن) کے امیدواروں کی کامیابی برقرار رکھنے کا فیصلہ سنا دیا، جبکہ جی بی اے 3 گلگت 3 پر آزاد امیدوار اور جی بی اے 15 دیامر 1 پر آزاد امیدوار کی جیت برقرار رکھی گئی۔ اسی طرح جی بی 8 اسکردو 2 پر ایم ڈبلیو ایم کے امیدوار کی کامیابی برقرار رکھی گئی۔
جی بی اے 16 دیامر 2 کے حلقے پرآزاد امیدوار امام مالک نے ری پولنگ کی درخواست دائر کی تھی۔لیکن الیکشن کمیشن نے درخواست خارج کرتے ہوئے پوسٹل بیلٹ پیپرز کی گنتی کا حکم دیا ہے۔
اس حلقے میں امام مالک کو دوسرے نمبر پر آنے والے پیپلز پارٹی کے امیدوار عطاء اللہ پر صرف 24 ووٹوں کی برتری حاصل ہے۔ فیصلے کے بعد امام مالک کے حامیوں نے احتجاج کرتے ہوئے چیلاس میں زیرو پوائنٹ کے مقام پر شاہراہ قراقرم بلاک کر دی۔
چیف الیکشن کمشنر نے بتایا کہ جی بی اے 13 استور 1 اور جی بی اے 16 دیامر 2 پراعتراضات مسترد کرتے ہوئےحتمی نتائج کا فیصلہ 17 جون کو سنایا جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ 24 میں سے 16 حلقوں کے فارم 49 الیکشن کمیشن کو موصول ہو چکے ہیں جبکہ 8 حلقوں کے فارم موصول ہونا ابھی باقی ہیں۔