چکوال میں جاں بحق بچی کے والد کا مبینہ آڈیو بیان سامنے آگیا، کیس کو ہائی پروفائل ڈکلیئر کردیا گیا۔
آڈیو بیان میں بچی کے والد عدیل احمد کہہ رہے ہیں کہ حج کی ادائیگی بعد فیملی کے ہمراہ پاکستان آیا، واپسی 10جون کی صبح تھی، ہمیں ڈاکو لوٹ رہے تھے اور فائرنگ ہوگئی۔
چکوال میں 10 جون کو سی سی ڈی اہلکاروں کی فائرنگ سے بچی جاں بحق ہوگئی تھی، پراسیکیوٹر جنرل پنجاب نے سی سی ڈی اہلکاروں کی فائرنگ سے بچی کے جاں بحق ہونے کا نوٹس لے لیا۔
پراسیکیوٹر جنرل پنجاب نے چکوال فائرنگ کیس کو ہائی پروفائل کیس ڈکلیئر کر دیا اور مکمل ریکارڈ بھی طلب کرلیا گیا۔
ذرائع کے مطابق والد کا بیان خصوصی تفتیشی ٹیم نے بینظیر بھٹو اسپتال میں قلم بند کیا، جبکہ فائرنگ کرنے والے اہلکار کا تھانا سی سی ڈی میں حاضری ریکارڈ بھی چیک کیا گیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پولیس کانسٹیبل سے فائرنگ میں استعمال سرکاری بندوق برآمد کرلی گئی ہے، کانسٹیبل سے تفتیش مکمل ہونے پر جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجوا دیا گیا۔
کانسٹیبل کو علاقہ مجسٹریٹ نے جوڈیشل ریمانڈ پرجیل بھیجا ہے، عدالت نے 26 جون کو مقدمہ کا چالان طلب کرلیا، جبکہ جائے وقوعہ سے ملنے والے گولیوں کے خول فارنزک ٹیسٹ کیلئے لیب بھجوا دیے گئے ہیں۔
ذرائع کا بتانا ہے کہ متاثرہ خاندان سے ڈکیتی کرنے والے دونوں ڈاکو مبینہ مقابلہ میں ہلاک ہوگئے، ڈاکوؤں کی شناخت محمد فیاض اور محمد عباس کے نام سے ہوئی۔
ہلاک ڈاکو ریکارڈ یافتہ، پولیس کو متعدد مقدمات میں مطلوب تھے، ڈاکو بچی کےجاں بحق ہونے کے اگلے دن پولیس مقابلہ میں ہلاک ہوئے۔
خیال رہے کہ معصوم حانیہ کے جاں بحق ہوجانے کے بعد سی سی ڈی سربراہ سہیل ظفر چٹھہ کی جانب سے غلطی کا اعتراف بھی کر لیا گیا۔ اب متاثرہ خاندان کا سوال یہ ہے کہ ننھی حانیہ کو انصاف مل پائے گا یا نہیں؟ شہری پوچھتے ہیں شہر کا امن و امان لوٹانے کے لیے کیا کیا جا رہا ہے؟
10 جون کی رات 2 مسلح ڈاکوؤں نے 4 گھنٹوں میں چکوال میں ایک نہیں 5 مختلف مقامات پر چھوٹی بڑی وارداتیں کیں، آخری واردات عین سی سی ڈی تھانہ کے باہر ہوئی جہاں سی سی ڈی اہلکار کے ہاتھوں بنا سوچے سمجھے فائرنگ کے نتیجے میں 9 سالہ حانیہ عدیل نے جان گنوا دی، اس کا بھائی اور والد اب بھی زیر علاج ہیں۔
حانیہ عدیل کے جاں بحق ہونے کا مقدمہ اس کے والد کی مدعیت میں بھی درج کیا گیا ہے، پہلے اس میں دفعہ 322 شامل کی گئی تھی، یعنی غلطی یا لاپرواہی کی وجہ سے کسی کی جان چلے جانا تاہم ذرائع کے مطابق بعد ازاں مدعیان کے اصرار پر اس میں دفعہ 302 بھی شامل کرلی گئی ہے۔
سربراہ سی سی ڈی سہیل ظفر چٹھہ متاثرہ خاندان کے گھر گئے، غلطی کا اعتراف کیا اور ادارے میں ایس اوپیز مزید سخت ہونے کی یقین دہانی بھی کروائی۔