اسلامی سال کا آغاز محرم الحرام سے ہوتا ہے۔ یہ ماہ مبارک تاریخِ اسلام کے ایک عظیم باب کی یاد دلاتا ہے۔ محرم الحرام ہمیں قربانی، صبر، استقامت، اتحاد اور حق پر ثابت قدم رہنے کا درس دیتا ہے۔ یہ وہ مہینہ ہے جس میں نواسہ رسول ﷺ، سیدنا امام حسینؓ اور ان کے جانثار ساتھیوں نے میدانِ کربلا میں ایسی لازوال قربانی پیش کی جس کی مثال انسانی تاریخ میں مشکل سے ملتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ محرم الحرام کو اہلِ بیتِ اطہارؓ کی محبت، ان کی تعلیمات اور انکے مشن سے وابستگی کا مہینہ قرار دیا جاتا ہے۔
بدقسمتی سے اس سال محرم کا چاند طلوع ہونے سے قبل ہی سوشل میڈیا پر ایسے مباحث اور مناظروں کا آغاز ہو گیا جو نہ صرف فرقہ وارانہ کشیدگی کو جنم دے رہے ہیں بلکہ معاشرے میں نفرت اور انتشار بھی پھیلا رہےہیں۔افسوسناک امر یہ ہے کہ بعض ایسے معاملات بھی موضوعِ بحث بنا دیے گئے ہیں جن پر صدیوں سے امت کے اکابر علماء احتیاط، سکوت اور حسنِ ظن کا راستہ اختیار کرتے آئے ہیں۔ مسلماتِ دین اور تاریخی شخصیات کو ہدفِ تنقید بنا کر نوجوان نسل کے ذہنوں میں شکوک و شبہات پیدا کیے جا رہے ہیں۔سوشل میڈیا نے جہاں اظہارِ رائے کی آزادی فراہم کی ہے، وہیں اس آزادی کو بعض عناصر نے انتشار انگیزی کا ذریعہ بنا لیا ہے۔ گلی محلوں، چوک چوراہوں اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر ایسے موضوعات زیرِ بحث لائے جا رہے ہیں جن کا کوئی حتمی فیصلہ ممکن نہیں۔ نتیجتاً محبت کی جگہ نفرت، رواداری کی جگہ تعصب اور اخوت کی جگہ دشمنی جنم لے رہی ہے۔ جید علماء،بڑے مدارسِ،ثقہ مصنفین اس صورتحال میں انگشت بدنداں ہیں۔روکیں تو کیسے روکیں۔ایسے ایسے مسخرے سوشل میڈیا پر قابض ہیں جنہوں نے دیندار طبقے کی شناخت کو داؤ پر لگا دیا ہے۔گالی گلوچ،الزام تراشی،موضوع روایات کی بھرمار نے امت کو سوائے انتشار کے کچھ نہیں دیا۔سوال یہ ہے کہ اگر ان مباحث کا مقصد حق کی تلاش ہے تو پھر ان سے امت میں اتحاد کیوں پیدا نہیں ہوتا؟ اور اگر ان کا نتیجہ صرف نفرت، اشتعال اور تقسیم ہے تو پھر ایسے مباحث کے فروغ میں آخر کس کا فائدہ ہے؟
اسلام ہمیں اختلاف کے باوجود احترام کا درس دیتا ہے۔ قرآنِ کریم نے مسلمانوں کو ''واعتصموا بحبل اللّٰہ جمیعاً ولا تفرقوا'' کا حکم دیا ہے۔ رسول اکرم ﷺ نے امت کے اتحاد اور باہمی محبت کو ایمان کی تکمیل قرار دیا۔ اہلِ بیتِ اطہارؓ کی محبت تو خود ایمان کا حصہ ہے، لیکن یہ محبت اس وقت حقیقی بنے گی جب اس کے نتیجے میں امت میں اخوت، برداشت اور بھائی چارہ فروغ پائے گا، نہ کہ نفرت اور انتشار۔بدقسمتی سے اس وقت مذہبی طبقہ تقسیم در تقسیم کا شکار ہے۔تمام مکاتب فکر کے معتدل مزاج علما،فیس بکی نابغوں کے نشانے پر ہیں۔تمام شخصیات کو متنازع بنا دیا گیا ہے۔اب امت کی قیادت کرے تو کون کرے۔سیاسی قیادت پہلے ہی غیر موثر اور بے توقیر ہوچکی ہے مزہبی قیادت بھی نامقبول ٹہرے تو اس بےسمت ہجوم کو کون سنبھالے گا۔
آج پاکستان کو جن چیلنجز کا سامنا ہے، وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ مشرقی سرحد پر بھارت مسلسل پاکستان کے خلاف سازشوں میں مصروف ہے جبکہ مغربی سرحد پر دہشت گردی کی نئی لہر ملک کے امن کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہی ہے۔ افغانستان کی سرزمین سے سرگرم بعض شرپسند عناصر بھی پاکستان میں عدم استحکام پیدا کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔ آئے روز دہشت گردی کے واقعات میں ہمارے فوجی جوان، پولیس اہلکار اور عام شہری اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر رہے ہیں۔ وطن کے یہ سپوت اپنی جانوں کا چراغ جلا کر ہماری سلامتی کی حفاظت کر رہے ہیں۔
ایسے نازک حالات میں قومی اتحاد اور مذہبی ہم آہنگی پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہو چکی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ بیرونی قوتیں اس وقت کامیاب ہوتی ہیں جب قومیں اندرونی اختلافات کا شکار ہو جائیں۔ کربلا کا پیغام بھی یہی ہے کہ حق کے لیے متحد رہا جائے اور باطل کے عزائم کو ناکام بنایا جائے۔
اس تناظر میں ریاستی اداروں کی ذمہ داری بھی بڑھ جاتی ہے۔ حکومت، پیمرا، ایف آئی اے اور دیگر متعلقہ اداروں کو چاہیے کہ سوشل میڈیا پر نفرت انگیز تقاریر، اشتعال انگیز مناظروں اور فرقہ وارانہ مواد کے خلاف مؤثر اقدامات کریں۔ اظہارِ رائے کی آزادی اپنی جگہ اہم ہے لیکن کسی بھی آزادی کو معاشرتی فساد اور قومی نقصان کا ذریعہ بننے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔محرم الحرام کا اصل تقاضا یہ ہے کہ ہم اپنے دلوں میں محبتِ رسول ﷺ اور محبتِ اہلِ بیتؓ کو فروغ دیں۔ امام حسینؓ کی سیرت ہمیں صبر، استقامت، ایثار، قربانی اور حق گوئی کا سبق دیتی ہے۔ کربلا کا پیغام انتقام نہیں بلکہ اصلاح ہے، نفرت نہیں بلکہ محبت ہے، انتشار نہیں بلکہ اتحاد ہے۔ اگر ہم واقعی امام حسینؓ سے محبت کا دعویٰ کرتے ہیں تو ہمیں ان کی تعلیمات کو اپنی زندگیوں میں نافذ کرنا ہوگا۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ علماء، مشائخ، دانشور، صحافی اور سوشل میڈیا صارفین سب مل کر معاشرے میں اعتدال، رواداری اور اخوت کا ماحول پیدا کریں۔ نوجوان نسل کو اختلاف کے آداب سکھائے جائیں اور انہیں بتایا جائے کہ اسلام کی اصل قوت اتحاد میں ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ دشمن کی گولی صرف سرحد پر نہیں چلتی، کبھی وہ سوشل میڈیا کی پوسٹ، نفرت انگیز تقریر اور اشتعال انگیز بحث کی صورت میں بھی چلائی جاتی ہے۔
محرم الحرام ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ ذاتی، گروہی اور فرقہ وارانہ مفادات سے بالاتر ہو کر امت اور وطن کے وسیع تر مفاد کو مقدم رکھا جائے۔ اگر ہم نے کربلا کے پیغام کو صحیح معنوں میں سمجھ لیا تو نفرت کی آگ خود بخود بجھ جائے گی اور محبت، اخوت اور اتحاد کی شمع روشن ہو جائے گی۔ یہی محرم الحرام کا حقیقی پیغام ہے، یہی اہلِ بیتؓ کی قربانیوں کا تقاضا ہے اور یہی پاکستان کے موجودہ حالات کی سب سے بڑی ضرورت بھی۔