انتظاری اور بے قراری
ہر وقت کانوں میں گونجنے والے امریکی صدر چاہتے تھے کہ ایران سے ان کا سمجھوتہ ان کی سال گرہ یعنی چودہ جون کو ہو جائے مگر ایران کی مزاحمت اتنی رہی کہ اب یہ انیس جون کو ہو گا اور اسلام آباد کی بجائے جنیوا سوئٹزر لینڈ میں ہوگا جہاں کہا جاتا ہے کہ بہت سے ایمان داروں اور بے ایمانوں کے بینک اکائونٹوں میں کئی کھرب ڈالر پڑے ہیں ان میں وہ اکائونٹ بھی ہیں جنہوں نے اپنے یا اپنے پسندیدہ لوگوں کے نام پر یہ اکائونٹ کھولے مگر وہ کسی حادثے کی نذر ہوئے اور انہیں مہلت نہ ملی کہ اپنے وارثوں کو اس سے آگاہ کرتے شاید ایران کے سابق شاہ اور ان کی آل اولاد کے بھی یہاں اکائونٹ ہیں اور موجودہ قیادت کے بھی جو امریکہ نے منجمد کر رکھے تھے اور اب ان کی واپسی کا ’لارا‘ ایران کو دے رکھا ہے۔بیچ میں خبر آئی تھی کہ متحدہ عرب امارات کے پاس بھی ایران کے کچھ منجمد اکائونٹ تھے جن میں سے کچھ ادائیگیاں ایران کو کی گئی ہیں تاہم امریکی صدر کی غراہٹ سن کر یہ خود مختار اور غیور ملک مُکر گیا کہ ابھی سب کچھ امریکی اشارے کا منتظر ہے۔پھر امریکی صدر نے فلمی انداز میں اسرائیل کے نیتن یاہو کو ڈانٹا کہ خبردار جو آئندہ ہم سے پوچھے بغیر لبنان پر بم باری کی گویا اگاتھا کرسٹی کا ڈرامہ یا الفرڈ ہچکاک کی فلم اپنے اگلے موڑ کو پانچ دن بعد ظاہر کرے گی۔
ادھر گلگت بلتستان کے الیکشن کمشنر نے کہا ہے کہ پندرہ جون تک ان تمام حلقوں کے نتائج سامنے آ جائیں گے جہاں رائے شماری میں کچھ دشواری پیش آ رہی تھی اور اس دشواری کو ندیم افضل چن کی معنی خیز مسکراہٹ اور قمر زمان کائرہ کی دل سوز سنجیدگی ڈرامائی رخ دے رہی ہے۔پھر پاکستانی پارلیمنٹ میں اس بجٹ پر بحث ہو رہی ہے جسے آئی ایم ایف کا منظور شدہ کہا جا رہا ہے جس میں پنشنروں کو خوش خبری دی گئی ہے کہ سات فی صدی اضافہ کیا جائے گا اگر وہ بروقت یہ سرٹیفکیٹ دے سکے کہ وہ زندہ ہیں اس شدید گرمی میں بھی ۔کچھ صحافی بتا رہے ہیں کہ پارلیمنٹ کے حکومتی اراکین مراعات سے فیض یاب ہونے کے باوجود پارلیمنٹ میں آتے نہیں کیونکہ وزیر اعظم خود وہاں کا رخ نہیں کرتے ،نائب وزیر اعظم جو وزیر خارجہ بھی ہیں وہ بھی امریکہ اور ایران کے درمیان اپنی دانست میں مصالحت کا کام کر رہے ہیں۔
آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک وغیرہ سے پہلے قرض کو امداد کہا جاتا تھا پھر ہمیں منو بھائی،شوکت صدیقی اور احمد ندیم قاسمی نے بتایا کہ یہ امداد نہیں بھاری سود کا قرض ہے جو تیسری دنیا کے لوگوں کو محتاج اور لاچار بنانے کا حربہ ہے اس کے ذریعے ترقی یافتہ ملک اپنی مصنوعات اور ماہرین بھاری فیس کے ساتھ مقروض پر مسلط کرتے ہیں بعض اوقات قرض کی پہلی قسط میں سے اپنا بِل پیشگی وصول کر لیتے ہیں گویا جیسی زراعت وہ چاہیں گے اور جتنی انڈسٹری وہ چاہیں گے ویسا اور اُتنا ہو گا۔ میری ماں ان پڑھ تھی مگر ایک کہانی وہ بار بار سناتی تھیں میری ہتھیلی کی چار انگلیوں کے بارے میں بتاتی تھیں کہ ایک کہتی ہے کھائیں پئیں،دوسری کہتی ہے کیسے؟ کہاں سے؟
تیسری شوخی سے کہتی ہے اُدھار شدھار، چوتھی سنجیدگی سے پوچھتی ہے کون لہیسی؟(کون اتارے گا؟) تو انگوٹھا فیصلہ کن انداز میں کہتا ہے اللہ لہیسی(اللہ یہ قرض چکائے گا) پھر بڑے ہوئے تو معلوم ہوا کہ پاکستان پر اتنا قرض ہے ،اسی لئے ہمیں بھٹو،بھاشانی اور قسور گردیزی اچھے لگے جنہوں نے کہا کہ ہم استحصالی قوتوں کا قرض ہی واپس نہیں کریں گے پھر مُلک ٹوٹنے لگے،تختے الٹنے لگے ،مقبول لیڈرشپ کو پھانسی پر لٹکایا گیا ،جلاوطن کیا گیا یا داخلِ زنداں کیا گیا پھر وہ دور آیا کہ ہم نے کہا کہ ادھار دینے والے ہمارے محسن ہیں۔اس کے باوجود بچگانہ انداز میں ہم چاہتے رہے کہ اگر تیل یا گیس کے وسیع ذخائر ہمارے نصیب میں نہیں تو ہم خوردنی تیل تو خود پیدا کر لیں۔
ملتان کے قریب ہی وہاڑی اور میلسی ہے ایک مردم خیز اور زرخیز خطہ وہاں کے ممتاز منیس نے یونیورسٹیوں میں لیکچر دئیے مگر عمل چھائونیوں میں ہوا انہوں نے دو باتیں بار بار کہیں کہ ہمارے پاس زیتون کا درخت صدیوں سے ہے مگر ہم اسے کئو یا کہو کہتے ہیں اس درخت کو کاٹ کے کسان کے ہل بناتے ہیں یا شرارتی بچے یا ناراض باغبان کے لئے غلیل اگر اس درخت کے ساتھ ایک مرتبہ زیتون کے پودے کی پیوند کاری کر دیں تو ہمارے پاس خوردنی تیل وافر ہو جائے گا اسی زمانے میں ہمارے دو شاگردوں زماں زاہد اور جہانگیر طورو نے اپنے کھیتوں میں سویا بین اور سورج مکھی کی کاشت شروع کی تب بھی کچھ واقف کاروں نے کہا کہ چھ ارب ڈالر کا خوردنی تیل امپورٹ کرنے والا مافیا پاکستان کے زرعی شعبے کو خود کفیل نہیں ہونے دے گا اس برس کے بجٹ میں بھی یہ خوش خبری موجود ہے کہ ہم چھ ارب ڈالر کا خوردنی تیل امپورٹ کریں گے۔ ممتاز منیس نے یہ بھی کہا کہ بھارت بین الاقوامی مارکیٹ میں ہمارا حریف ہے مگر وہ گائے کے گوشت کی برآمد میں علانیہ نہیں آ سکتا اس لئے ساہیوال یا نیلی بار کی گایوں کی افزائش پر توجہ دیں۔پھر میلسی میں دو بھائیوں کے نجی کتاب خانے نے شہرت پائی تاہم کتب فروشوں کی دعائوں سے دونوں بھائیوں کی محبت میں رخنہ آیا۔اب کس کس رخنے کی بات کریں؟
کتابوں کی ہی بات کیوں نہ کریں؟ جیمز جوائس کے ناول یولیسس کا ترجمہ ہمارے پیارے انور سین رائے نے کر دیا ہے جس میں جوائس انتباہ کرتا ہے کہ
’’ماضی پرستی قوم پرستی کو جنم دیتی ہے اور قوم پرستی نفرت کو‘‘