• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

امریکا ایران معاملے پر پاکستان ایک ایسے ایشو کو ڈیل کر رہا ہے جو بہت پیچیدہ ہے: سیکیورٹی ذرائع

سیکیورٹی ذرائع نے کہا ہے کہ امریکا ایران کے معاملے پر پاکستان ایک ایسے ایشو کو ڈیل کر رہا ہے جو بہت پیچیدہ ہے، پاکستان کا اس میں کردار ثالث کا ہے۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق اعلیٰ سیکیورٹی حکام نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا ہے کہ ایران امریکا معاہدے میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کا ایک ہی انٹرسٹ ہے اور وہ ہے امن اور استحکام۔ دنیا کو آہستہ آہستہ اس کا ادراک ہورہا ہے کہ پاکستان نے کیا کیا ہے۔  

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق عظیم لڑائی وہ ہوتی ہے جہاں آپ بغیر لڑے جنگ جیتیں۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہم ہیڈلائن ڈپلومیسی میں دلچسپی نہیں رکھتے، پاکستان نے ثالثی کے تمام تقاضے پورے کیے ہیں۔ ابھی بھی اس معاملے میں بگاڑ پیدا کرنے والے موجود ہیں۔ اسرائیل کا انٹرنیشنل میڈیا پر اثر و رسوخ ہے۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ قطر، سعودی عرب، ترکیہ، مصر اور یو اے ای کو بھی امن معاہدے کا کریڈٹ جاتا ہے۔ ان سب ممالک نے پاکستان کی امن کی خواہش پر لبیک کہا۔ پاکستان کے ایران، سعودی عرب اور امریکا سمیت سب ممالک کے ساتھ الگ الگ تعلقات ہیں۔

’عباس عراقچی کے دورہ بھارت سے فرق نہیں پڑتا‘

ذرائع کے مطابق عباس عراقچی کے دورہ بھارت سے ہمیں فرق نہیں پڑتا۔ کون کس سے مل رہا ہے اس سے ہمیں فرق نہیں پڑتا۔ ہم اتنے تنگ نظریے کے ساتھ چیزوں کو نہیں دیکھتے۔

’انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن میں 1861 دہشتگرد ہلاک‘

سیکیورٹی ذرائع نے کہا کہ ہمارے اندرونی چیلنجز میں دہشتگردی بھی ہے۔ اب جنگ جدید ٹیکنالوجی پر مبنی ہوچکی ہے۔ دہشتگردی کی 2170 کارروائیاں ہوئیں جن میں سے 64 فیصد خیبر پختونخوا اور 34 فیصد بلوچستان میں کی گئیں۔

ذرائع نے بتایا کہ 15 جون 2026 تک 32 ہزار 92 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیے گئے۔ اس دوران 1861 دہشتگردوں کو ہلاک کیا گیا جبکہ پاک فوج کے جوان، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار اور شہریوں سمیت 640 افراد شہید ہوئے۔

سیکیورٹی ذرائع کا کہنا تھا کہ سیکیورٹی حکام کے مطابق 862 دہشتگرد غضب للحق آپریشن افغانستان میں مارے گئے جبکہ باقی 999 پاکستان میں ہلاک ہوئے۔

’بھارت مقبوضہ کشمیر میں کچھ نہ کرسکا، اسی لیے آزاد کشمیر میں آگ لگائی‘

ذرائع کے مطابق پاکستان کا پہلا نشان حیدر کشمیر سے ہے، ہمارا ایشو دہشتگرد رجیم سے ہے نہ کہ وہاں کی عوام سے۔ فوج میں 40 فیصد کے قریب جوان کشمیر سے تعلق رکھتے ہیں۔

سیکیورٹی ذرائع کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں بی جے پی نے بھی پیسہ لگایا۔ کیا وہ وہاں کے مسلمانوں کو خرید سکتے ہیں؟ کیا وہاں سے پاکستان کے لیے لوگوں کے جذبات سامنے نہیں آئے؟

ذرائع کے مطابق مقبوضہ وادی میں نقل و حرکت اور اظہار رائے کی آزادی نہیں ہے۔ بھارت مقبوضہ کشمیر کا ملٹری کے ذریعے بھی کچھ نہ کرسکا، اس لیے آزاد کشمیر میں آگ لگائی ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ سیکیورٹی حکام نے کہا آزاد کشمیر میں حقوق کی تحریک سے آغاز کیا گیا، ہماری ڈیفالٹ آپشن ہمیشہ بات چیت ہوتی ہے، اصل کہانی کیا ہے یہ سامنے آنے میں وقت لگا۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ ہمیں پتہ تھا جے اے اے سی کا ایجنڈا کیا ہے، یہ کدھر سے آرہے ہیں، بی وائے سی کو جب دہشتگرد تنظیم کہا گیا تب بھی بہت شور مچا تھا۔ پھر بی وائے سی بھی کھل کر سامنے آگئی۔

سیکیورٹی ذرائع کا کہنا تھا کہ آزاد کشمیر حکومت نے لوگوں کو کہا ہے اپنی دکانیں کھولیں، ناکے ان کی جانب سے لگائے گئے ہیں، جے اے اے سی نے عوام کو کہا ہے جو دکانیں کھولے گا ہم آگ لگا دیں گے۔

ذرائع کے مطابق آزاد کشمیر حکومت پولیٹیکل پراسیس فالو کر رہی تھی، آزاد کشمیر میں بیٹھ کر ریاست مخالف نعرے لگائے جا رہے ہیں۔ ریاست پیار محبت سے ڈیل کر رہی ہے۔ ریاست ہمشہ پہلے ماں بن کر ڈیل کرتی ہے بعد میں باپ بنتی ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ ہر لمحے جے اے اے سی مزید کھل کر سامنے آرہی ہے۔ ان کو آئینی اور قانونی طریقے سے ڈیل کیا جائے گا۔

’دفاعی بجٹ کا زیادہ تر حصہ لازمی اخراجات کو جاتا ہے‘

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق دفاعی بجٹ 300 ارب مختص ہے جو 17 فیصد اضافہ بنتا ہے، اس میں زیادہ تر بجٹ لازمی اخراجات کو جاتا ہے۔ ترقیاتی کاموں کے لیے تھوڑا بجٹ بچتا ہے۔ اس کے برعکس دیکھیں تو بھارت کا بجٹ کتنا ہے؟ 

قومی خبریں سے مزید