رواں سال سندھ میں خسرہ سے 53 اموات رپورٹ ہوئیں جبکہ مطابق جنوری سے مئی تک ملک میں خسرہ سے 96 بچے جاں بحق ہوئے، خسرہ سے سب سے زیادہ اموات سندھ میں ہی رپورٹ ہوئی ہیں۔
ذرائع محکمہ صحت کے مطابق خیبر پختونخوا میں 24، پنجاب میں 15 اور بلوچستان میں 4 اموات رپورٹ ہوئیں۔
ذرائع کے مطابق 5 ماہ میں خسرہ کے 28 ہزار 500 مشتبہ کیسز رپورٹ ہوئے، جن میں سے 28 ہزار 500 کیسز میں 7 ہزار 500 میں خسرہ کی تصدیق ہوئی۔
ذراٸع محکمہ صحت کے مطابق خسرہ قابلِ علاج اور قابلِ تدارک مرض ہونے کے باوجود پھیل رہا ہے، طبی ماہرین کے مطابق بنیادی ذمہ داری والدین کی ہے کہ وہ بچوں کی ویکسین کا خیال رکھیں۔