• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

شام کی چائے کیساتھ بسکٹ لینے کے عادی افراد کو ماہرین نے خبردار کر دیا

---فائل فوٹو
---فائل فوٹو 

اکثر گھروں میں شام کے وقت چائے کے ساتھ بسکٹ کھائے جاتے ہیں، یہ عادت آنتوں کی حفاظتی تہہ کو متاثر کر سکتی ہے جس کے نتیجے میں پیٹ پھولنا، گیس، تیزابیت، بدہضمی اور کھانے کے بعد بھاری پن جیسی شکایات بڑھ جاتی ہیں۔

طبی ماہرین کے مطابق بسکٹ میں موجود میدہ، اضافی چینی، مصنوعی مٹھاس، سبزیوں کے تیل اور دیگر پراسیس شدہ اجزاء جبکہ چائے میں موجود کیفین مل کر نظامِ ہاضمہ پر منفی اثرات ڈالتے ہیں۔ 

چائے کے ساتھ بسکٹس کا مسلسل استعمال آنتوں میں سوزش، مفید جراثیم کی کمی اور غذائیت جذب کرنے کی صلاحیت کو متاثر کر سکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ عادت مون سون کے دوران زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتی ہے، نم موسم کے سبب ہاضمہ سُست، خوراک میں جراثیم کی افزائش، جسمانی سرگرمی میں کمی اور کھانے کی عادات میں تبدیلی کے باعث پیٹ پھولنے کی شکایت مزید بڑھ سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر بار بار پیٹ پھولے، گیس، تھکن، مخصوص غذاؤں سے حساسیت یا رفع حاجت کی عادات میں تبدیلی محسوس ہو تو یہ آنتوں کی خرابی کی علامت ہو سکتی ہے۔

تحقیقی جریدے کے مطابق زیادہ مقدار میں میدے کا استعمال آنتوں کے مفید جراثیم کے توازن کو بگاڑ سکتا ہے جبکہ زیادہ چینی نقصان دہ جراثیم کی افزائش اور سوزش کا سبب بن سکتی ہے۔ 

خالی پیٹ یا ضرورت سے زیادہ چائے پینا بھی تیزابیت میں اضافہ کر سکتا ہے۔

ماہرین نے مشورہ دیا ہے کہ شام کی چائے کے ساتھ بسکٹ کی بجائے بھنے ہوئے چنے، مونگ دال والی چاٹ، خشک میوہ جات، دہی کے ساتھ پھل، بھنے ہوئے پھول مکھانے یا ثابت اناج کی ڈبل روٹی سے تیار سبزیوں والا سینڈوچ استعمال کیا جائے۔

غذائی ماہرین نے کہا ہے کہ گھر کا دہی، خمیر شدہ غذائیں، کیلا، جئی، دالیں، موسمی پکی ہوئی سبزیاں، خشک میوہ جات اور بیج آنتوں کی صحت کے لیے مفید ہیں جبکہ ادرک کی چائے، زیرے کا پانی اور سونف کا پانی ہاضمہ بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر پیٹ پھولنے کے ساتھ وزن میں مسلسل کمی، طویل عرصے تک اسہال، پاخانے میں خون یا شدید پیٹ درد ہو تو فوری طور پر معدے اور آنتوں کے ماہر ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔


نوٹ: یہ مضمون قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے، صحت سے متعلق امور میں اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔

صحت سے مزید