• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پیٹ کی چربی شوگر کی اہم وجہ، دماغی صحت کیلئے بھی خطرناک قرار

---فائل فوٹو
---فائل فوٹو 

پیٹ کے گرد جمع ہونے والی اضافی چربی صرف دل اور ذیابیطس کے خطرات تک محدود نہیں بلکہ یہ دماغی صحت، یادداشت اور ذہنی صلاحیتوں کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔ 

ماہرین کے مطابق پیٹ کے اندر اعضاء کے گرد جمع ہونے والی اندرونی چربی مسلسل سوزش، ہارمونز میں تبدیلی اور جسمانی میٹابولزم میں خرابی پیدا کرتی ہے جو وقت کے ساتھ ساتھ یادداشت کی کمزوری، ذہنی تنزلی اور ڈیمنشیا جیسے امراض کا خطرہ بڑھا سکتی ہے۔

’امیون نیٹ ورک‘ نامی طبی جریدے میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق آنتیں صرف ہاضمے کے لیے اہم نہیں بلکہ جسم کے مدافعتی نظام، اعصابی نظام اور میٹابولزم کو بھی منظم کرتی ہیں۔

آنتوں میں موجود مفید جراثیم کا مجموعہ دماغ سمیت جسم کے مختلف اعضاء کی صحت پر اثر انداز ہوتا ہے۔

ماہرین کے مطابق پیٹ کی چربی دو اقسام کی ہوتی ہے، ایک جِلد کے نیچے موجود چربی جبکہ دوسری اندرونی چربی جو جگر، لبلبے اور آنتوں جیسے اہم اعضاء کے گرد جمع ہوتی ہے۔

یہی اندرونی چربی زیادہ خطرناک سمجھی جاتی ہے کیونکہ یہ خون میں سوزش پیدا کرنے والے کیمیائی مادے خارج کرتی ہے جو خون کی نالیوں، انسولین کے نظام اور دماغ کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

تحقیقی شواہد کے مطابق پیٹ کی اندرونی چربی دماغی خلیوں کے درمیان رابطے کو متاثر کرتی ہے اور دماغ تک خون کی روانی کم کر سکتی ہے جس کے نتیجے میں یادداشت میں کمزوری، توجہ میں کمی، سوچنے کی رفتار کا سست پڑ جانا، نئی معلومات سیکھنے میں دشواری اور ذہنی صلاحیتوں میں بتدریج کمی جیسے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ درمیانی عمر میں کمر کا بڑھتا ہوا گھیراؤ مستقبل میں ڈیمنشیا اور الزائمر جیسے امراض کے خطرے میں بھی اضافہ کر سکتا ہے۔

اس کی وجہ انسولین کے خلاف مزاحمت، بلند فشار خون، مسلسل سوزش اور دماغ کو خون پہنچانے والی باریک شریانوں کو نقصان پہنچنا ہے۔

تحقیق کے مطابق پیٹ کی اضافی چربی ذہنی صحت کو بھی متاثر کر سکتی ہے جس سے بے چینی، ڈپریشن، ناقص نیند، مسلسل تھکن اور توانائی میں کمی جیسے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ 

طبی ماہرین کے مطابق اس کی ایک وجہ سوزش پیدا کرنے والے مادے ہیں جو مزاج کو کنٹرول کرنے والے دماغی کیمیائی نظام پر اثر ڈالتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق بیٹھے رہنے کا طرزِ زندگی، پراسیس شدہ اور زیادہ کیلوریز والی غذائیں، میٹھے مشروبات، جسمانی سرگرمی کی کمی، ناکافی نیند، مسلسل ذہنی دباؤ، تمباکو نوشی، شراب نوشی اور بڑھتی عمر اندرونی چربی بڑھانے کی اہم وجوہات ہیں۔

بعض افراد کا وزن معمول کے مطابق ہونے کے باوجود بھی جسم کے اندر خطرناک چربی موجود ہو سکتی ہے اس لیے صرف وزن نہیں بلکہ کمر کا گھیراؤ بھی اہم پیمانہ ہے۔

اندرونی چربی کی ممکنہ علامات میں کمر کا مسلسل بڑھنا، پیٹ کی چربی کم نہ ہونا، شوگر اور بلڈ پریشر کا بڑھ جانا، ٹرائی گلیسرائیڈز کی زیادتی اور فیٹی لیور شامل ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ خوش آئند بات یہ ہے کہ اندرونی چربی کو صحت مند طرزِ زندگی اختیار کر کے کم کیا جا سکتا ہے، اس کے لیے ہفتے میں کم از کم 150 منٹ معتدل ورزش، متوازن غذاء، روزانہ 7 سے 9 گھنٹے معیاری نیند، ذہنی دباؤ میں کمی اور باقاعدہ طبی معائنہ انتہائی ضروری ہے۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ پیٹ کی چربی کو صرف ظاہری مسئلہ سمجھ کر نظرانداز نہ کیا جائے کیونکہ یہ دل کی بیماری، ذیابیطس، جگر میں چربی، یادداشت کی خرابی اور دماغی تنزلی سمیت کئی سنگین بیماریوں کا خطرہ بڑھا سکتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ صحت مند غذاء، باقاعدہ ورزش، بہتر نیند اور ذہنی دباؤ پر قابو پا کر ناصرف دل بلکہ دماغ کو بھی طویل عرصے تک صحت مند رکھا جا سکتا ہے۔


نوٹ: یہ مضمون قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے، صحت سے متعلق امور میں اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔

صحت سے مزید