امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدے پر اتفاق اور 19جون کو سوئٹزرلینڈ میں اس پر باضابطہ دستخط کا اعلان ایک غیر معمولی لمحہ ہے۔ یہ پیش رفت صرف دو حریف ممالک کے درمیان مفاہمت نہیں، بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ، خلیج، عالمی توانائی منڈیوں اور بین الاقوامی سفارتکاری کیلئے ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے۔اس معاہدے کی نمایاں ترین بات پاکستان کا کردار ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ طویل اور گہری سفارتی کوششوں کے بعد امریکہ اور اسلامی جمہوریہ ایران کے درمیان امن معاہدے پر اتفاق ہو گیا ہے، جس پر 19جون کو سوئٹزرلینڈ میں دستخط کیے جائیں گے۔ یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا جب خطے میں کشیدگی خطرناک حد تک بڑھ چکی تھی، لبنان سمیت مختلف محاذوں پر جنگی ماحول پیدا ہو رہا تھا، اور آبنائے ہرمز کی بندش نے عالمی توانائی منڈیوں کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا تھا۔
پاکستان کیلئے یہ سفارتی کامیابی معمولی نہیں۔ اسلام آباد کے ایران کے ساتھ تاریخی، مذہبی اور جغرافیائی روابط ہیں، جبکہ امریکہ کیساتھ اسکے تعلقات طویل اور پیچیدہ مگر اہم رہے ہیں۔ ایسے میں دونوں حریفوں کے درمیان رابطے کا قابلِ اعتماد ذریعہ بننا ایک نہایت حساس سفارتی ذمہ داری تھی۔
وزیراعظم پاکستان کے مطابق دونوں فریقوں نے لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوجی کارروائیاں فوری اور مستقل طور پر ختم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ اگر یہ معاہدہ عملی شکل اختیار کرتا ہے تو اس سے پورے خطے میں استحکام کی نئی فضا پیدا ہو سکتی ہے۔
آبنائے ہرمز دنیا کی توانائی سپلائی کیلئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس کے بند ہونے یا محدود ہونے کا اثر صرف تیل بردار جہازوں تک محدود نہیں رہتا، بلکہ تیل کی قیمتوں، مہنگائی، صنعتی پیداوار، عالمی تجارت اور عام صارفین کی زندگی تک پہنچتا ہے۔ اسی لیے امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے یہ اعلان کہ آبنائے ہرمز تمام بحری جہازوں کیلئے بغیر کسی اضافی گزرگاہ فیس کے کھول دی جائیگی، عالمی منڈیوں کیلئے باعث اطمینان ہے۔ٹرمپ کا یہ کہنا کہ اپنے انجن چلا دیں، تیل کی روانی شروع ہونے دیں۔دراصل دنیا کو یہ پیغام دینے کی کوشش ہے کہ توانائی کی سپلائی بحال ہوگی،تاہم آبنائے ہرمز کو کھولنا ایک مرحلہ ہے، لیکن اسے محفوظ، مستحکم اور بلا تعطل کھلا رکھنا اس سے زیادہ مشکل کام ہوگا۔
ایرانی میڈیا کے مطابق معاہدے کے متن میں بعض تبدیلیوں کے بعد آبنائے ہرمز ایران کی شرائط کے تحت کھولی جائیگی یعنی ایران اس معاہدے کو اپنی خودمختاری، سلامتی اور قانونی مفادات کے تناظر میں دیکھ رہا ہے۔ کامیاب سفارتکاری کا بنیادی اصول بھی یہی ہے کہ ہر فریق اپنے عوام کے سامنے معاہدے کو ایک باوقار حل کے طور پر پیش کر سکے۔ پاکستان کی ثالثی کی اہمیت بھی اسی میں ہے کہ اس نے تصادم کو فتح اور شکست کے بیانیے سے نکال کر مفاہمت کی میز تک پہنچانے میں کردار ادا کیا اور اسی لیے پاکستان کی تمام قیادت نوبل امن ایوارڈ کی سب سے زیادہ حقدار ہے۔
یہ معاہدہ اس حقیقت کی بھی یاد دہانی ہے کہ سفارت کاری صرف بیانات یا ملاقاتوں کا نام نہیں۔ حقیقی ثالثی اعتماد پیدا کرنے، فریقین کے خدشات سمجھنے، قابلِ قبول زبان تلاش کرنے، ممکنہ رعایتوں کی حد طے کرنے اور ایسے متن تک پہنچنے کا نام ہے جسے دونوں جانب قبول کیا جا سکے۔ امریکہ اور ایران جیسے دیرینہ حریفوں کے درمیان یہ کام انتہائی مشکل تھا، کیونکہ دونوں ممالک کے تعلقات پابندیوں، جوہری پروگرام جیسے پیچیدہ عوامل سے جڑے ہوئے ہیں۔سوئٹزرلینڈ میں دستخط معاہدے کا اختتام نہیں بلکہ آغاز ہوں گے۔ اصل مرحلہ اسکے بعد شروع ہوگا، جب عمل درآمد کا طریقہ کار، نگرانی کا نظام، بحری سلامتی، توانائی کی ترسیل، جنگ بندی کی پابندی اور ثالث ممالک کا فالو اپ سامنے آئے گا۔ اگر پاکستان، قطر، سعودی عرب اور ترکیہ اس عمل کو مسلسل سفارتی نگرانی میں رکھتے ہیں تو یہ معاہدہ صرف وقتی جنگ بندی نہیں بلکہ خطے میں ایک پائیدار امن فریم ورک کی بنیاد بن سکتا ہے۔
پاکستان کیلئے اس موقع کی اہمیت دوہری ہے۔ ایک طرف یہ اسکی سفارتی ساکھ کو مضبوط کرتا ہے، دوسری طرف اسے یہ موقع فراہم کرتا ہے کہ وہ دنیا کے سامنے خود کو امن، رابطے اور علاقائی توازن کے حامی ملک کے طور پر پیش کرے۔ پاکستان ایک ایٹمی طاقت، اہم مسلم ملک، ایران کا پڑوسی، خلیج کا شراکت دار اور امریکہ کے ساتھ دیرینہ روابط رکھنے والا ملک ہے۔ اگر اسلام آباد اس کامیابی کو منظم خارجہ پالیسی میں تبدیل کرے تو مستقبل میں بھی وہ بحرانوں کے حل میں ایک معتبر کردار ادا کر سکتا ہے اور اب پاکستان کو زیادہ محتاط، فعال اور مسلسل سفارت کاری کی ضرورت ہوگی۔
اگر 19 جون کو سوئٹزرلینڈ میں دستخط ہوتے ہیں، آبنائے ہرمز کھلتی ہے، محاذوں پر جنگی کارروائیاں رکتی ہیں اور توانائی کی ترسیل بحال ہوتی ہے تو یہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کی ایک بڑی کامیابی سمجھی جائیگی۔ پاکستان نے اگر اس مشکل مرحلے میں دونوں فریقوں کو مذاکرات، مفاہمت اور امن کے راستے پر لانے میں کردار ادا کیا ہے تو یہ صرف ایک سفارتی کامیابی نہیں بلکہ خطے کے مستقبل کیلئے ایک روشن امکان ہے۔ 19 جون کی تاریخ اس لیے اہم ہے کہ یہ صرف دستخطوں کا دن نہیں، بلکہ یہ مشرقِ وسطیٰ میں ایک نئے اور زیادہ متوازن سفارتی دور کا آغاز ثابت ہوسکتی ہے۔