وزیرِ اطلاعات عطاء اللّٰہ تارڑ اور وزیرمملکت خزانہ بلال اظہر کیانی نے وفاقی بجٹ پر بریفنگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ آئندہ مالی سال کا بجٹ سابقہ بجٹس سے مختلف ہے۔
اسلام آباد میں آن لائن بریفنگ کے دوران عطاء اللّٰہ تارڑ نے بجٹ سے متعلق سوالات کے جواب دیتے ہوئے کہا کہ کچھ لوگوں کو محض تنقید کی عادت ہے اور وہ تنقید برائے تنقید پر یقین رکھتے ہیں جبکہ مخالفین بھی بجٹ کی تعریف کر رہے ہیں۔
اُنہوں نے کہا کہ حکومت نے ریلیف پر مبنی بجٹ تیار کیا ہے، مشکل دور میں مسلم لیگ ن کی قیادت نے معیشت کو سنبھالا۔
عطاء اللّٰہ تارڑ کا کہنا ہے کہ نواز شریف کے وژن کے تحت وزیرِ اعظم شہباز شریف نے معاشی معاملات کو آگے بڑھایا۔
ان کا کہنا ہے کہ پیرس میں آئی ایم ایف سے معاملات طے نہ پاتے تو خدشہ تھا کہ ملک ڈیفالٹ کر جاتا تاہم وزیرِ اعظم نے ذاتی کاوشوں سے مذاکرات کیے اور ملک آئی ایم ایف پروگرام میں شامل ہوا۔
وزیرِ اطلاعات نے کہا کہ گزشتہ 2 سال کے دوران وزیرِ اعظم مسلسل کہتے رہے کہ جیسے ہی گنجائش ہو گی عوام کو ریلیف دیا جائے گا، حکومت نے صرف گنجائش کا انتظار نہیں کیا بلکہ بھرپور محنت سے گنجائش پیدا کی۔
عطاء اللّٰہ تارڑ کا کہنا ہے کہ حکومت نے ایف بی آر میں اصلاحات نافذ کیں، سفارش کلچر کا خاتمہ کیا اور ٹیکس وصولی کے نظام کو مربوط بنایا، وزیرِ اعظم کا وژن تھا کہ ٹیکس دہندگان پر ٹیکس نادہندگان کا بوجھ نہیں ڈالا جا سکتا، کسٹمز ہو یا انکم ٹیکس، سفارش پر تقرری کا سلسلہ ختم کر کے میرٹ سسٹم متعارف کرایا گیا۔
انہوں نے کہا کہ بندرگاہوں سے لے کر انکم ٹیکس دفاتر تک شفاف اور میرٹ پر مبنی نظام قائم کیا گیا ہے۔
عطاء اللہ تارڑ کے مطابق بندرگاہوں پر فیس لیس اپریزل کا نظام نافذ ہے جس میں امپورٹر یا ایکسپورٹر کا کسٹمز افسر سے براہِ راست کوئی تعلق نہیں ہوتا، فیس لیس سسٹم میں تمام عمل آن لائن نظام کے ذریعے انجام پاتا ہے جس کے باعث جو کام پہلے ہفتوں میں ہوتے تھے اب دنوں میں مکمل ہو جاتے ہیں جبکہ تاخیر یا ناجائز مطالبات کی گنجائش بھی ختم ہو چکی ہے۔
وزیرِ اطلاعات کے مطابق ایکسپورٹ ری فنانسنگ اسکیم کے تحت شرحِ سود صرف 4 فیصد مقرر کی گئی ہے جسے برآمدی صنعت کے لیے بڑا ریلیف قرار دیا جا رہا ہے۔
اُنہوں نے کہا کہ تنخواہ دار طبقے، صنعت اور برآمد کنندگان سمیت تمام شعبوں کو اس بجٹ میں فائدہ دیا گیا ہے، وزیرِاعظم یوتھ پروگرام کے تحت نوجوانوں کے لیے بڑے پیمانے پر فنڈز مختص کیے گئے جبکہ زرعی اور کاروباری قرضوں سے تقریباً 5 لاکھ 50 ہزار نوجوان مستفید ہوں گے، زرعی شعبے اور نوجوان گریجویٹس کی ترقی کے لیے 1 ارب روپے سے زائد رقم مختص کی گئی ہے۔
وزیر اطلاعات نے مزید کہا کہ زرعی آلات کی درآمد پر تمام ڈیوٹیز ختم کر دی گئی ہیں جبکہ زرعی گریجویٹس کو مزید تعلیم کے لیے چین بھیجا گیا ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایگریکلچرل انوویشن اور زرعی فنانس میں شرحِ سود میں مزید کمی کی اسکیم بھی جاری رہے گی۔