کیلیفورنیا کے امیگریشن حراستی مرکز اڈیلیانتو میں ایک میکسیکو کے شہری خوسے گواڈالوپے راموس کی دورانِ حراست موت کے بعد اس کے اہلِ خانہ نے سخت سوالات اٹھا دیے۔
بین الاقوامی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق 52 سالہ راموس کو تقریباً 1 ماہ قبل امیگریشن کارروائی کے دوران حراست میں لیا گیا تھا، وہ ذیابیطس اور ہائی بلڈ پریشر کے مریض تھے اور باقاعدہ ادویات لیتے تھے۔
اہلِ خانہ کے مطابق آخری بار راموس کی اہلیہ انتونیا تووار نے انہیں ویڈیو ایپ زوم پر بات کرتے ہوئے دیکھا تھا جس کے چند گھنٹوں بعد انہیں مرکز میں بے ہوش حالت میں پایا گیا اور بعد میں ان کی موت کی تصدیق کر دی گئی۔
راموس کے اہلِ خانہ کا الزام ہے کہ اڈیلیانتو مرکز میں انہیں مناسب طبی سہولت نہیں دی گئی اور عملے نے ہنگامی صورتِ حال میں تاخیر سے ردِعمل دیا جس کے باعث ان کی جان گئی۔
دوسری جانب آئس حکام کا کہنا ہے کہ جب راموس کو بے ہوش پایا گیا تو فوری طبی عملہ طلب کیا گیا اور انہیں قریبی اسپتال منتقل کیا گیا تاہم وہ جانبر نہ ہو سکے۔
عرب میڈیا کی ایک رپورٹ میں شیئر کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق رواں سال اب تک آئس حراستی مراکز میں کم از کم 19 اموات رپورٹ ہو چکی ہیں جبکہ بعض رپورٹس میں یہ تعداد 32 تک بتائی گئی ہے۔
رپورٹس کا کہنا ہے کہ یہ گزشتہ سال کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے۔
امریکی حکومت کا مؤقف ہے کہ حراستی مراکز میں طبی سہولتیں بہتر بنائی گئی ہیں تاہم انسانی حقوق کے ماہرین اور متاثرہ خاندان ان دعوؤں کو مسترد کر رہے ہیں۔
میکسیکو کی حکومت نے بھی ان اموات پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے اور اپنے شہریوں کی حفاظت کے لیے امریکی حکام پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔
راموس کے اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ وہ سوالوں پر تسلی بخش جواب ملے اور انصاف کے حصول تک اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔