سینئر امریکی عہدیدار نے ایران سے متعلق مفاہمتی یادداشت کا باضابطہ متن پڑھ کر سنا دیا، جس میں انہوں نے کہا کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے امریکا سے ایم او یو کی کاپی نہیں مانگی، اسرائیل کے ساتھ مسلسل اور قریبی رابطہ برقرار ہے۔
خبر ایجنسی کے مطابق سینئر امریکی عہدیدار نے کہا کہ امریکا جوہری مسئلے کے بعد پروکسیز کو فنڈنگ پر بات کرے گا، ایران اپنے افزودہ یورینیم ذخیرے کو کم درجے میں تبدیل کرکے ختم کرنے پر رضا مند ہے، حتمی ڈیل پر پہنچ جاتے ہیں اور ایرانی مثبت رویہ اپناتے ہیں تو ہی پابندیوں میں ریلیف دیں گے۔
سینئر امریکی عہدیدار نے کہا کہ ایران آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت روکنے کی کوششیں بند کرنے پر آمادہ دکھائی دے رہا، حتمی معاہدہ نہ ہو سکا تو ٹرمپ اپنے اختیارات استعمال کرنے سے نہیں ہچکچائیں گے، ایران نے افزودہ یورینیم کا ذخیرہ ختم کرنے اور اس کا طریقۂ کار طے کرنے پر آمادگی ظاہر کی۔
انہوں نے کہا کہ مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوچکے ہیں، حتمی اور قانونی طور پر پابند معاہدہ ہونے تک فریقین میں سےکوئی بھی دستبردار ہوسکتا ہے، اعتماد سازی کیلئے کچھ اقدامات کریں گے، دیکھتے ہیں معاہدہ ممکن بنایا جاسکتا ہے یا نہیں۔
امریکی عہدیدار نے کہا کہ مذاکرات میں پیشرفت کے جائزہ کیلئے سوئٹزرلینڈ میں ہونے والا اجلاس انتہائی اہم ہوگا۔