• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ضرورت

رات ٹھیک دس بجے میرے دروازے پر دستک ہوتی۔

باہر ایک فقیر کھڑا ہوتا، جس کی آنکھوں میں فاقوں کی دمک ہوتی۔

’’ایک روٹی کی ضرورت ہے، صبح سے کچھ نہیں کھایا۔‘‘

میں رات کا بچا ہوا کھانا پیک کر کے اسے دے دیتا۔

دو ہفتے سے وہ مسلسل آرہا تھا۔ پہلے پہل مجھے خوشی محسوس ہوتی تھی۔

پھر ذمے داری لگنے لگی، پھر اکتاہٹ، اور آخر غصہ آنے لگا۔

’’کسی اور سے مانگو، کیا ہر ضرورت کا ٹھیکا میں نے لے رکھا ہے؟‘‘

ایک روز میں نے جھنجھلا کر اسے جھڑک دیا۔

مگر اس کے جانے کے بعد خیال آیا کہ میں دو ہفتے ہی میں اکتا گیا،

اور جو قدرت برسوں سے میری ضروریات پوری کر رہی ہے، اگر وہ اکتا گئی تو…

یکدم مجھ پر کپکپی طاری ہوگئی،

اور میں اندھیرے میں اس فقیر کی تلاش میں نکل پڑا۔

تازہ ترین