ضبط
میں ایک تباہ حال سڑک پر چلا جا رہا تھا۔
میرے اردگرد جنگ کے نشانات بکھرے ہوئے تھے۔
خستہ حال عمارتیں، برباد انفراسٹرکچر۔
ان تباہ کاریوں کے درمیان میں نے اپنے لوگوں کو دیکھا،
جنھوں نے جواں مردی سے دشمن کا مقابلہ کیا تھا۔
ان چہروں پر جیت کی دمک تھی، اور آنکھوں میں نمی،
وہ ایک دوسرے کو مبارک باد دے رہے تھے۔
چلتے چلتے میں ایک کھنڈر ہوچکی عمارت کے سامنے پہنچ گیا،
اور تب میرے ضبط کا بندھن ٹوٹ گیا،
میں میزائلوں کا شکار بننے والے اس اسکول کے سامنے
پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا،
جہاں جنگ سے پہلے میرا بیٹا پڑھا کرتا تھا۔