• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

وفاقی حکومت کی طرف سے مالی سال 27-2026 ء کیلئے پیش کئے گئے مجوزہ وفاقی بجٹ کا مجموعی حجم 18.7ٹریلین روپے ہے جس میں عمومی طور پر میکرو اکنامک استحکام کے حصول کیلئے اقتصادی شعبے بالخصوص صنعتی ترقی پر زور نظر آتا ہے۔ اس لحاظ سے وزیراعظم شہباز شریف، وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب اور انکی معاشی ٹیم مبارکباد کی مستحق ہے کہ انہوں نے صنعتی حلقوں کیساتھ ساتھ تنخواہ دارطبقے کی جانب سے اٹھائے جانیوالے تحفظات کا ازالہ کرنے کیلئے پیش کی گئی اہم سفارشات کو بجٹ میں شامل کرکے مناسب اقدامات تجویز کئے ہیں۔ علاوہ ازیں جی ڈی پی کی شرح نمو 3.7 فیصد تک بہتر ہونے اور مالیاتی خسارہ کم ہو کر جی ڈی پی کے 0.7فیصد تک آنے سے اندرونی و بیرونی قرضوں پر سود کی ادائیگی کے اخراجات میں 23فیصد کی کمی سے ظاہر ہوتا ہے کہ قومی معیشت مالیاتی نظم و ضبط کی طرف بڑھ رہی ہے۔ تاہم وفاقی حکومت کے انتظامی معاملات بالخصوص غیر پیداواری اخراجات کو مزید کم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ قومی وسائل ملکی ترقی کیلئے مختص کئے جا سکیں۔

حالیہ بجٹ میں صنعتی ترقی کیلئے جو اقدامات تجویز کئے گئے ہیں ان میں 500 ملین روپے تک کے چھ سلیبس پر سپر ٹیکس کا خاتمہ اور 500 ملین روپے سے زائد آمدنی پر 10فیصد سے کم کرکے 8فیصد کرنے اور برآمد کنندگان کیلئے مکمل چھوٹ نہایت اہم ہے۔ اسی طرح ایکسپورٹرز کیلئے ایک فیصد ایڈوانس ٹیکس اور ایک فیصد کم از کم ٹیکس کی جگہ 1.25فیصد کم از کم ٹیکس کے نفاذ کی تجویز بھی خوش آئند ہے۔ تاہم اس حوالے سے زیادہ بہتر یہ ہو گا کہ حکومت فائنل ٹیکس رجیم کے تحت برآمد کنندگان کیلئےسادہ فکسڈ ٹیکس نظام کو دوبارہ بحال کرے تاکہ انہیں ٹیکس حکام کے غیر ضروری دبائو اور دستاویزات کی پیچیدگیوں سے بچایا جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ بجٹ میں صنعتی شعبے کو درپیش سب سے اہم مسئلے یعنی مہنگی بجلی اور گیس کی قیمتوں میں کمی سے متعلق اقدامات کرنا بھی ضروری ہیں۔ اس سلسلے میں پیداواری شعبوں کو غیر منصفانہ طور پر منتقل کئے جانیوالے گردشی قرضوں کے بوجھ سے نمٹنے کیلئے کوئی ٹھوس روڈ میپ فراہم نہیں کیا گیا جس سے صنعتی ترقی میں ایک بڑی رکاوٹ حائل رہے گی۔

یہ صورتحال اس لحاظ سے بھی تشویشنا ک ہے کہ مہنگی بجلی اور گیس کی وجہ سے زیادہ تر صنعتیں پہلے ہی صلاحیت سے کم کام کر رہی ہیں جس کی وجہ سے برآمدات میں اضافہ ہونے کی بجائے کمی کا اندیشہ ہے۔ ارباب اقتدار کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ملک کے معاشی استحکام کیلئے زرمبادلہ کے ذخائر کا مستحکم ہونا ضروری ہے۔ اس کیلئے برآمدات میں اضافہ ناگزیر ہے اور برآمدات میں اضافہ اسی وقت ہو گا جب صنعتوں کی پیداواری لاگت کم ہو گی کیونکہ اس کے بغیر عالمی منڈیوں میں برآمدی مسابقت کا حصول ممکن نہیں۔ علاوہ ازیں صنعتوں کیلئے سستی بجلی اور گیس کی فراہمی کے بغیر صنعتی ترقی، محصولات میں پائیدار اضافہ، نئی سرمایہ کاری کا حصول اور بامعنی اقتصادی پیش رفت بھی ممکن نہیں ہے۔

یہاں یہ حقیقت بھی تسلیم کرنے کی ضرورت ہے کہ حکومت نے مجوزہ وفاقی بجٹ میں تنخواہ دار طبقے پر سرچارج کا خاتمہ اور تمام سلیبوں میں ٹیکس کی شرحوں میں خاطر خواہ کمی کرکے نہایت اچھا اقدام کیا ہے۔ اسی طرح غیر ملکی اثاثوں پر کیپٹل ویلیو ٹیکس کے خاتمے اور بین الاقوامی کاروباری طبقے کے سفر پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کا خاتمہ بھی درست فیصلہ ہے۔ اس کیساتھ ساتھ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے کی برآمدات پر 0.25 فیصد ٹیکس چھوٹ میں جون 2029ء تک توسیع اور تعمیراتی شعبے میں فائلرز کیلئے ودہولڈنگ ٹیکس میں 50فیصد کی کمی کا اقدام بھی معاشی ترقی کی رفتار کو تیز کرنےکیلئے اہم ہے۔

وفاقی حکومت نے مجوزہ بجٹ میں ریٹیل کے شعبے کو دستاویزی معیشت کا حصہ بنانےکیلئے 200ملین روپے سے کم سالانہ فروخت والے خوردہ فروشوں کیلئے ایک فکسڈ سیلز ٹیکس کی نئی اسکیم بھی متعارف کروائی ہے۔ اس اسکیم کے تحت رجسٹر ہونیوالے تاجروں کو پوائنٹ آف سیلز مشینوں اور کیو آر کوڈ سسٹم کے ذریعے آڈٹ سے استثنیٰ حاصل ہو گا۔ اس حوالے سے یہ کہنا بےجا نہ ہو گا کہ اگر تاجر طبقے نے اس اسکیم کو بھی قبول نہ کیا تو یہ افسوسناک ہو گا کیونکہ ایک طرح سے حکومت نے تاجروں کا دیرینہ مطالبہ تسلیم کر لیا ہے۔ اسلئے اب یہ تاجروں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ قومی معیشت کے استحکام میں اپنا حصہ ڈالنےکیلئے مثبت رویہ اپنائیں۔

یہ اقدامات ایک لحاظ سے حالات کا تقاضا بھی ہیں کیونکہ بجٹ سے قبل حکومت نے جو گزشتہ مالی سال کا اکنامک سروے پیش کیا ہے۔ اس میں یہ واضح نظر آ رہا ہے کہ سرمایہ کاری سے جی ڈی پی کا تناسب 14.38فیصد پر جمود کا شکار ہے جبکہ بچت کی شرح کم ہو کر 14.13 فیصد پر آ گئی ہے۔ ایسے میں ضروری ہے کہ بجٹ میں زیادہ سے زیادہ ایسے اقدامات کئے جائیں کہ معاشی سرگرمیوں پر چھایا ہوا جمود ختم ہو سکے۔

تازہ ترین