• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آئی پی ایل: راج کندرا کا راجستھان رائلز کی بولی میں 2.5 ملین ڈالرز کی مالی بے ضابطگی کا انکشاف

راج کندرا---فائل فوٹو
راج کندرا---فائل فوٹو 

بھارتی کاروباری شخصیت راج کندرا نے بھارتی کرکٹ بورڈ کو خط لکھ کر راجستھان رائلز کی ابتدائی ملکیت اور بولی کے عمل میں سنگین مالی بے ضابطگیوں کا الزام عائد کیا ہے۔ 

راج کندرا کے مطابق جنوری 2008ء میں 2.5 ملین ڈالرز کی ایک رقم ایسے اکاؤنٹ میں منتقل کی گئی جو مبینہ طور پر فرنچائز کے حصول سے منسلک تھا اور یہ رقم ممکنہ طور پر بولی کے دوران ادا کی گئی رقم سے متعلق ہو سکتی ہے۔

راج کندرا کا کہنا ہے کہ اس دور کے کئی اہم مالی لین دین ظاہر نہیں کیے گئے جبکہ بعض بینک ریکارڈز بھی تحقیقات کے دوران سامنے نہیں لائے گئے۔

اُنہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ حلف کے تحت دیے گئے کچھ بیانات غلط ہو سکتے ہیں جن پر قانونی کارروائی کا امکان موجود ہے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق راج کندرا کی جانب سے لگائے گئے ان الزامات کی فی الحال تصدیق نہیں ہوئی اور نہ ہی بھارتی کرکٹ بورڈ، للت مودی یا راجستھان رائلز کی جانب سے کوئی باضابطہ ردِعمل سامنے آیا ہے۔

راج کندرا کی جانب سے بی سی سی آئی کو لکھا گیا یہ خط ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب راج کندرا راجستھان رائلز کی 1.63 بلین ڈالرز کی مجوزہ فروخت کو عدالت اور بورڈ میں چیلنج کر رہے ہیں۔

ان کا مؤقف ہے کہ فرنچائز میں میرا 11.7 فیصد حصہ کبھی قانونی طور پر منتقل نہیں کیا گیا۔

واضح رہے کہ راج کندرا اور شلپا شیٹی ماضی میں راجستھان رائلز کے نمایاں مالکان میں شمار ہوتے تھے تاہم 2015ء میں اسپاٹ فکسنگ تنازع کے بعد راج کندرا پر کرکٹ سے متعلق سرگرمیوں میں تاحیات پابندی عائد کر دی گئی تھی۔

بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ اگر راج کندرا کے الزامات درست ثابت ہوتے ہیں تو انڈین پریمیئر لیگ کی ابتدائی تاریخ سے متعلق کئی اہم سوالات دوبارہ زیرِ بحث آ سکتے ہیں۔

کھیلوں کی خبریں سے مزید