یہ سوال مجھ سے تقریباً ہر روز پوچھا جاتا ہےکہ پاکستان کو پیسہ کب ملے گا؟ یہ سفارتکاری، یہ ثالثی، یہ اچانک بڑھتی ہوئی بین الاقوامی اہمیت آخر کب عام آدمی کی جیب تک پہنچے گی؟ کب اس کا اثر روزگار، سرمایہ کاری اور خوشحالی کی صورت میں نظر آئیگا؟سوال اپنی جگہ دیانت دار ہے، مگر اس کی بنیاد سطحی ہے، کیونکہ یہ کسی قوم کو صرف ایک ہی پیمانے سے ناپتا ہے، حالانکہ وہ پیمانہ سب سے آخر میں آتا ہے۔قوموں کی عظمت ان کے بینک کھاتوں سے نہیں ناپی جاتی۔ ان کی اصل قدر اس بات سے متعین ہوتی ہے کہ دنیا انہیں کتنی اہمیت دیتی ہے، عالمی فیصلوں میں ان سے مشورہ کرتی ہے یا انہیں نظرانداز کر دیتی ہے۔ کسی ملک کا وقار پہلے آتا ہے، سرمایہ بعد میں آتا ہے۔ جو لوگ پہلے چیک دیکھنا چاہتے ہیں اور اسکے بعد تبدیلی پر یقین کرتے ہیں، وہ گویا گاڑی چلاتے ہوئے رفتار کے بجائے صرف فیول گیج کو دیکھ رہے ہوتے ہیں۔پاکستان میں اصل تبدیلی اس کے مالی گوشواروں میں نہیں آئی۔ تبدیلی اسکی عالمی حیثیت میں آئی ہے۔صرف چند ماہ پہلے تک یہی پاکستان بین الاقوامی ذرائع ابلاغ میں ایک ایسے ملک کے طور پر پیش کیا جاتا تھا جو سفارتی طور پر تنہا، معاشی طور پر کمزور اور مسلسل بحرانوں میں گھرا ہوا ہے۔ آج اسی پاکستان کا نام ایک دستخط شدہ بین الاقوامی معاہدے میں واشنگٹن اور تہران کے درمیان پل کے طور پر درج ہے۔ آج پاکستان کو ایک ایسے ملک کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جو اپنے مشرقی سرحدی علاقوں سے لے کر ایران اور پورے خلیجی خطے تک استحکام پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔یہ کسی مالی بہاؤ میں تبدیلی نہیں۔یہ ایک درجے کی تبدیلی ہےاور قوموں کی طویل تاریخ میں اصل اہمیت ہمیشہ درجے کی ہوتی ہے، دولت کی نہیں، کیونکہ بعد میں ہونے والا ہر لین دین، ہر سرمایہ کاری، ہر اعتماد اور ہر شراکت داری اسی درجے پر قائم ہوتی ہے۔اس حقیقت کا سب سے واضح ثبوت ایران کی ثالثی بھی نہیں تھا۔یہ اس سے پہلے سامنے آیا، اور ایک ایسی جگہ سے آیا جہاں سے شاید کم ہی لوگوں نے اس کی توقع کی تھی۔ستمبر 2025 میں سعودی عرب، جو عرب دنیا کا سب سے دولت مند، سب سے بااثر اور سب سے محتاط ملک سمجھا جاتا ہے، نے اپنی سلامتی کو پاکستان کے ساتھ ایک دفاعی معاہدے کے ذریعے جوڑ دیا۔ایسا فیصلہ کسی ایسے ملک کے ساتھ نہیں کیا جاتا جسے بوجھ سمجھا جاتا ہو۔ایسا فیصلہ صرف اس ملک کے ساتھ کیا جاتا ہے جسکی اہمیت کو ناگزیر تسلیم کر لیا گیا ہو۔
اب اس منظر کو اسکے برعکس منظر کے ساتھ رکھ کر دیکھیے، کیونکہ پوری دلیل اسی تقابل میں پوشیدہ ہے۔فروری 2025 میں واشنگٹن میں بھارتی وزیر اعظم اور امریکی صدر نے مشن 500 کا اعلان کیا۔ مقصد یہ تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت کو دہائی کے اختتام تک پانچ سو ارب ڈالر تک پہنچایاجائے۔اسی مشترکہ اعلامیےمیں پاکستان کو دہشت گردی اور سرحد پار حملوں کے حوالے سے تنقید کا نشانہ بھی بنایا گیا۔پیغام بالکل واضح تھا۔بھارت کو عالمی انعام ملے گا، جبکہ پاکستان کو ایک منفی شناخت کے ساتھ دنیا کے سامنے پیش کیا جائیگا۔مگر صرف سولہ ماہ بعد تاریخ نے اسی صفحے کو الٹ دیا۔پاکستان خطے کے سب سے خطرناک بحران کے مرکز میں، دونوں متحارب فریقوں کے درمیان ثالث کے طور پر موجود تھا، جبکہ بھارت آخری تصفیے کے وقت کمرے کے باہر کھڑا تھا۔میں اعتراف کرتا ہوں کہ تاریخ کی اس ستم ظریفی میں ایک خاص انصاف موجود ہے۔ایک رہنما پوری دنیا کے دارالحکومتوں کے دورے کر سکتا ہے، بے شمار اعزازات حاصل کر سکتا ہے، عالمی فورمز پر مسلسل موجود رہ سکتا ہے، لیکن آخرکار اسے یہ احساس ہوتا ہے کہ دنیا کا سب سے اہم دروازہ اعزازات سے نہیں کھلتا۔وہ صرف اعتماد سے کھلتا ہے۔ایک ہمسایہ اپنی طاقت کو تجارتی اعداد و شمار میں ناپ رہا تھا۔دوسرا دشمنوں کے درمیان اعتماد کی مقدار میں۔اور آخرکار یہی ثابت ہوا کہ اعتماد، تجارت سے کہیں زیادہ قیمتی کرنسی ہے۔اس سے بھی بڑھ کر ایک اور پیمانہ ہےجس سے پاکستان کے کردار کو جانچا جانا چاہیے۔پاکستان کی سب سے بڑی کامیابی یہ نہیں کہ اس نے کیا حاصل کیا، بلکہ یہ ہے کہ اس نے کیا ہونے سے روک دیا۔میری نظر میں اس جنگ کا سب سے بڑا خطرہ صرف ایران کی تباہی نہیں تھا۔ اصل خطرہ یہ تھا کہ پورا عالمِ اسلام اپنی قدیم ترین تقسیم کیساتھ دو حصوں میں بٹ جاتا۔ ایک طرف خلیجی سنی ریاستیں ہوتیں، دوسری طرف شیعہ ایران، اور دونوں ایک ایسی جنگ میں دھکیل دیے جاتے جس کا انجام صرف باہمی تباہی ہوتا، جبکہ ان کے مشترکہ مخالفین خاموشی سے یہ منظر دیکھتے اور اسے اپنی کامیابی سمجھتے۔جنگ آہستہ آہستہ اسی سمت بڑھ رہی تھی۔ایسے وقت میں پاکستان شاید واحد ملک تھا جو اس خلیج کو پاٹ سکتا تھا۔پاکستان نے نہ صرف اسلامی تعاون تنظیم کے اندر بلکہ اس سے باہر بھی مسلسل یہی کوشش کی کہ یہ جنگ مسلمان بمقابلہ مسلمان کی جنگ نہ بننے پائے۔یہ کامیابی شاید کسی فوجی فتح سے بھی بڑی ہے۔
اسی لیے جب مجھ سے بار بار پوچھا جاتا ہے کہ پیسہ کب آئیگا؟تو میرا جواب ہمیشہ ایک ہی ہوتا ہے۔سرمایہ بزدل ہوتا ہے۔وہ کبھی تنہائی، بے یقینی یا عالمی بے اعتمادی کی طرف سفر نہیں کرتا۔وہ ہمیشہ وہاں جاتا ہے جہاں استحکام ہو، اعتبار ہو اور مستقبل پر اعتماد ہو۔اب صورتحال بدل رہی ہے۔اب پاکستان کو قابو میں رکھنے والے ملک کے طور پر نہیں بلکہ ساتھ رکھنے والے ملک کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔یہی وہ لمحہ ہے جہاں وقار، دولت میں تبدیل ہونا شروع ہوتا ہے۔اصل سوال یہ ہے کہ پاکستان اس نئی حیثیت کیساتھ کیا کرتا ہے۔قومیں انہی لمحات میں اپنا مستقبل تعمیر کرتی ہیںیا پھر انہی لمحات کو ضائع کر دیتی ہیں۔