اسلام آباد (انصار عباسی)…جاری بجٹ اجلاس نے حکومت اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے درمیان باضابطہ مذاکرات کے آغاز کے لیے غیر رسمی روابط کا موقع فراہم کر دیا ہے۔باخبر ذرائع نے اس نمائندے کو بتایا کہ پی ٹی آئی کے نمائندوں خصوصاً محمود خان اچکزئی اور بیرسٹر گوہر علی خان اور حکومت کی اہم شخصیات جن میں رانا ثناء اللہ، خواجہ آصف اور اعظم نذیر تارڑ شامل ہیں کے درمیان غیر رسمی رابطوں کا سلسلہ جاری ہے۔وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے میثاقِ معیشت اورمیثاقِ جمہوریت کی نئی اپیل کے ساتھ ہی حکومت اور اپوزیشن کی شخصیات کے درمیان غیر رسمی رابطوں کا ایک نیا دور شروع ہوا ہے، جس سے دونوں فریقوں کے درمیان ممکنہ سیاسی مکالمے کے حوالے سے محتاط امیدیں پیدا ہوئی ہیں۔قومی اسمبلی میں بجٹ اجلاس کے دوران خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے ایک بار پھر اپوزیشن کو قومی مفاد میں مل بیٹھنے اور اہم معاشی و جمہوری امور پر اتفاقِ رائے پیدا کرنے کی دعوت دی۔ ماضی میں بھی ایسی اپیلیں کی جاتی رہی ہیں، تاہم بامعنی مذاکرات کے آغاز کی کوششیں یا تو عملی شکل اختیار نہ کر سکیں یا سیاسی پیش رفت کے باعث متاثر ہو گئیں۔تاہم جاری بجٹ اجلاس نے حکومت اور اپوزیشن کے رہنماؤں کو باہمی رابطے کا موقع فراہم کیا ہے۔ جمعہ کے روز وزیراعظم شہباز شریف قومی اسمبلی میں حکومتی اور اپوزیشن نشستوں کے درمیان موجود راہداری عبور کر کے اپوزیشن رہنماؤں سے ملے اور ان سے مصافحہ و خیرسگالی کا تبادلہ کیا، جن میں قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی، پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان اور سینئر پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر شامل تھے۔ذرائع کے مطابق ان رابطوں کا مقصد یہ جانچنا ہے کہ آیا حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان سنجیدہ اور منظم مذاکرات کے لیے کوئی راستہ نکالا جا سکتا ہے۔ اس مرحلے پر گفتگو غیر رسمی نوعیت کی ہے اور اس کا مرکز اعتماد سازی اور ممکنہ مذاکراتی عمل کے لیے مشترکہ نکات کی تلاش ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں فریقوں کو بڑی رکاوٹوں کا سامنا ہے۔ حکومت کے لیے ایک بڑی مشکل یہ ہوگی کہ اگر پی ٹی آئی سابق وزیراعظم عمران خان کی رہائی کا مطالبہ کرتی ہے تو اس پر کیا ردعمل دیا جائے۔ حکومتی رہنما اس معاملے سے متعلق اپنی حدود اور مجبوریوں سے آگاہ ہیں۔دوسری جانب پی ٹی آئی کو بھی اپنے چیلنجز کا سامنا ہے۔ مذاکراتی کوششوں میں شامل پارٹی رہنما اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ حکومت کے ساتھ رابطوں کی سابقہ کوششوں کو اکثر پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا حمایتیوں کے بعض حلقوں اور بیرون ملک موجود پارٹی کارکنوں کی جانب سے مخالفت کا سامنا کرنا پڑا، جنہوں نے مذاکرات کی مخالفت کی اور مکالمے کی حمایت کرنے والوں کو تنقید کا نشانہ بنایا۔علیمہ خان کے مؤقف پر بھی گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔ ماضی میں وہ عوامی سطح پر ایسے خیالات کا اظہار کر چکی ہیں جو حکومت کے ساتھ مذاکرات کی حمایت کرنے کے مؤقف سے مختلف تھے اور انہوں نے بعض مذاکراتی اقدامات پر تنقید بھی کی تھی۔ان رکاوٹوں کے باوجود ذرائع موجودہ روابط کو ایک حوصلہ افزا پیش رفت قرار دیتے ہیں۔ بجٹ اجلاس نے سیاسی حریفوں کے درمیان براہِ راست رابطے کی گنجائش پیدا کی ہے اور اگر یہ غیر رسمی روابط جاری رہے تو بالآخر ایک زیادہ سنجیدہ اور منظم مذاکراتی عمل کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔فی الحال دونوں فریق حالات کا جائزہ لے رہے ہیں، جبکہ غیر رسمی بات چیت کا سلسلہ اس امید کے ساتھ جاری ہے کہ مستقبل میں بامعنی مذاکرات کے لیے سازگار ماحول پیدا کیا جا سکے۔