پاکستان میں ہر سال ہزاروں نوجوان ڈاکٹر بننے کا خواب لیکر میڈیکل کالجوں کا رخ کرتے ہیں، مگر ایک بنیادی سوال شاید ہی کبھی زیرِ بحث آتا ہو:کیا صحت کا نظام صرف ڈاکٹروں کے سہارے چل سکتا ہے؟ کیا ایک جدید اسپتال صرف سرجنوں اور فزیشنز کے بل بوتے پر مؤثر علاج فراہم کر سکتا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ دنیا کے کسی بھی کامیاب طبی نظام کی بنیاد صرف ڈاکٹروں پر نہیں بلکہ ایک مکمل میڈیکل فورس پر استوار ہوتی ہے، جس میں نرسیں، فارماسسٹ، لیبارٹری سائنسدان، ریڈیالوجی ٹیکنالوجسٹس، فزیوتھراپسٹ اور دیگر الائیڈ ہیلتھ پروفیشنلز برابر کے شریک ہوتے ہیں۔ بدقسمتی سے پاکستان میں صحت کے شعبے کو ایک ایسے قومی مغالطے نے جکڑ رکھا ہے جسکے مطابق کامیابی کا واحد معیار ایم بی بی ایس کی ڈگری ہے۔ ہمارے معاشرے میں والدین فخر سے کہتے ہیں کہ انکا بیٹا یا بیٹی ڈاکٹر بن رہی ہے، لیکن اگر کوئی نرس، فارماسسٹ یا میڈیکل ٹیکنالوجسٹ بننا چاہے تو اسے وہی عزت اور سماجی پذیرائی نہیں ملتی۔ یہی سوچ ہمارے طبی نظام میں عدم توازن پیدا کر رہی ہے۔ حالانکہ جدید طب میں مریض کی جان بچانے کا عمل ایک اجتماعی کوشش ہوتی ہے۔ ڈاکٹر تشخیص اور علاج کی منصوبہ بندی کرتا ہے، نرس مریض کی مسلسل نگرانی کرتی ہے، فارماسسٹ ادویات کے درست استعمال کو یقینی بناتا ہے جبکہ لیبارٹری اور ریڈیالوجی ماہرین تشخیص کیلئے بنیادی معلومات فراہم کرتے ہیں۔
پاکستان میں نرسنگ کا شعبہ سب سے زیادہ توجہ کا مستحق ہے۔ محتاط اندازوں کے مطابق ملک کو اس وقت تقریباً 15 لاکھ نرسوں کی کمی کا سامنا ہے۔ عالمی معیار کے مطابق ایک نرس پر چار مریضوں سے زیادہ کا بوجھ نہیں ہونا چاہیے، یعنی نرس اور مریض کا تناسب 1:4ہونا چاہئے، مگر پاکستان کے متعدد سرکاری اسپتالوں میں یہ تناسب 1:40تک پہنچ چکا ہے۔ یہ صرف اعداد و شمار نہیں بلکہ مریضوں کی سلامتی، علاج کے معیار اور انسانی جانوں سے متعلق ایک سنگین مسئلہ ہے۔ اگر عالمی معیار کے مطابق پاکستان کو نرسنگ افرادی قوت درکار ہو تو لاکھوں نئی نرسوں کی تربیت ناگزیر ہے۔ دنیا بھر میں نرسنگ کو صحت کے نظام کی ریڑھ کی ہڈی تصور کیا جاتا ہے۔ برطانیہ، کینیڈا، آسٹریلیا، جرمنی اور خلیجی ممالک میں تربیت یافتہ نرسوں کی مسلسل طلب موجود ہے۔ پاکستان میں نرسنگ کے تقریباً 167 تربیتی ادارے ہیں، لیکن 26 کروڑ سے زائد آبادی کی ضروریات کے مقابلے میں یہ تعداد ناکافی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ نرسنگ تعلیم کے معیار اور دائرہ کار دونوں کو وسعت دی جائے۔ اگر ہم اس شعبے میں سرمایہ کاری کریں تو نہ صرف ملکی ضروریات پوری ہو سکتی ہیں بلکہ عالمی منڈی کیلئےافرادی قوت فراہم کر کے قیمتی زرمبادلہ بھی حاصل کیا جا سکتا ہے۔
فارمیسی کا شعبہ بھی ہمارے ہاں شدید نظرانداز کیا جاتا ہے۔ جدید طبی نظام میں کلینکل فارماسسٹ مریض کی ادویاتی حفاظت کا ضامن سمجھا جاتا ہے۔ ادویات کے مضر اثرات، غلط خوراک، غیر ضروری ادویات اور اینٹی بائیوٹکس کے بے جا استعمال کو کم کرنے میں فارماسسٹ بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ پاکستان میں اینٹی بائیوٹکس کے غیر محتاط استعمال کے باعث ادویاتی مزاحمت ایک قومی مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔ اس چیلنج سے نمٹنے کیلئے کلینکل فارماسسٹس کو صحت کے نظام میں مؤثر مقام دینا ہوگا۔ اسی طرح میڈیکل لیبارٹری سائنسز، ریڈیالوجی، اینستھیزیا، فزیوتھراپی، کارڈیک ٹیکنالوجی اور دیگر الائیڈ ہیلتھ شعبے بھی صحت کے نظام کے بنیادی ستون ہیں۔ ایک بہترین ڈاکٹر بھی درست تشخیص نہیں کر سکتا جب تک اسے معیاری لیبارٹری اور تشخیصی معاونت میسر نہ ہو۔ اس حقیقت کے باوجود ہمارے تعلیمی اور سماجی رویے ان شعبوں کو ثانوی حیثیت دیتے ہیں، جسکے نتیجے میں تربیت یافتہ افرادی قوت کی کمی پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستان کا ایک اور بڑا مسئلہ طبی ماہرین کا بیرونِ ملک انخلا ہے۔ حکومت ایک ڈاکٹر، نرس یا دیگر طبی ماہر کی تربیت پر بھاری وسائل خرچ کرتی ہے، مگر بہتر مواقع، زیادہ تنخواہوں اور پیشہ ورانہ تحفظ کی تلاش میں بڑی تعداد میں یہ افراد بیرونِ ملک چلے جاتے ہیں۔ نتیجتاً پاکستان اپنے خرچ پر طبی افرادی قوت تیار کرتا ہے جبکہ اسکے ثمرات ترقی یافتہ ممالک سمیٹ لیتے ہیں۔اس صورتحال کا حل صرف مزید میڈیکل کالج کھولنا نہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ نرسنگ، فارمیسی اور الائیڈ ہیلتھ سائنسز کیلئے جدید سروس اسٹرکچر تشکیل دیا جائے، ان کی تنخواہوں اور مراعات کو بہتر بنایا جائے اور ترقی کے مساوی مواقع فراہم کیے جائیں۔ نرسنگ اور الائیڈ ہیلتھ سائنسز کی خصوصی جامعات قائم کی جائیں، نصاب کو عالمی معیار سے ہم آہنگ کیا جائے ۔مزید یہ کہ صحت کے شعبے میں انسانی وسائل کی منصوبہ بندی کو قومی ترجیح بنایا جانا چاہیے۔ جس طرح انجینئرنگ، آئی ٹی اور دیگر شعبوں کیلئے طویل المدت حکمت عملی مرتب کی جاتی ہے، اسی طرح نرسنگ، فارمیسی اور الائیڈ ہیلتھ سائنسز کی مستقبل کی ضروریات کا سائنسی تخمینہ لگا کر افرادی قوت کی تیاری کو قومی پالیسی کا حصہ بنانا ہوگا۔
میڈیا، تعلیمی اداروں اور پالیسی سازوں کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ نوجوانوں اور والدین کو یہ باور کرانے کی ضرورت ہے کہ صحت کا نظام صرف ڈاکٹروں کے سہارے نہیں چل سکتا۔ نرس، فارماسسٹ، لیبارٹری سائنسدان، فزیوتھراپسٹ اور دیگر طبی ماہرین بھی اتنے ہی اہم ہیں جتنے ڈاکٹر۔ جب تک معاشرہ ان پیشوں کو مساوی عزت اور بہتر پیشہ ورانہ مواقع فراہم نہیں کرے گا، صحت کے شعبے میں مطلوبہ توازن پیدا نہیں ہو سکے گا۔وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنی قومی ترجیحات پر نظرِ ثانی کریں۔ اگر ہم نے صحت کے شعبے کو صرف ڈاکٹروں کی تعداد بڑھانے تک محدود رکھا تو اسپتالوں کی عمارتیں تو بڑھتی رہیں گی مگر علاج کا معیار بہتر نہیں ہو سکے گا۔ پاکستان کاطبی مستقبل صرف مزید ڈاکٹروں میں نہیں بلکہ ایک متوازن، تربیت یافتہ اور بااختیار میڈیکل فورس میں پوشیدہ ہے۔