پاکستانی اداکارہ مومنہ اقبال نے معروف مذہبی اسکالر ناصر مدنی کو مبینہ ہتک آمیز اور جھوٹے الزامات پر قانونی نوٹس بھجوا دیا۔
اداکارہ کی جانب سے ان کے وکیل ایڈووکیٹ عدنان احسن خان کے ذریعے بھیجے گئے نوٹس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ ناصر مدنی فوری طور پر سوشل میڈیا پر موجود وہ تمام مواد ہٹا دیں جس میں مومنہ اقبال کے خلاف مبینہ طور پر جھوٹے، ہتک آمیز اور ساکھ کو نقصان پہنچانے والے دعوے کیے گئے ہیں۔
قانونی نوٹس کے مطابق ناصر مدنی کی ایک سوشل میڈیا ویڈیو میں کیے گئے بعض بیانات اداکارہ کی کردار کشی اور آن لائن ہراسانی کے مترادف ہیں، جن سے مومنہ اقبال کی ذاتی و پیشہ ورانہ ساکھ، سماجی حیثیت اور ذہنی و جذباتی صحت کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
مومنہ اقبال نے نوٹس میں ان الزامات کو مسترد کیا ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ انہیں کسی شخص کی جانب سے مالی مدد، تحائف، موبائل فون یا تعلیمی اخراجات کی ادائیگی کی گئی، اداکارہ کی قانونی ٹیم نے ان دعوؤں کو من گھڑت، بدنیتی پر مبنی اور حقائق کے منافی قرار دیا ہے۔
نوٹس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ اس قسم کے الزامات کی تشہیر پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (PECA) 2016ء، ہتکِ عزت آرڈیننس 2002ء اور پاکستان پینل کوڈ کی متعلقہ دفعات کی خلاف ورزی ہیں۔
قانونی مطالبات کے تحت ناصر مدنی سے کہا گیا ہے کہ وہ فوری طور پر تمام مبینہ ہتک آمیز مواد سوشل میڈیا سے ہٹائیں، اپنے بیانات واپس لیں اور عوامی سطح پر معافی نامہ جاری کریں۔
نوٹس میں خبردار کیا گیا ہے کہ مقررہ مدت کے اندر مطالبات پورے نہ کیے گئے تو ان کے خلاف فوجداری کارروائی شروع کی جا سکتی ہے۔
واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں مومنہ اقبال نے سوشل میڈیا پر بھی اپنے خلاف جاری مبینہ ہراسانی اور کردار کشی پر کھل کر اظہارِ خیال کیا تھا، جس کے بعد یہ قانونی پیش رفت سامنے آئی ہے۔