• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

’ویری گڈ، وی لو پاکستان‘ یہ الفاظ کسی محب وطن پاکستانی کے نہیں بلکہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس سے منسوب ہیں جو انہوں نے سوئٹزرلینڈ میں امریکہ ایران مذاکرات کے دوران پاکستان کا کردار سراہتے ہوئے ادا کئے۔ عالمی سفارتی حلقوں اور ذرائع ابلاغ میں اس نوعیت کے جملے گونج رہے ہیں۔یہ الفاظ ایک بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے کی علامت ہیں۔ ذرائع ابلاغ میں آنے والی بعض اطلاعات کے مطابق امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہتے ہوئے مثبت کلمات ادا کئے۔ لیکن ایک حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ حالیہ مہینوں میں پاکستان ایک مرتبہ پھر عالمی سفارت کاری کے افق پر نمایاں دکھائی دے رہا ہے۔بین الاقوامی تعلقات کی تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں میدانوں میں جیتی جا سکتی ہیں مگر پائیدار امن مذاکرات کی میز پر ہی جنم لیتا ہے۔ دنیا کے بڑے تنازعات کا انجام آخرکار سفارت کاری ہی کے ذریعے ہوا۔ ویتنام جنگ کے خاتمے سے لیکر کیمپ ڈیوڈ معاہدے تک، شمالی آئرلینڈ کے گڈ فرائیڈے معاہدے سے لیکر مشرق وسطیٰ میں ہونیوالی مختلف مفاہمتی کوششوں تک، ہر جگہ مذاکرات کاروں نے وہ کردار ادا کیا جو توپ و تفنگ ادا نہ کر سکیں۔

ایک اچھا مذاکرات کار صرف دو فریقوں کے درمیان پیغام رساں نہیں ہوتا بلکہ اعتماد کا پل بن جاتا ہے۔ وہ کشیدگی کو مکالمے میں، دشمنی کو مفاہمت میں اور تصادم کو تعاون میں بدلنے کی کوشش کرتا ہے۔ عالمی سیاست میں یہ مقام ہر ملک کو نصیب نہیں ہوتا۔ صرف وہی ممالک ثالثی کا کردار ادا کر سکتے ہیں جن پر مختلف فریق اعتماد کرتے ہوں۔

یہاں پاکستان کی سفارتی تاریخ کا ایک دلچسپ پہلو بھی سامنے آتا ہے۔ ایک وقت ایسا تھا جب پاکستان کو سفارتی تنہائی کا شکار قرار دیا جاتا تھا۔ عالمی فورمز پر ہماری آواز کمزور محسوس ہوتی تھی۔ خطے کے اہم معاملات میں ہمیں اکثر دفاعی پوزیشن اختیار کرنا پڑتی تھی۔ بعض بین الاقوامی مبصرین تو یہ سوال اٹھانے لگے تھے کہ کیا پاکستان عالمی سیاست میں اپنا روایتی وزن کھو چکا ہے؟لیکن آج عالمی حقائق یکسر بدل چکے ہیں۔ آج اگر پاکستان کے بارے میں دنیا میں گفتگو ہو رہی ہے، اگر عالمی طاقتیں اسلام آباد کے کردار کو اہمیت دے رہی ہیں اور اگر پاکستان کو ممکنہ ثالث یا سہولت کار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے تو یہ ایک مثبت تبدیلی کی نشاندہی ہے۔

اس تناظر میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا کردار خصوصی توجہ کا مستحق ہے۔ انہوں نے نہ صرف قومی سلامتی کے معاملات میں قائدانہ صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا بلکہ بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے مؤقف کو مؤثر انداز میں اجاگر کرنے کی کوشش بھی کی۔ عالمی قیادت سے روابط، خطے میں استحکام کے لیے کوششیں اور پاکستان کے اسٹرٹیجک مفادات کا دفاع ان کی حکمت عملی کا نمایاں حصہ رہے ہیں۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے پاکستان کے عالمی کردار میں نمایاں تبدیلی اس وقت آئی جب پاکستان کی مسلح افواج نے آپریشن بنیان مرصوص' کے ذریعے دشمن کو دھول چٹا دی۔تب سے لیکر اب تک پاکستان کا ہر قدم بلندی کی طرف جا رہا ہے فیلڈ مارشل کے متعلق صدر ٹرمپ،جے ڈی وینس اور ایرانی قیادت یکساں طور پر تعریف میں رطب اللسان ہے۔اسی طرح وزیر اعظم شہباز شریف نے بھی مختلف عالمی فورمز پر پاکستان کا مقدمہ بھرپور انداز میں پیش کیا ہے۔ معاشی تعاون، علاقائی روابط، سرمایہ کاری اور امن کے فروغ کے حوالے سے انکے سفارتی رابطے پاکستان کے لیے نئے مواقع پیدا کر رہے ہیں۔ دفتر خارجہ کا کردار بھی کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ پاکستانی سفارتکاروں نے گزشتہ برسوں میں متعدد عالمی دارالحکومتوں میں پاکستان کے مؤقف کی مؤثر ترجمانی کی ہے۔ ایک جدید سفارت کار صرف سیاسی معاملات نہیں دیکھتا بلکہ معیشت، تجارت، سرمایہ کاری، ثقافت اور عوامی روابط کو بھی اپنی ذمہ داری سمجھتا ہے۔ پاکستانی سفارت کاری اب اسی نئے تصور کی طرف بڑھتی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی اپنے مختلف بین الاقوامی رابطوں اور سکیورٹی تعاون کے معاملات میں پاکستان کی نمائندگی کی۔تاہم سفارتی کامیابیوں کا اصل امتحان یہ ہے کہ انہیں قومی ترقی، اور داخلی استحکام میں کیسے بدلا جاتا ہے۔ اگر بہتر سفارتی تعلقات سرمایہ کاری لائیں، اگر عالمی اعتماد معاشی مواقع میں تبدیل ہو، اگر امن کی کوششیں خطے میں استحکام پیدا کریں اور اگر پاکستان کی مثبت شناخت مزید مضبوط ہو تو یہ کامیاب سفارت کاری کا حقیقی ثمر ہوگا۔

آج دنیا اگر پاکستان نے عالمی سطح پر متحارب قوتوں کو مذاکرات کی میز پر بٹھانے میں کردار ادا کیا ہے تو یہ ایک بڑی سفارتی کامیابی ہے۔ لیکن اس کامیابی کا سب سے خوبصورت تسلسل یہ ہوگا کہ اب ہم اپنے گھر کے اندر بھی مکالمے کی روایت کو فروغ دیں۔ اپنے ملک میں بھی اتفاق، برداشت اور سیاسی رواداری کی فضا پیدا کرنا ہوگی۔آج پاکستان کو جس قدر معاشی، سیاسی اور سماجی چیلنجز کا سامنا ہے، ان کا حل محاذ آرائی میں نہیں بلکہ مذاکرات میں پوشیدہ ہے۔ سیاسی درجہ حرارت کو کم کرنا وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ اختلافات اپنی جگہ، لیکن قومی مفاد سب سے مقدم ہونا چاہیے۔ مقبول سیاسی قیادتوں کو سیاسی عمل میں بھرپور کردار ادا کرنے کا موقع دینا، جمہوری اداروں کو مضبوط بنانا اور تمام اسٹیک ہولڈرز کو ایک میز پر لانا ہی قومی استحکام کی ضمانت بن سکتا ہے۔

دنیا میں پاکستان کا پرچم اس وقت اس لئے بلند نظر آ رہا ہے کہ اس نے مکالمے اور مفاہمت کی زبان بولی ہے۔ یہی زبان اگر اسلام آباد، لاہور، کراچی، پشاور اور کوئٹہ کے سیاسی ایوانوں میں بھی سنائی دینے لگے تو شاید ہماری بہت سی اندرونی الجھنیں سلجھ جائیں۔ عالمی مذاکرات کی کامیابی اپنی جگہ، مگر پاکستان کی اصل فتح اس دن ہوگی جب ہم اپنوں کے ساتھ بھی بات چیت کے دروازے کھول دینگے اور قومی یکجہتی کو سیاسی ترجیحات پر فوقیت دیں گے۔

تازہ ترین