روس میں ایک شاپنگ سینٹر نے دنیا کا پہلا انڈور مچھلیوں کا تالاب کھولنے کا منصوبہ بنایا ہے۔
ماسکو کے گاگارنسکی شاپنگ سینٹر کے اعلان کے مطابق وہ اس سال دنیا کا پہلا انڈور فشنگ پونڈ کھول رہے ہیں تاکہ وہاں آنے والے افراد کو ایک منفرد تفریحی فراہم کی جا سکے۔
عام طور پر ماہی گیری کو ایک بیرونی سرگرمی سمجھا جاتا ہے، لیکن ماسکو کا یہ شاپنگ سینٹر اس تصور کو بدلنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اس مقصد کے لیے 10×3 میٹر کا ایک مصنوعی تالاب بنایا جائے گا جس میں مختلف اقسام کی مچھلیاں، جیسے کارپ، کروشین کارپ، ٹینچ، بریم، پرچ اور کیٹ فش شامل ہوں گی اور بیک وقت 16 افراد اس تالاب میں ماہی گیری کر سکیں گے۔
ماہی گیری کے لیے درکار فشنگ راڈز اور چارہ موقع پر ہی فراہم کیا جائے گا۔ تالاب کے اندر ہونے والی سرگرمیوں کو زیر آب نصب کیمروں کی مدد سے ایک بڑی اسکرین پر بھی دکھایا جائے گا تاکہ وہاں آنے والے مچھلیوں کی حرکات و سکنات کو براہ راست دیکھ سکیں۔
ابھی یہ واضح نہیں کہ یہ منصوبہ سنجیدہ ماہی گیروں کے لیے ایک حقیقی کشش کا باعث ہوگا یا پھر ان مرد حضرات کی تفریح کے لیے تیار کیا جا رہا ہے جو خریداری کے دوران اپنی شریکِ حیات کا انتظار کرتے ہیں۔
منصوبے کے تخلیق کاروں کے مطابق یہ انڈور فشنگ پونڈ شاپنگ سینٹر کے اندر ایک قدرتی جزیرہ ثابت ہوگا۔ ماہی گیری کے دوران پرندوں کی چہچہاہٹ اور مینڈکوں کی آوازیں سنائی جائیں گی تاکہ ایک پرسکون، آرام دہ اور قدرتی ماحول پیدا کیا جا سکے۔
یہ واضح نہیں ہے کہ اندرونی تالاب کب کھلے گا یا وہاں مچھلی پکڑنے کی کتنی فیس ہوگی، لیکن بعض ذرائع کا خیال ہے کہ یہ شاید مفت ہو، کیونکہ کسی کو بھی پکڑی گئی مچھلی اپنے ساتھ لے جانے کی اجازت نہیں ہوگی۔ تمام مچھلیوں کو دوبارہ تالاب میں چھوڑنا ہوگا، البتہ مچھلی پکڑنے والوں کو پوائنٹس دیے جائیں گے جنہیں وہ شاپنگ سینٹر میں مختلف اشیاء حاصل کرنے کے لیے استعمال کر سکیں گے۔