ایک نایاب فلکیاتی نظارہ آپ کا منتظر ہے، آج 8 جولائی بروز بدھ پاکستانی وقت کے مطابق تقریباً 4 بجے کر 10 منٹ پر دنیا کی تقریباً 99 فیصد آبادی بیک وقت سورج کی روشنی یا شفق کا مشاہدہ کرے گی۔
الجزیرہ کے مطابق زمین کے جھکاؤ اور شمالی نصف کرۂ ارض میں موسمِ گرما کے دورانیے کے باعث تقریباً 99 فیصد عالمی آبادی، یعنی تقریباً 8.2 ارب افراد، 8 جولائی کو ایک مختصر وقت کے لیے یا تو مکمل دن کی روشنی میں ہوں گے یا شفق کے 3 مراحل میں سے کسی 1 کا مشاہدہ کر رہے ہوں گے۔
ماہرین کے مطابق یہ غیر معمولی صورتِ حال زمین کے جھکاؤ اور شمالی نصف کرۂ ارض میں موسمِ گرما کے دوران دن کے طویل ہونے کے باعث پیدا ہوتی ہے۔
یہ دورانیہ صرف تقریباً 1 منٹ تک جاری رہے گا، جس کے دوران دنیا کے سب سے زیادہ آبادی والے علاقے سورج کی روشنی میں ہوں گے، جبکہ صرف 1 محدود حصہ رات کے اندھیرے میں ہو گا۔
اس موقع پر شمالی امریکا، جنوبی امریکا، یورپ، افریقا اور ایشیاء کے بیشتر حصوں پر دن کی روشنی پھیلی ہو گی، جہاں دنیا کی بڑی آبادی آباد ہے، تاہم آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، جنوب مشرقی ایشیاء کے بعض حصوں، انٹارکٹیکا اور ارد گرد کے سمندری علاقوں میں رات کا وقت برقرار رہے گا۔
رپورٹ کے مطابق ایسی صورتِ حال ہر سال تقریباً 60 دن تک روزانہ پیش آتی ہے، جو لگ بھگ 18 مئی سے 17 جولائی تک جاری رہتی ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ 2022ء میں سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک پوسٹ کے بعد یہ واقعہ خاص طور پر 8 جولائی سے منسلک ہو گیا تھا، تاہم ٹائم اینڈ ڈیٹ (Time and Date) کی جانب سے کیے گئے حقائق کی جانچ میں بتایا گیا ہے کہ دنیا کے مختلف حصوں میں روشنی کا یہ باہمی ملاپ اس پورے عرصے کے دوران ہوتا رہتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق فلکیاتی مظہر کے عروج کے وقت تقریباً 83 فیصد عالمی آبادی مکمل دن کی روشنی میں ہو گی، جبکہ مزید 16 فیصد افراد شہری شفق، بحری شفق یا فلکیاتی شفق کے مراحل میں ہوں گے، جبکہ دنیا کی تقریباً 1 فیصد آبادی ایسے علاقوں میں ہو گی جہاں مکمل تاریکی برقرار رہے گی۔
