• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مشرقِ وسطیٰ کی تاریخ 18 جون کے سورج کے طلوع اور غروب کے درمیان ایک نئے عہد میں داخل ہو چکی ہے۔ دہائیوں سے چلی آرہی اس سرد جنگ کو جس طرح اسلام آباد کی مدبرانہ سفارت کاری نےروکاہے، اس نے پوری دنیا کو ششدر کر دیا ہے۔ امریکہ اور ایران ، دو ایسے قطبین جن کا ایک میز پر بیٹھنا تو دور، ایک دوسرے کی طرف دیکھنا بھی بارود کی بو پھیلا دیتا تھا ، 18 جون کو ایک تاریخی مفاہمتی یادداشت(MOU)جسے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کا نام دیا گیا ہے پر دستخط کر کے امن کی نئی راہ پر گامزن ہو چکے ہیں۔ اس کرشمہ سازی کا ہیرواور اس کا واحد معمارپاکستان ہے۔آج دنیا بھر کا میڈیا اور بین الاقوامی رہنما جس والہانہ انداز میں پاکستان کی عظمت، بصیرت اورسفارتی قد کاٹھ کا اعتراف کر رہے ہیں، اس نے ہر پاکستانی کا سر فخر سے بلند کر دیا ہے۔پاکستان نے ہمیشہ دنیا کے سامنے یہ موقف رکھا کہ ہم جنگوں میں کسی کا حصہ نہیں بنیں گے، ہم صرف امن کے شراکت دار ہیں اور 18 جون کو پاکستان نے اپنے اس عزم کو سچ کر دکھایا۔ جب دنیا کی بڑی طاقتیں، اور یورپی اتحاد ان دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی مٹانےمیں ناکام ہو چکے تھے، تب پاکستانی سفارت کاروں، عسکری قیادت اور سیاسی مدبرین نے ایک خاموش لیکن انتہائی جارحانہ بیک چینل سفارتکاری کا آغاز کیا۔تہران سے لے کر واشنگٹن تک، پاکستانی وفود نے مہینوں تک دن رات ایک کیے رکھے۔ پاکستان نے کسی ذاتی مفاد کے بغیر، صرف خطے کو ایک بڑی تباہی سے بچانے اور مسلم امہ سمیت پوری انسانیت کی بھلائی کیلئے اپنے تعلقات کو داؤ پر لگایا۔ تہران کو اسلام آباد کی نیت پر شبہ تھا نہ واشنگٹن کو پاکستان کی دیانت داری پر شک۔ یہی وہ بے داغ کردار تھا جس نے دو بڑے حریفوں کو مذاکرات پر آمادہ کیا ۔جیسے ہی دستخط کی خبر عام ہوئی، دنیا بھر کے دارالحکومتوں سے پاکستان کیلئے تہنیتی پیغامات اور مبارکبادوں کا تانتا بندھ گیا ۔

ترکیہ (صدر رجب طیب اپردوان کا جذباتی بیان):آج میرا دل اپنے پاکستانی بھائیوں کیلئے فخر سے لبریز ہے۔ پاکستان نے امتِ مسلمہ کے ماتھے کا جھومر بن کر دکھایا ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان یہ مفاہمت پاکستان کے خلوص، اس کی طاقت اور اس کی لازوال سفارتی صلاحیت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ آفرین ہے پاکستان کی قیادت پر!۔سعودی عرب (شاہی ایوان کا بیان):ہم برادر ملک پاکستان کو اس عظیم الشان کامیابی پر دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتے ہیں۔ پاکستان نے امتِ مسلمہ کا سر فخر سے بلند کر دیا ہے۔ خطے میں امن کیلئے پاکستان کا یہ کردار ہمیشہ یاد رکھا جائیگااور سعودی عرب اس کا بھرپور خیرمقدم کرتا ہے۔چین (صدر شی جن پنگ کا خصوصی پیغام):ہمارا آئرن برادرپاکستان دنیا میں امن کا حقیقی علمبردار ہے۔ چین کو اپنے اس اسٹرٹیجک پارٹنر پر فخر ہے۔ پاکستان کی اس کاوش نے ایشیا میں استحکام اور ترقی کے ایک نئے دور کی بنیاد رکھ دی ہے۔ یہ ایک عظیم قوم کا عظیم کارنامہ ہے۔روس (صدر ولادیمیر پیوٹن کا بیان):ہم پاکستان کی اس شاندار سفارتی کامیابی کو سلام پیش کرتے ہیں۔ پاکستان نے ثابت کیا ہے کہ پیچیدہ ترین عالمی مسائل گولیوں سے نہیں بلکہ اسلام آباد جیسی دور اندیش قیادت کی بدولت مذاکرات سے حل ہو سکتے ہیں۔ ماسکو پاکستان کی اس کامیابی کو سراہتا ہے۔برطا نیہ ( وزیراعظم کیئر سٹارمر کا بیان):ہم پاکستان کی حکومت اور عوام کو اس تاریخی بریک تھرو پر مبارکباد پیش کرتے ہیں۔ پاکستان نے دنیا کو دکھا دیا ہے کہ وہ عالمی برادری کا ایک انتہائی ذمہ دار اور ناگزیر رکن ہے۔

دنیا بھر کے اخبارات، نیوز چینلز اور تجزیہ کاروں نے 18 جون کی شام سے ہی پاکستان کی وہ پذیرائی کی جسکی نظیر نہیں ملتی۔ ۔سی این این (CNN):یہ واشنگٹن یا تہران کی فتح نہیں، یہ پاکستان کی فتح ہے۔ اسلام آباد نے ثابت کر دیا ہے کہ عالمی سیاست کا مرکز اب تبدیل ہو چکا ہے اور پاکستان کو نظرانداز کر کے دنیا کا کوئی بڑا مسئلہ حل نہیں کیا جا سکتا۔دی گارڈین (The Guardian): پاکستان نے دنیا کو تیسری جنگِ عظیم کے دہانے سے پیچھے کھینچ لیا۔ جس مہارت اور رازداری سے پاکستان نے اس تعطل کو توڑا، وہ دنیا کی سفارتی تاریخ کے نصاب کا حصہ بننے کے لائق ہے۔رائٹرز (Reuters):ایک ایسے وقت میں جب دنیا پاکستان کو معاشی مشکلات میں گھرا دیکھ رہی تھی، اس ملک نے وہ سفارتی دھماکہ کیا ہے جس نے عالمی طاقتوں کے توازن کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ پاکستان اب صرف ایک علاقائی قوت نہیں، عالمی امن کا ضامن بن چکا ہے۔لی موند (Le Monde - فرانس):پیرس سے لے کر برلن تک جو کام یورپی یونین نہ کر سکی، وہ پاکستان نے اتنی آسانی سے کیسے کر دکھایا۔ پاکستان کا یہ کردار تاریخ ساز ہے۔ عالمی مالیاتی اداروں سے لے کر دنیا کے بڑے بڑے تھنک ٹینکس تک، ہر جگہ اب صرف پاکستان کی حکمتِ عملی کی دھوم ہے۔ وہ ممالک جو کبھی پاکستان سے کھنچے کھنچے رہتے تھے، آج اسلام آباد کے ساتھ اپنے تعلقات کو نئے سرے سے استوار کرنے کیلئے قطار میں کھڑے ہیں۔دنیا بھر میں مقیم کروڑوں اوورسیز پاکستانیوں کا سر فخر سے بلند ہے، ان کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو ہیں کیونکہ پاکستان نے ثابت کر دیا ہے کہ ہمارے پاس صرف ایٹمی صلاحیت ہی نہیں، بلکہ دنیا کے دلوں کو جیتنے اورٹوٹے ہوئے دلوں کو جوڑنے کی سفارتی صلاحیت بھی موجود ہے۔18 جون، 2026 کا یہ دن پاکستان کی تاریخ میں ایک ایسے موڑ کے طور پر یاد رکھا جائیگا جہاں سے ہمارے ملک کی تقدیر نے ایک نئی اور روشن کروٹ لی۔ ہم نے دنیا کو بتا دیا ہے کہ پاکستان کو جھکایا نہیں جا سکتا، پاکستان کو تنہا نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان امن کا وہ چراغ ہے جسکی روشنی سے اب پوری دنیا منور ہو رہی ہے۔

تازہ ترین