وزیراعظم شہباز شریف نے یومِ عاشور پر اپنے پیغام میں کہا کہ یو مِ عاشور اسلامی تاریخ کا ایک فکر انگیز دن ہے، جو نوع انسانی کو ایمان، صبر و استقامت، ایثار اور حق پسندی کے اسباق سے روشناس کراتا ہے۔
اسلام آباد سے جاری اپنےبیان میں وزیر اعظم نے کہا یہ دن اللہ تعالیٰ کی نصرت، اہلِ ایمان کی کامیابی اور حق کی سربلندی کے لیے قربانیوں کے عظیم واقعات کی یاد دہانی ہے، حضرت امام حسینؓ اور ان کے جانثار رفقا کی عظیم قربانی نے یومِ عاشور کو تاریخِ اسلام میں دائمی اہمیت کا حامل بنا دیا۔
وزیر اعظم نے کہا کہ واقعہ کربلا پیغام دیتا ہے کہ اصولوں اور اقدار کی پاسداری ایک باوقار اور مہذب معاشرے کی بنیاد ہے، حضرت امام حسینؓ نے ثابت کیا کہ حق و صداقت کے لیے قربانی باطل کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنے سے افضل ہے۔
انھوں نے کہا کہ واقعہ کربلا احیائے سنتِ نبوی ﷺ اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے عظیم مقصد کے لیے کاوش کا نام ہے، یہ مقصد انفرادی اور اجتماعی زندگیوں میں عدل و انصاف اور صبر و برداشت کے اوصاف کو فروغ دینے کا تقاضا کرتا ہے۔
وزیر اعظم نے کہا اختلافات، نفرت اور انتشار کے بجائے باہمی احترام اور رواداری پیش نظر ہونی چاہیے، قوم، بالخصوص علما، مشائخ، ذاکرین سے اپیل ہے کہ یومِ عاشور کے حقیقی پیغام کو اجاگر کریں، بین المسالک احترام و ہم آہنگی کو فروغ اور اشتعال انگیزی اور نفرت کا سد باب کریں۔
وزیر اعظم نے کہا آئیے عہد کریں شہدائے کربلا کی عظیم قربانی کی رہنمائی میں حق و انصاف کے ساتھ وابستگی مضبوط کریں گے، آئیے عہد کریں معاشرے کے کمزور اور محروم طبقات کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنائیں گے۔
وزیر اعظم نے کہا ہم اپنے کردار و عمل سے ایک مضبوط، متحد اور پرامن قوم کی تعمیر میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں گے، اللہ تعالیٰ دنیا بھر میں امن و استحکام، امتِ مسلمہ کو اتحاد، اتفاق اور خیر و برکت سے نوازے۔