وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے اور ہیومن آرگن ٹرانسپلانٹ اتھارٹی (ہوٹا) کی مشترکہ ٹیم نے سیکٹر ایف-7 میں کارروائی کرتے ہوئے انسانی اعضا کی مبینہ خرید و فروخت میں ملوث غیرملکی باشندوں سمیت 5 افراد کو گرفتار کر لیا۔
ایف آئی اے کے مطابق چھاپے کے دوران بڑی مقدار میں انسانی پلاسنٹا برآمد کیا گیا، جس میں تازہ، خشک اور پراسیس شدہ پلاسنٹا کا ذخیرہ بھی شامل ہے۔ برآمد شدہ مواد کو قبضے میں لے کر مزید تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا۔
ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزمان مختلف اسپتالوں سے انسانی پلاسنٹا حاصل کرنے میں ملوث تھے۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق پلاسنٹا پشاور، راولپنڈی اور لاہور کے مختلف اسپتالوں سے جمع کیا جاتا تھا۔
تحقیقات کے دوران یہ بھی انکشاف ہوا کہ ملزمان انسانی پلاسنٹا کو بھیڑ کے اعضا ظاہر کرکے بیرون ملک بھجواتے تھے۔ ایف آئی اے کے مطابق ابتدائی شواہد سے معلوم ہوا ہے کہ پراسیس شدہ پلاسنٹا ویتنام برآمد کیا جا رہا تھا۔
حکام کے مطابق پراسیس شدہ پلاسنٹا ادویات اور طبی مصنوعات کی تیاری میں استعمال کیا جاتا ہے۔ ملزمان نے مقامی سہولت کاروں کی مدد سے اس مقصد کے لیے ایک منظم نیٹ ورک قائم کر رکھا تھا۔
ایف آئی اے نے بتایا کہ برآمد شدہ نمونے طبی معائنے اور فارنزک تجزیے کے لیے پمز اسپتال بھجوا دیے گئے ہیں، جبکہ گرفتار ملزمان سے مزید تفتیش جاری ہے۔