وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے ملتان میں صوبائی حکومت کے بجٹ سے انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) پارک بنانے کی تصدیق کردی۔
بجٹ سے متعلق سندھ اسمبلی سے خطاب میں وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے کہا کہ وہاں کے مقامی افراد کہتے ہیں کہ سندھ ہمارے صوبوں میں آکر کام کرے۔
انہوں نے کہا کہ چیلنج کرتے ہیں کوئی ایک روپیہ بھی غلط افراد کو چلا گیا ہو تو ہم ذمے دار ہیں، صوبے کی ترقی کےلیے سب کو متحد ہو کر کام کرنا ہوگا۔ بجٹ میں عوام کو بھرپور ریلیف فراہم کیا گیا۔
وزیراعلیٰ سندھ نے مزید کہا کہ اجلاس میں 143 ارکان نے بات کی، یہاں کہا جاتا ہے کہ ہمیں حق نہیں ہے، شکر کریں کہ آپ کسی اور جگہ نہیں ہیں۔
اُن کا کہنا تھا کہ سندھ سے نکل کر ذرا پنجاب کا بھی رخ کر کے دیکھ لیں، اس سر زمین کی تھوڑی عزت کرلیں۔
سید مراد علی شاہ کا کہنا تھا سانحہ گل پلازا کی رپورٹ جلد پبلک کردی جائے گی، سانحہ گل پلازا کےلیے 8 ارب روپے کی سبسڈی دی گئی۔
انہوں نے کہا کہ ملتان میں آئی ٹی پارک بنا رہے ہیں، وفاق نے ہمیں پیسے دیے ہیں کہ آپ دوسرے صوبوں میں ہمیں منصوبے بنا کردیں۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ سندھ پیپلز ہاؤسنگ صحبت پور بلوچستان میں 2 ارب کے گھر بنا رہی ہے۔ رحیم یار خان، کوٹ ادو، بھیرا اور گجر خان پنجاب میں ایس آئی یو ٹی اسپتال بنارہے ہیں۔
اُن کا کہنا تھا کہ ڈیرہ اسماعیل خان خیبر پختونخوا میں ایس آئی یو ٹی کے اسپتال بنا رہے ہیں، اس وقت وفاقی حکومت کے 4 اور سائٹ کے کچھ سڑکوں میں بڑی مشکل سے سپورٹ کر رہی ہے۔
سید مراد علی شاہ نے کہا کہ کہا گیا کہ 40 ارب روپے کا رمضان پیکیج بھی اسٹنٹ ہے۔ ہم نے کوئی رمضان پیکج نہیں دیا، ایس آئی یو ٹی کو 26 ارب روپے سے زیادہ دے رہے ہیں۔
اُن کا کہنا تھا کہ کراچی میں نیشنل ہائی وے پر حسن سلیمان اسپتال بن رہا ہے، حکومت سندھ مدد کر رہی ہے، اس اسپتال کی 2 سال میں عمارت مکمل ہوگئی ہے، اب فنیشنگ جاری ہے۔
سید مراد علی شاہ نے کہا کہ ہم نے اسپتال کے ذمے داروں سے بات کی اور کہا کہ اسی بجٹ میں یہی اسپتال لاڑکانہ میں بنادیں، این آئی سی وی ڈی پیڈز کارڈیو اس سال مکمل ہوجائے گا۔
انہوں نے کہا کہ سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کا 4 سالہ پرانا مسئلہ لا کر اچھل کود کی گئی، کروڑوں روپے کے کمیشن کا الزام لگایا گیا، میں کہوں گا اس کے ثبوت لاؤ۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ کراچی کےلیے 1700 ارب روپے کے منصوبوں کی بات پر قائم ہیں، یہ ٹھیک ہے کہ کراچی میں سڑکوں کی حالت ٹھیک نہیں، ہم نے تمام سڑکوں کا نقشہ بنالیا ہے، کچھ ایف ڈبلیو او کو دیں گے اور کچھ حکومت بنائے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ سندھ میں گرینائٹ کے ذخائر 500 ارب ڈالر تک کے ہیں لیکن وہ صرف کاغذات میں ہیں، تھر میں 100 یونٹ بجلی کا بل حکومت سندھ ادا کرتی ہے۔
سید مراد علی شاہ نے کہا کہ کراچی میں منور انڈر پاس تقریباً مکمل ہوچکا ہے، جولائی میں اس کو مکمل کرلیا جائے گا۔ عالمی بینک نے سندھ کےلیے ڈھائی ماہ میں ایک اعشاریہ 7 ارب ڈالر منظور کیے، یہ بڑی کامیابی ہے، پبلک پرائیویٹ پارنٹرشپ کو نیکسٹ لیول پر لے جا کر بڑے منصوبے بنائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کی طرف سے کہا گیا کہ 50 ہزار گھر دکھا دیں۔ 10 لاکھ گھر بنا چکے ہیں، 6 لاکھ زیر تکمیل ہیں، تمام گھروں کی جیو لوکیشن لائیو ہے، آپ آئیں ہم 10 لاکھ گھر دکھادیں گے۔ ایک ایک مالک مکان کی تفصیلات موجود ہیں، جن کو تصدیق کرنی ہے، متعلقہ علاقوں میں چلے جائیں، ایک ایک گھر کو دیکھ لیں۔