کراچی (افضل ندیم ڈوگر) جماعت اسلامی پاکستان کے سیکریٹری جنرل امیر العظیم کی مغفرت کیلئے دنیا بھر کے گوردواروں میں دعائیں کی جارہی ہیں جبکہ لاہور میں امیر العظیم کی نماز جنازہ اور تدفین میں سکھ رہنماؤں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ سوئٹزر لینڈ میں مقیم بین الاقوامی سکھ رہنما رنجیت سنگھ میسوتا نے امیر العظیم کے انتقال پر پوری برادری کی طرف سے تفصیلی تعزیتی بیان میں گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ امیر العظیم سکھ برادری کیلئے ایک حقیقی پل کے معمار تھے۔ انہوں نے کہا کہ امیر العظیم کے انتقال کی دلخراش خبر پوری سکھ برادری کیلئے بڑا صدمہ ہے اور ہم ایک ممتاز رہنما، غیرمعمولی انسان، امن، انسانیت اور بین المذاہب ہم آہنگی کے انتھک علمبردار کی رحلت پر سوگوار ہیں۔ امیر العظیم سکھ برادری کیلئے ایک حقیقی پل کے معمار تھے۔ امیر العظیم نے جہاں غیر معمولی خلوص اور عزم کے ساتھ پاکستانی قوم کی خدمت کی وہیں انہوں نے سکھ برادری کیلئے بھی دیانتداری، احترام اور لگن کے ساتھ انمول خدمات انجام دیں۔ رنجیت سنگھ نے کہا کہ امیر العظیم لوگوں کو تقسیم کرنے کی بجائے جوڑنے کے پختہ عمل پر یقین رکھتے تھے۔ امیر العظیم نے زندگی بھر اس عظیم اصول کو اپنے قول و فعل سے دکھایا۔ جس طرح حضرت میاں میر جی کو سری ہرمندر صاحب (دربار صاحب) امرتسر کا سنگ بنیاد رکھنے کیلئے تعظیم دی جاتی ہے، امیر العظیم نے اسی جذبہ محبت، باہمی احترام اور بے لوث خدمت کو اپنی زندگی کے کاموں سے زندہ کیا۔ انہوں نے کہ میں اپنے آپ کو واقعی بابرکت سمجھتا ہوں اور واہگورو کا تہہ دل سے شکر گزار ہوں کہ مجھے امیر العظیم، بھائی شام سنگھ جی، جنرل جاوید ناصر، ویر جی اور بہت سے دوسرے عقیدت مند سیواداروں کے ساتھ گرواردار صاحب کے علاوہ کئی تاریخی گردواروں کی بحالی، تحفظ اور دیکھ بھال (سیوا سنبھل) میں کام کرنے اور خدمت کرنے کا شرف حاصل ہوا جو پاکستان میں 1947 کے بعد نظر انداز ہوگیا تھا۔