• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

چند ہفتے پہلے ایک خوں ریز جنگ کا سبب بننے والے امریکہ ایران تنازعات جن کے ساٹھ دن کے اندر بات چیت کے ذریعے سے مستقل خاتمے کے امکانات اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی شکل میں اُجاگر ہوگئے تھے، ازسرنو بھرپور جنگ میں بدلتے نظر آرہے ہیں۔ اس خطرے کو جنم دینے والے واقعات بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق یہ ہیں کہ واشنگٹن کی جانب سے جمعے کو تہران پر مال بردار بحری جہاز پر حملے کا الزام عائد کئے جانے کے بعد امریکہ اور ایران نے ایک دوسرے پر فوجی حملے کئے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے جمعے کو کہا کہ ایرانی میزائل اور ڈرون ذخیرہ کرنے کے مقامات اور ساحلی ریڈار ٹھکانوں پر امریکی حملے ،ایرانی افواج کی جانب سے تجارتی جہاز رانی کیخلاف بلا جواز جارحیت کا جواب ہیں، جو جنگ بندی کی واضح خلاف ورزی ہے۔ سینٹ کام نے اس آپریشن کو آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ایک تجارتی جہاز پر گزشتہ روز کیے گئے حملے کا جواب قرار دیا۔دوسری جانب ایرانی سرکاری ٹیلیویژن نے بتایا کہ جمعے کی رات گئے جنوبی ساحلی شہر میں طاہرویہ کے گھاٹ پر ایک دھماکا سنا گیا۔ بعدازاں ایرانی وقت کے مطابق ہفتےکی صبح سرکاری ٹیلی ویژن نے خبر دی کہ پاسداران انقلاب نے امریکی حملوں کے جواب میں خلیجی خطے میں امریکی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔ ٹیلیگرام پر سرکاری ٹی وی کی ایک پوسٹ کے مطابق، پاسداران انقلاب نے کہا کہ ’اگر جارحیت کو دہرایا گیا تو ہمارا جواب اس سے زیادہ شدید ہو گا۔‘ ایران نے بحری جہازوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ بغیر اجازت آبنائے کے راستے خلیج میں داخل نہ ہوں اور نہ ہی وہاں سے نکلیں، لیکن جہازوں کی نقل و حرکت جاری ہے اور کچھ تہران کی جانب سے غیر منظور شدہ راستہ بھی استعمال کر رہے ہیں۔ دوسری جانب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے جمعے ہی کو ایران کو خبردار کیا کہ اگر اس نے مزید کوئی حملہ کیا تو سخت جواب دیا جائیگا۔ جے ڈی وینس نے ایکس پر مفاہمت کی اس یادداشت کا حوالہ دیتے ہوئے پوسٹ کیا کہ ’ایران نے جنگ بندی کے معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ ہم نے اسکی پاسداری کی ہے۔ اگر انہیں مفاہمت کی یادداشت پر عمل درآمد کے حوالے سے کوئی اختلاف ہے تو وہ فون کر سکتے ہیں، لیکن تشدد کا جواب تشدد سے دیا جائیگا۔ یہ صورتحال ایران وامریکہ اور انکے اتحادیوں ہی کیلئے نہیں، پوری دنیا کیلئےسنگین خطرے کا سگنل ہے کیونکہ یہ ایسی عالمی جنگ کا باعث بن سکتی ہے جو پورے کرہ ارض کیلئے انتہائی تباہ کن ثابت ہوگی جبکہ شرقِ اوسط اسکا خاص طور پر ہدف بنے گا۔ اسکا محددو مظاہرہ مارچ اور اپریل میں اسرائیل اور امریکہ کے حملوں کے جواب میں امریکہ کی اتحادی خلیجی ریاستوں پر ایران کے میزائل حملوں کا محتاط جواب دینے کی کارروائیوں کی شکل میں ہوچکا ہے۔ اس صورتحال کا بڑے پیمانے پر رونما ہونا گریٹر اسرائیل کو اپنا روحانی مشن قرار دینے والے نیتن یاہو کی دلی تمنا ہے۔ مسلم دنیا کو یہ حقیقت فراموش نہیں کرنی چاہئے کہ اسرائیلی حکمت کاروں کے عشروں پرانے منصوبوں میں ایران اور عرب ممالک ہی نہیں، پاکستان کو بھی کئی حصوں میں بانٹنے کے ارادوں کا اظہار عَلانیہ کیا گیا ہے۔ اسرائیل کے حدود نیل سے فرات تک وسیع کرنے کو بائبل کے احکام کا تقاضا قرار دینے والے صہیونی حکمراں آٹھ دہائیوں سے بتدریج اس منزل کی جانب پیش قدمی کررہے ہیں۔ پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت نے مسلم دنیا کو باہمی جنگ میں الجھانے کی اسرائیلی کوششوں کو ناکام بنانے ہی کی خاطر نہایت فراست کیساتھ تل ابیب کو تمام معاملات سے الگ تھلگ کرکے امریکہ اور ایران میں پائیدار جنگ بندی ممکن بنائی ہے۔ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت ، ایران اور امریکہ دونوں کے مفاد میں ہونے کیساتھ ساتھ عالمی امن کی ضمانت ہے۔ اسی وجہ سے دنیا بھر میں اسکا پرجوش خیرمقدم کیا گیا اور اس کاوش پر پوری عالمی برادری پاکستان کی شکر گزار ہوئی۔ اس مفاہمت نامے نے ایران کیلئے پانچ دہائیوں سے عائد پابندیوں کے علاوہ عالمی تنہائی کے مستقل خاتمے اور سینکڑوں ارب ڈالروں کی واپسی کے راستے کھولے ہیں۔ تیل اور گیس کی پائپ لائن تعمیر کرکے پاکستان ہی نہیں چین اور بھارت تک اسے پہنچانے نیز عرب اور مسلم ملکوں سمیت پوری دنیا سے تجارت کے امکانات روشن کردیے ہیں جس کے نتیجے میں ایران چند برسوں میں دنیا کے امیر ترین ملکوں میں شامل ہوسکتا ہے۔ پاکستان، ایران، ترکی، سعودی عرب اور قطرکا دفاعی اور معاشی اتحادتشکیل دینے کا منصوبہ پایہ تکمیل تک پہنچاکر پورے خطے کی سلامتی اور خوشحالی یقینی بنائی جاسکتی اور گریٹر اسرائیل کے منصوبے کو ہمیشہ کیلئے دفن کیا جاسکتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ ایرانی عوام اور قیادت سب نے اس مفاہمت پر دلی مسرت کا پرجوش اظہار کیا اور ایرانی صدر مفاہمتی یادداشت پر دستخطوں کے فوراً بعد پاکستانی قیادت کا شکریہ اداکرنے کیلئے بنفس نفیس اسلام آباد آئے۔ لہٰذا دانشمندی کا تقاضا ہے کہ ایران کی جانب سے کوئی ایسا قدم نہ اٹھایا جائے جسے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی قرار دے کر اسرائیلی لابی امریکی قیادت کو ایران کیخلاف دوبارہ بھرپور جنگ شروع کرنے پرآمادہ کرسکے۔ آبنائے ہرمز پر کنٹرول ایران کا حق ہے لیکن کم از کم بات چیت کے ساٹھ دنوں میں کسی فوجی کارروائی سے مکمل گریز کیا جائے ۔ امریکہ کے نائب صدر ڈی جے وینس کا یہ مؤقف درست نظر آتا ہے کہ مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی کی شکایت ہو توڈرون حملوں کے بجائے تہران واشنگٹن سے فون پر براہ راست رابطہ کرے۔ ایران کی ہوشمند اور صاحب بصیرت قیادت اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی پاسداری کرکے گریٹر اسرائیل کا منصوبہ ہمیشہ کیلئے ناکام بناسکتی ہے جبکہ دوسرا راستہ یقینی طور پر نیتن یاہو کی دلی مرادوں کی تکمیل کی راہ ہموار کرے گا۔

تازہ ترین