• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان نے اسمبلی میں پنجابی زبان کی عظمت بیان کرنے والے احمر بھٹی سے پانی کا سائنسی فارمولہ پوچھنے کیساتھ بلھے شاہ اور احمد راہی کی مثالیں دینے کے بجائے کسی سائنسدان کا حوالہ دینے کی بات کرکے اپنی علمیت اور دانش کا بھری اسمبلی میں بھانڈا پھوڑ دیا، شکر ہے انھوں نے اقوام متحدہ کو بھی مادری زبانوں کو اہمیت دینے پر کھری کھری نہیں سنادیں۔اسپیکر صاحب کے توہین آمیز جملوں اور نفرت انگیز رویے کے جواب میں اگر پنجاب کی تابناک علمی و فکری روایت کا ذکر شروع کروں تو بات چند صدیوں اور نوبل پرائزز تک محدود نہیں رہے گی۔ ٹیکسلا کی قدیم درسگاہوں سے لے کر برصغیر کی علمی، ادبی اور روحانی تاریخ تک پنجاب کا کردار اتنا وسیع ہے کہ اس پر کئی کتابیں لکھی جا سکتی ہیں۔جب اس دھرتی کی زبان اور ثقافت کو عزت و قبولیت حاصل تھی تب یہی خطہ فلسفی،ریاضی دان،سائنسدان ، طبیب، مفکر اور تاریخ دان پیدا کرتا رہا جن کی تحقیق سے ایک دنیا مستفید ہوئی ۔جس طرح آج اشرافیہ کے بچوں کی طرح ہمارے بچے بھی یورپ امریکہ جاتے ہیں تب دنیا کے لوگ علوم اور تہذیب سیکھنے پنجاب آتےتھے ۔زبانیں خود سائنسدان پیدا نہیں کرتیں بلکہ وہ تہذیبی اور تعلیمی ماحول پیدا کرتی ہیں جس میں تخلیقی ذہن پروان چڑھتے ہیں،اگر آج پنجابی زبان میں سائنسدانوں کی ایک بڑی تعداد نظر نہیں آتی تو اس کی ذمہ داری خود پنجابی زبان پر نہیں بلکہ ان حکمران طبقات پر عائد ہوتی ہے جنہوں نے اپنی مادری زبان کو تعلیمی، انتظامی اور علمی نظام سے مسلسل دور رکھا ہوا ہے اورآج بھی بھرپور مخالفت کر رہے ہیں۔اس سے بڑا ظلم کیا ہوگا کہ دنیا کی آٹھویں بڑی زبان پنجابی آج تک پنجاب کےا سکولوں میں ایک لازمی مضمون کے طور پر ہی نافذ نہیں کی جا سکی، ہمارے بچے اپنی مادری زبان میں سوچنے،سوال اٹھانے ،تحقیق اور تخلیق کرنے کی بجائے اجنبی زبانوں میں رٹے لگانے پر مجبور ہیں، رٹا یادداشت میں علوم کا ذخیرہ تو کر سکتا ہے مگر تخلیقی صلاحیتیں نہیں بیدار کر سکتا۔

مبین جٹ کے قومی اسمبلی میں پنجابی بولنے اور احمر بھٹی کے پنجاب اسمبلی میں پنجابی کی وکالت کرنے پر حکمران جماعت کی طرف سے جس طرح غم و غصّے کا اظہار کیا گیا وہ دراصل ہماری کم علمی اور سطحی شعور کے باعث پیدا ہونیوالی فکری الجھنوں کی علامت ہے۔ مبین جٹ نے نہ کوئی بدتہذیبی کی، نہ کسی کو گالی دی اور نہ اسمبلی کے وقار کیخلاف کوئی بات کی صرف بجٹ میں غریب کُش اقدامات کی نشان دہی کی۔ ایسی باتیں غم و غصّے میں ہی کی جاتی ہیں چاہے کسی بھی زبان میں ہوں مگر ان کے اعتراضات کا جواب دینے کی بجائے پنجابی زبان اور لب و لہجے کو برا بھلا کہا گیا۔ جبکہ کسی دوسری زبان کے فرد نے جٹ صاحب کے پنجابی بولنے پر اعتراض نہیں کیا ، اب بابا بلھے شاہ کی دھرتی کے وسنیک نے پنجابی کو غیرسائنسی زبان کا طعنہ دے کر پنجابیوں کو بہت اذیت پہنچائی ہے۔ سب سے زیادہ دُکھ تو ان ممبران کی اپنی زبان سے لاتعلقی اور زمینی دانش سے محرومی کا ہوتا ہے۔

احمد راہی نے اپنے گیتوں اور شاعری میں پنجاب کی محبت، ثقافت، حسن اور انسان دوستی کو امر کیا۔ بلھے شاہ نے تین صدیوں پہلے انسانی آفاقیت، مذہبی تعصب، فرقہ واریت، طبقاتی تقسیم اور انسان دشمن رویوں کیخلاف آواز بلند کی۔حیرت ہے کہ آج بھی قصور کی فضا میں اُن لوگوں کی بازگشت سنائی دیتی ہے جنہوں نے بلھے شاہ کو دیس نکالا دیا تھا اور ان کا جنازہ پڑھنے تک سے گریز کیا تھا۔کاش ہم بلھے شاہ کو ایک عظیم مفکر کے طور پر پڑھتے اور نصاب کا حصہ بناتے تو آج پنجاب کی گلیوں میں فرقوں، مسلکوں اور نفرتوں کی یہ آگ اتنی شدید نہ ہوتی۔ بلھے شاہ کا پیغام انسان دوستی، محبت، رواداری اور فکری آزادی کا پیغام تھا جو آج بھی اتنا ہی زندہ اور ضروری ہے جتنا ان کے عہد میں تھا۔ سائنس عقل کی پرواز ہے اور تصوف روح کی بالیدگی، انسانی تہذیب صرف ایک پہلو پر قائم نہیں رہ سکتی، جب معاشرے روحانیت، اخلاقیات اور انسان دوستی کو ترک کر دیتے ہیں تو علم بھی طاقت کا ہتھیار بن جاتا ہے، نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ انسان ترقی یافتہ مشینیں تو بنا لیتا ہے مگر اپنے ہی جیسے انسانوں کیلئے رحم، احترام اور محبت کھو دیتا ہے۔ پنجاب کی زبان، ثقافت اور فکری روایت کو کمتر سمجھنے کی بجائے اسے تعلیم، تحقیق اور تخلیق کا ذریعہ بنانا ہوگا، جو قومیں اپنی زبانوں سے کٹ جاتی ہیں وہ اپنی تاریخ، تہذیب اور فکری خود اعتمادی سے بھی محروم ہو جاتی ہیں۔

تازہ ترین