• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بھارت: 3 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے 65 سالہ مجرم کو سزائے موت سنا دی گئی

—فوٹو بشکریہ بھارتی میڈیا
—فوٹو بشکریہ بھارتی میڈیا

بھارتی شہر پونے کی ایک عدالت نے 65 سالہ مجرم بھیم راؤ کامبل کو 3 سالہ بچی کے ساتھ زیادتی اور بعد ازاں اس کے بہیمانہ قتل کے جرم میں سزائے موت سنا دی۔

بھارتی میڈیا کے مطابق عدالت نے اس جرم کو ’نایاب ترین (Rarest of Rare)‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ایسا خوفناک جرم ہے جو ناصرف عدالت بلکہ پورے معاشرے کے ضمیر کو بھی جھنجھوڑ دیتا ہے۔

یہ فیصلہ پونے کے ضلع و سیشن جج ایس آر سلونکھے نے سنایا ہے۔

سماعت کے دوران استغاثہ نے سزائے موت سے متعلق سپریم کورٹ کے 12 اہم فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ یہ مقدمہ ’نایاب ترین مقدمات‘ میں شامل ہے۔

عدالت نے اس مؤقف سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ جرم کی نوعیت اتنی سفاکانہ اور غیر انسانی ہے کہ کسی قسم کی نرمی کی گنجائش نہیں۔

جج نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ بچی کے جسم پر موجود زخم اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ اس کے ساتھ انتہائی بے رحمانہ سلوک کیا گیا۔

عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ ملزم پہلے بھی ایک جنسی جرم کے مقدمے میں ملوث رہ چکا تھا اس لیے وہ قانونی نتائج سے واقف تھا مگر اس کے باوجود اس نے یہ جرم کیا اور مقدمے کے دوران بھی کسی قسم کے پچھتاوے کا اظہار نہیں کیا۔

جج نے کہا کہ 65 سال کی عمر میں بھی ملزم کی ہوس ختم نہیں ہوئی بلکہ خطرناک حد تک بڑھ چکی تھی، ملزم نے جو کچھ بھی کیا، وہ بے خوفی، انتہائی تشدد اور نتائج کی پرواہ کیے بغیر کیا، کیونکہ اسے پہلے کے تجربے سے یقین تھا کہ اگر اس پر عدالت میں مقدمہ بھی چلے تو اس کے خلاف کچھ نہیں ہو گا۔

پولیس کے مطابق چند روز قبل عدالت نے ملزم کو اغواء، چھیڑ چھاڑ، زیادتی اور قتل کے الزامات میں مجرم قرار دیا تھا۔

بھارتی میڈیا کے مطابق یہ افسوس ناک واقعہ یکم مئی کو پونے میں پیش آیا تھا، تحقیقات کے مطابق بھیم راؤ کامبل نے 3 سالہ بچی کو کھانے پینے کی چیزوں کا لالچ دیا اور اسے ایک نومولود بچھڑا دکھانے کا بہانہ بنا کر اپنے ساتھ مویشیوں کے باڑے میں لے گیا جہاں اس نے بچی کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد بے رحمی سے قتل کر دیا تھا۔

پولیس کے مطابق بچی کے لاپتہ ہونے پر اس کے اہلِ خانہ نے تلاش شروع کی مگر بعد میں اس کی لاش برآمد ہوئی، پولیس نے علاقے کے سی سی ٹی وی کیمرے چیک کیے جن میں ملزم بچی کو اپنے ساتھ لے جاتا ہوا نظر آیا، اسی ویڈیو کی بنیاد پر پولیس نے ملزم کی شناخت کی اور اسے گرفتار کیا تھا۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید