• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

نو ع انسانی کے وجود ،بقا ،افزائش اور پیش رفت میں خواتین کا کردار اتنا ہی اہم ہے جتنا مردوں کا۔ عالم انسانیت کے یہ دونوں پہیے مساوی بنیادوں پر پہلو بہ پہلو چلتے ہیں تو یہ نظام متوازن رہتا ہے اسی لئے اسلام نے اپنے اپنے فرائض اور ذمہ داریوں کی حدود میں انہیں مساوی حقوق دیئے ہیں ۔ جان ومال ،عزت و وراثت، تعلیم صحت، رشتہ ازدواج وغیرہ کے معاملے میں واضح رضا مندی سمیت زندگی کے تمام اہم شعبوں میں انہیں برابر کی شراکت داری کا حق دیا گیا ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ سلم نے خواتین کے ساتھ حسن سلوک ان کی عزت اور ان کے صنفی حقوق کی حفاظت کی بار بار تلقین فرمائی لیکن فی زمانہ اکثر دیکھا گیا ہے کہ غیر اسلامی معاشرے کو تو چھوڑیئے خود اسلامی ممالک میں بھی اللہ اور رسول ﷺ کی تعلیمات سے روگردانی کرتے ہوئے مقامی رسوم و رواج اور انسانوں کی قائم کردہ روایات کی پیروی کی جارہی ہے کارو کاری غیرت کے نام پر خواتین کا قتل جبری شادی اور ایسی ہی قبیح رسومات کا چلن عام ہے کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جب بیگناہ عورتوں، نوجوان لڑکیوں اورمعصوم بچیوں کو ان رسومات کی بھینٹ نہ چڑھا دیا جاتا ہو۔ خواتین کے حقوق کی پاسداری صرف اخلاقی یا سماجی مسئلہ نہیں انسانی ترقی قوموں کے معاشی استحکام اور امن و امان کے مفادمیں بھی ضروری ہے دنیا کے تقریباً تمام ممالک اس بات سے متفق ہیں کہ خواتین کو تعلیم صحت روزگار انصاف اور سیاسی و سماجی عملداری میں شرکت کے مساوی مواقع ملنے چاہئیں ۔ اقوام متحدہ کے منشور میں بھی ان حقوق کی ضمانت دی گئی ہے تمام علاقائی تنظیموں نے اقوام متحدہ کے منشور کی پابندی کو لازم قرار دیا ہے لیکن عملی صورت حال یہ ہے کہ مغربی معاشرے میں آزادی کے تمام تر نعروں اور دعوؤں کے باوجود خواتین کے حقوق پامال کئے جارہے ہیں صنفی حقوق کے کئی بڑے معروف اداروں نے اپنے اپنے سروے میں اس حقیقت کو بے نقاب کیا ہے کہ یورپی ممالک میں ایک تہائی عورتیں جسمانی اور جنسی تشدد کا شکار ہیں لیکن ان پر ہونے والے مظالم کو کہیں رپورٹ نہیں کیا جاتا ۔ایک سروے کے مطابق صرف گزشتہ سال 11.3فیصد عورتوں نے اپنے اوپر ہونے والے مظالم کی شکایات پولیس میں درج کرائی ہیں ان شکایات میں مردوں کی دست درازی کی 6.1فیصد رپورٹیں بھی شامل ہیں گھریلو تشدد کی شکایات اس کے علاوہ ہیں طلاق اور علیحدگی کی شرح روز افزوں ہے جو عورتیں شکایات درج نہیں کراتیں ان کا یہ فعل دراصل رائج الوقت قانون پر عدم اعتماد کا مظہر ہے۔ 30.7 فیصدعورتوں نے جسمانی و جنسی تشدد اور مالی نقصانات کی شکایت کی مگر ان کاازالہ نہیں کیا گیا ۔ جن ممالک میں عورتوں سے بدسلوکی کی شکایات عام ہیں ان میں امریکا اور برطانیہ بھی شامل ہیں اس کے علاوہ فن لینڈ ، بلغاریہ، سوئیڈن اور ڈنمارک وغیرہ کے نام بھی لئے جاتے ہیں ۔ایسی شکایات اسلامی ممالک کے حوالے سے کم ہی منظر عام پر آتی ہیں مگر افغانستان میں خواتین کے حقوق کی پامالی کا شہرہ پوری دنیا میں ہے ۔ حجاب اور پردہ تو تمام اسلامی ملکوں کی خواتین کی لازمی روایت ہے مگر افغانستان میں پورے جسم کو ڈھانپنا لازمی قرار دیا گیا ہے اس حکم کی خلاف ورزی پر گرفتاریاں عام ہیں ۔ خواتین کو سزائیں بھی ملتی ہیں کوڑوں کی سزا بھی دی جاتی ہے۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن نے اس صورت حال پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے کئی ملکوں میں افغان عورتوں کے حقوق کی پامالی کے خلاف مظاہرے بھی ہوئے ہیں۔ اب بھی ہورہے ہیں ۔میک اپ اور ہیئر اسٹائل کا دنیابھر میں رواج ہے مگر افغانستان میں یہ قابل تعزیر ہے عورتوں کیلئے فیس ماسک اور جرابیں پہننا لازمی ہے خلاف ورزی پر انہیں جیل میں بند کردیا جاتا ہے ۔لڑکیوں کی تعلیم پر بارہ سال کی عمر کے بعد سے پابندی ہے عورتیں پارکوں اور جمنازیم وغیرہ میں نہیں جاسکتیں، عوامی مقامات پر جانا اور تقریبات کی میزبانی بھی ممنوع ہے۔ ہرات میں مردوں نے خواتین پر پابندیوں کے خلاف مظاہرہ کیا تو پولیس نے مظاہرین پر گولیاں چلا دیں ۔عورتوں کے ایک جلوس پر فائرنگ کی وجہ سے دو خواتین ماری گئیں۔ عورتوں کی ملازمت پر پابندی ہے وہ پرفیوم بھی استعمال نہیں کرسکتیں۔ افغانستان کے بازاروں میں خواتین شٹل کاک برقعوں میں ہی نظر آتی ہیں ملک کی نصف آبادی کو تعمیر و ترقی کے کاموں سے دور کردیا گیا ہے۔

پاکستان میں صورتحال بظاہر حوصلہ افزا نظر آتی ہے خواتین کیلئے اسمبلیوں میں نشستیں مخصوص ہیں وہ سیاسی سرگرمیوں میں بھی بھرپور حصہ لے سکتی ہیں بیوروکریسی میں بھی بڑے بڑے عہدوں پر فائز رہی ہیں یا ہیں وزیر اعظم وزیر اعلیٰ ، وزیر خارجہ وزیر جج اور چیف جسٹس کے عہدوں پر بھی متمکن رہی ہیں مگر ان کا تعلق اشرافیہ کے طبقے سے ہے۔ شہری معاشرے سے ہٹ کر دیکھاجائے تو دیہی خواتین چاہے وہ کسی بھی صوبے سے تعلق رکھتی ہیں مشکلات کا شکار رہی ہیں پنجاب ہو یا سندھ ، خیبر پختون خوا ہو یا بلوچستان دیہی خواتین کی حالت توجہ کی مستحق ہے۔ دیہات میں مردوں کا حکم چلتا ہے عورتیں چند مخصوص گھرانوں کے سوا مجبور ہیں ۔قتل جبری شادی آبرو ریزی اور تشدد کے واقعات آئے روز منظر عام پر آتےرہتے ہیں ان کا نوٹس بھی لیا جاتا ہے مگر صورتحال قابو سے باہر نظر آتی ہے ۔پاکستان کا آئین خواتین اور مردوں کےمساوی حقوق کی ضمانت دیتاہے ۔ قانون کی نظر میں تمام شہری برابر ہیں۔ خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لئے قوانین بھی بنائے جاتے ہیں مگر ضرورت اس امر کی ہے کہ ان پر سختی سے عملدرآمد بھی ہو ۔ خواتین کے لئے تعلیم،صحت کے علاوہ روزگارلازم اور ہراسانی سے محفوظ ماحول ضروری ہے ۔ ملک کی تقریباً نصف آبادی خواتین پر مشتمل ہے انہیں نظر انداز کرکے ان کے بنیادی حقوق کی پاسداری نہ کرکے ملک ترقی کرسکتا ہے نہ قوم بین الاقوامی برادری میں اپنامقام بنا سکتی ہے۔ خواتین کے اسلامی اصولوں کے مطابق تمام حقوق یقینی بنا کر انہیں معاشرے میں بھرپور کردارادا کرنے کے قابل بنانے کی ضرورت ہے ۔

تازہ ترین