عوامی رہنماؤں کے الفاظ محض الفاظ نہیں ہوتے بلکہ پالیسی، سوچ اور ریاستی رویوں کی عکاسی کرتے ہیں۔ ایک عام شخص کی لغزش محض ایک فرد کی لغزش سمجھی جاتی ہے لیکن ایک وزیر، مشیر یا سربراہِ مملکت کا بیان قومی اور بین الاقوامی سطح پر اثرات مرتب کرتا ہے۔ پاکستان کی حالیہ تاریخ میں اس کی ایک نمایاں مثال سابق وزیر ہوا بازی غلام سرور خان کا وہ بیان ہے جس میں انہوں نے قومی ائیر لائن کے پائلٹوں کی اسناد اور لائسنسوں پر سوالات اٹھائے تھے۔ اس بیان کے نتائج انتہائی بھیانک ثابت ہوئے۔ دنیا بھر میں پاکستانی پائلٹوں کی ساکھ متاثر ہوئی، کئی ممالک نے پاکستانی پائلٹوں پر پابندی عائد کی، قومی ائیر لائن کو شدید مالی اور انتظامی نقصان اٹھانا پڑا اور لاکھوں پاکستانیوں کو اس کے منفی اثرات برداشت کرنا پڑے۔یورپی دوروں کے دوران مجھے تارکین وطن کی تکالیف کا اندازہ ہوا کہ انہیں پاکستان آنے کے لیے یا اپنے پیاروں کی لاشیں پاکستان بھیجنے کے لیے کس قدر اذیت سے گزرنا پڑتا ہے۔
اسی تناظر میں پنجاب کے وزیر تعلیم کا وہ بیان زیر بحث ہے جس میں اساتذہ کے حوالے سے ٹونٹیاں، پنکھے اور دیگر سامان چوری کرنے کی بات کی گئی۔وزیر تعلیم ایک موقر سیاسی گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں انکے والد ایک سرد گرم چشیدہ سیاسی شخصیت ہیں لیکن شائد انہیں اندازہ نہیں کہ ان کے الفاظ کے کتنے دور رس اور سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ جس طرح ایک غیر محتاط بیان نے پی آئی اے اور پاکستانی پائلٹوں کی عالمی حیثیت کو نقصان پہنچایا تھا، اسی طرح اساتذہ کے بارے میں ایسے بیانات ہمارے تعلیمی نظام کی ساکھ پر سوالیہ نشان لگا سکتے ہیں۔ دنیا کی بڑی جامعات پہلے ہی پاکستانی ڈگریوں اور تعلیمی معیار کو سخت جانچ پڑتال کے بعد تسلیم کرتی ہیں۔ اگر حکومتی سطح پر یہ تاثر ابھرے کہ ہمارے اساتذہ دیانت داری اور امانت کے بنیادی معیار پر پورا نہیں اترتے تو کل کو ہمارے طلبہ کی قابلیت، ڈگریوں اور علمی ساکھ پر بھی سوالات اٹھ سکتے ہیں۔
یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ کسی بھی شعبے میں خامیاں اور کمزوریاں ہو سکتی ہیں۔ تعلیمی نظام بھی اس سے مستثنیٰ نہیں۔ اگر کہیں بدعنوانی، غفلت یا سرکاری املاک کے ضیاع کے انفرادی واقعات موجود ہیں تو حکومت کو چاہیے کہ ثبوت کی بنیاد پر کارروائی کرے۔ مگر چند افراد کی غلطیوں کی بنیاد پر پوری برادری کو مشکوک قرار دینا انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے۔ اساتذہ قوم کے معمار ہوتے ہیں۔ ایک ڈاکٹر، انجینئر، جج، بیوروکریٹ، سیاست دان اور فوجی افسر کی بنیاد بھی کسی استاد کے ہاتھوں رکھی جاتی ہے۔ استاد معاشرے کا وہ قابل احترام فرد ہے جو آنے والی نسلوں کی فکری اور اخلاقی تربیت کرتا ہے۔ اگر استاد کی عزت مجروح ہوگی تو اس کے اثرات صرف ایک فرد تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری نسل متاثر ہوگی۔
بدقسمتی سے پاکستان میں اساتذہ صرف تدریس تک محدود نہیں رہے۔ انہیں مردم شماری، انتخابی ڈیوٹی، پولیو مہم، انسداد ڈینگی مہم، کورونا ویکسی نیشن مہم، مختلف سرویز، امتحانی نگرانی اور متعدد انتظامی امور میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ گرمی ہو یا سردی، دور دراز دیہات ہوں یا شہری علاقے، اساتذہ ہر سرکاری ذمہ داری نبھاتے ہیں۔ کئی مواقع پر اپنی تدریسی ذمہ داریوں کے ساتھ اضافی فرائض انجام دیتے ہوئے انہیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اگر ان تمام خدمات کے باوجود انہیں سرعام چور قرار دیا جائے تو یہ ان کی تضحیک کے مترادف ہوگا۔
وزیر تعلیم اگر تعلیمی نتائج پر تنقید کریں تو یہ ان کا حق ہے۔ وہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ حکومت اساتذہ کو تنخواہیں، مراعات اور سہولیات فراہم کر رہی ہے لیکن نتائج توقعات کے مطابق نہیں آ رہے۔ وہ احتساب، کارکردگی اور اصلاحات کی بات کر سکتے ہیں۔ وہ نظام میں بہتری کے لیے سخت فیصلے بھی کر سکتے ہیں۔ یہ سب پالیسی سازی کے دائرے میں آتا ہے۔ لیکن کسی پورے طبقے کے بارے میں ایسے الفاظ استعمال کرنا جو اس کی عزت اور وقار کو مجروح کریں، کسی بھی مہذب معاشرے میں مناسب نہیں سمجھا جاتا۔ تنقید اور تضحیک میں واضح فرق ہوتا ہے۔
ازراہ تفنن عرض ہے کہ مسجد کی ٹونٹیوں کی چوری کا الزام حکومتوں کا محبوب الزام رہا ہے۔ ماضی میں سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری کے خلاف پنڈ دادنخان میں سیمنٹ کی بوری اور ملتان میں مسجد کی ٹونٹی چوری کرنے جیسے مضحکہ الزامات کے تحت ہی مقدمات درج ہوئے تھے۔ یہ مقدمات سیاسی انتقام اور کردار کشی کے طور پر استعمال ہوئے تھے۔جس طرح کسی فرد پر بغیر ثبوت کے چوری کا الزام لگانا توہین اور کردار کشی سمجھا جاتا ہے اسی طرح لاکھوں اساتذہ کے بارے میں عمومی نوعیت کا ایسا تاثر دینا بھی یقیناً قابل اعتراض ہوگا۔
آج پنجاب میں تعلیمی شعبہ ایک بڑی تبدیلی کے دور سے گزر رہا ہے۔ ہزاروں اسکول آؤٹ سورسنگ کے عمل سے گزر چکے ہیں۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ اس اقدام سے تعلیمی معیار بہتر ہوگا اور انتظامی بوجھ کم ہوگا۔ ناقدین اس عمل کو تعلیم کی نجکاری اور ریاستی ذمہ داریوں سے دستبرداری قرار دیتے ہیں۔ یہ بحث اپنی جگہ موجود ہے اور اس پر اختلاف رائے بھی ہو سکتا ہے۔ لیکن ایک بات طے ہے کہ تعلیمی پالیسیوں پر بحث کرتے ہوئے تعلیم اور اساتذہ کے احترام کو مجروح نہیں ہونا چاہیے۔ آپ اسکول آؤٹ سورس کر سکتے ہیں، انتظامی ڈھانچہ تبدیل کر سکتے ہیں، کارکردگی کے پیمانے سخت کر سکتے ہیں، مگر تعلیم کو گالی نہیں بنا سکتے۔ استاد کو مشکوک بنا کر تعلیمی نظام کو مضبوط نہیں کیا جا سکتا۔ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت اور اساتذہ ایک دوسرے کے مقابل نہیں بلکہ ایک دوسرے کے معاون بنیں۔ تعلیمی اصلاحات باہمی اعتماد، احترام اور مشاورت سے کامیاب ہوتی ہیں، الزامات اور تحقیر سے نہیں۔ وزیر تعلیم کو چاہیے کہ وہ اساتذہ کی اکثریت کی خدمات کا اعتراف کریں، انکے خلاف الزامات واپس لیکر معذرت کریں۔ کیونکہ جس دن استاد کی توقیر ختم ہو جائے گی، اس دن معاشرے کے علمی اور اخلاقی زوال کا آغاز ہو جائے گا۔