وفاقی وزیر مصدق ملک نے کہا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ دنیا کے مضبوط ترین معاہدوں میں سے ایک ہے، کسی کو علاقائی اور عالمی امن یرغمال بنانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
اسلام آباد میں سیمینار سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان نے تباہ کن سیلابوں کا سامنا کیا، یہ ماحولیاتی مسئلہ نہیں، انصاف کا معاملہ ہے، پاکستان میں بڑے طبقے کا ذریعہ معاش زراعت ہے، اصل مسئلہ پانی کو کنٹرول کر کے بطور ہتھیار استعمال کرنا ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا ہے کہ پاکستان واضح کر چکا ہے کہ وہ اپنے حصے کے پانی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
ان کا کہنا ہے کہ پانی کی عدم دستیابی سے کسان زراعت چھوڑنے پر مجبور ہو رہے ہیں، اس سے صرف پاکستانی ہی نہیں بلکہ بنگلادیش کے لوگ بھی متاثر ہو رہے ہیں، دریائے نیل ہو یا فرات، ہر جگہ اسی قسم کی کہانیاں ہیں، پاکستان، افریقا یا بنگلادیش ہر جگہ ایک جیسی کہانیاں ہیں، بھارت ہمارے پانی کے بہاؤ کو کنٹرول ہی نہیں کرتا بلکہ دنیا کا تیسرا آلودگی پھیلانے والا ملک بھی ہے۔
وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ بھارت کی وجہ سے ہمارے 6 ہزار لوگ جاں بحق اور ہزاروں زخمی ہو چکے، 6 ہزار لوگ جنگوں میں بھی نہیں مرتے، یہ معاہدہ دو ہمسایہ ملکوں کے درمیان 3 جنگوں میں بھی قائم رہا، اگر یہ مضبوط ترین معاہدہ قائم نہ رہا تو پھر دنیا کا کوئی بھی معاہدہ قائم نہیں رہ سکتا۔
ان کا کہنا ہے کہ عالمی ثالثی عدالت بہت واضح فیصلے دے چکی، عالمی ثالثی عدالت قرار دے چکی کہ کوئی ملک یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدہ معطل یا ختم نہیں کر سکتا، عالمی ثالثی عدالت قرار دے چکی کہ بھارت پاکستان کے حصے کے پانیوں پر پانی کے ذخائر نہیں بنا سکتا، بھارت عالمی ثالثی عدالت کے فیصلوں کو تسلیم کرنے بھی انکاری ہے، اگر یہ معاہدہ کامیاب نہیں ہوا تو پھر دنیا کے ہر نشیبی ملک کے حصے کا پانی روکا جائے گا۔