• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

7اور 8جولائی 2026 کو ترکیہ کا دارالحکومت انقرہ ایک ایسے عالمی اجتماع کی میزبانی کرنے جا رہا ہےجس پر صرف یورپ یا بحرِ اوقیانوس ہی نہیں بلکہ ماسکو، بیجنگ، تہران، کیف، مشرق وسطیٰ، افریقہ اور ایشیا سمیت پوری دنیا کی نظریں مرکوز ہیں۔ (NATO) کے 36ویں سربراہی اجلاس کی میزبانی ترکیہ کیلئے محض ایک سفارتی اعزاز نہیں بلکہ اس حقیقت کا بین الاقوامی اعتراف بھی ہے کہ اکیسویں صدی کی بدلتی ہوئی عالمی سیاست میں ترکیہ اب محض ایک علاقائی طاقت نہیں رہا بلکہ وہ مشرق اور مغرب کے درمیان ایک ایسے تزویراتی پل کی حیثیت اختیار کر چکا ہے جسے نظرانداز کرنا کسی بھی عالمی طاقت کیلئے ممکن نہیں۔ اجلاس 7 اور 8 جولائی کو انقرہ کے بیش تپے صدارتی کمپلیکس میں منعقد ہوگا اور اس میں نیٹو کے تمام رکن ممالک کے سربراہان اور اہم شراکت دار شریک ہوں گے۔ انقرہ میں ہونے والا یہ اجلاس عالمی سلامتی کے مستقبل کے حوالے سے غیرمعمولی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ترکیہ کی میزبانی اس بات کا واضح اعتراف ہے کہ اب وہ صرف یورپ اور ایشیا کو ملانے والا جغرافیائی ملک نہیں بلکہ عالمی سفارت کاری اور سلامتی کی سیاست کا ایک اہم مرکز بھی بن چکا ہے۔اسکی سرحدیں بحیرہِ اسود، مشرقِ وسطیٰ، قفقاز اور بحیرہ روم جیسے حساس خطوںسے ملتی ہیں۔ باسفورس اور داردانیلز کی آبی گزرگاہیں عالمی تجارت اور عسکری نقل و حرکت کیلئے غیرمعمولی اہمیت رکھتی ہیں۔ روس اور یوکرین کے درمیان جنگ نے ان سمندری راستوں کی اہمیت مزید بڑھا دی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نیٹو کی جنوبی دفاعی حکمت عملی میں ترکیہ کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ نیٹو کے دوسرے بڑے عسکری رکن کی حیثیت سے ترکیہ نے گزشتہ

برسوں میں اپنی دفاعی صنعت، علاقائی سفارتکاری اور تزویراتی اہمیت میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔ روس اور یوکرین کے درمیان رابطوں کو برقرار رکھنے، بحیرۂ اسود کی سلامتی، شام کے بحران، قفقاز کی صورتحال اور مشرقِ وسطیٰ میں فعال کردار نے اسے عالمی طاقتوں کے درمیان ایک قابلِ اعتماد سفارتی پل بنا دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نیٹو کے سیکرٹری جنرل مارک روٹے نے ترکیہ کو’’مشترکہ سلامتی کاناگزیر ستون‘‘ قرار دیا ہے۔صدر رجب طیب ایردوان کی قیادت میں ترکیہ نے جس خوداعتماد خارجہ پالیسی کو فروغ دیا، اسی کا نتیجہ ہے کہ نیٹو نے اپنی اعلیٰ ترین قیادت کو ایک بار پھر ترکیہ میں جمع کیا۔ یہ اجلاس ایردوان کیلئے بھی ایک بڑی سفارتی کامیابی تصور کیا جا رہا ہے،کیونکہ اس میں امریکہ سمیت تمام اتحادی ممالک کی اعلیٰ قیادت شریک ہو رہی ہے۔اجلاس کی ایک اہم خصوصیت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی شرکت ہے۔ انکی موجودگی اس اجلاس کو مزید اہم بنا دیتی ہے، کیونکہ ٹرمپ مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتے رہے ہیں کہ نیٹو کے یورپی اتحادیوں کو اپنی دفاعی ذمہ داریاں خود اٹھانی اور اخراجات بڑھانے چاہئیں۔ انقرہ میں ان کی صدر ایردوان سے ملاقات نہ صرف امریکہ اور ترکیہ کے دوطرفہ تعلقات بلکہ شام، یوکرین، بحیرۂ اسود، دفاعی تعاون اور مشرقِ وسطیٰ کی مجموعی صورتحال پر بھی دور رس اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ گزشتہ چند ماہ کے دوران دونوں رہنماؤں کے تعلقات میں نمایاں گرمجوشی دیکھی گئی ہے۔ ٹرمپ متعدد مواقع پر ایردوان کی قیادت اور ان کی مذاکراتی صلاحیت کی تعریف کر چکے ہیں، جبکہ ایردوان نے بھی امریکہ کے ساتھ تعلقات کو نئے مرحلے میں داخل کرنے کی خواہش ظاہر کی ہے۔ بعض حساس معاملات میں بھی پیشرفت کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ اجلاس کا بنیادی محور یوکرین جنگ، یورپی سلامتی، دفاعی اخراجات میںاضافہ،جدیددفاعی ٹیکنالوجی،مصنوعی ذہانت، سائبر سیکورٹی اور دفاعی صنعت میں مشترکہ تعاون ہوگا۔ نیٹو اس بات پر غور کر رہا ہے کہ بدلتے عالمی حالات میں اپنی اجتماعی دفاعی صلاحیت کو کس طرح مزید مضبوط بنایا جائے اور اتحادی ممالک

مستقبل کے خطرات کا مشترکہ طور پر مقابلہ کیسے کریں۔روس یقیناً اس اجلاس کو گہری نظر سے دیکھ رہا ہے، کیونکہ نیٹو کی دفاعی حکمت عملی میں ہونیوالی ہر تبدیلی ماسکوکیلئے اہم تزویراتی معنی رکھتی ہے۔ اسی طرح چین بھی اگرچہ براہِ راست اس اتحاد کا حصہ نہیں، لیکن وہ بخوبی جانتا ہے کہ یورپی سلامتی اور بحرالکاہل کی سیاست اب ایک دوسرے سے الگ نہیں رہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انقرہ میں ہونے والی گفتگو کے اثرات یورپ سے نکل کر ایشیا اور بحرالکاہل تک محسوس کیے جا سکتے ہیںیہ اجلاس اس حقیقت کو بھی نمایاں کرتا ہے کہ عالمی طاقت کا تصور بدل چکا ہے۔ آج صرف فوجی قوت کسی ملک کی طاقت کا معیار نہیں رہی، بلکہ دفاعی صنعت، جدید ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، معاشی استحکام، سفارتی مہارت اور علاقائی اثرورسوخ بھی عالمی حیثیت کے بنیادی عناصر بن چکے ہیں۔ ترکیہ نے انہی شعبوں میں پیش رفت کرتے ہوئے اپنی بین الاقوامی اہمیت میں اضافہ کیا ہے۔اجلاس میں تین بڑے موضوعات سرفہرست ہونگے۔1۔دفاعی اخراجات کو مجموعی قومی پیداوار (GDP) کے5 فیصد تک بڑھانے کی پیشرفت۔ 2۔دفاعی صنعت، مشترکہ پیداوار اور جدید عسکری ٹیکنالوجی میں تعاون۔ 3۔یوکرین کی طویل المدتی عسکری اور مالی معاونت کا لائحہ عمل۔ اسی سلسلے میں 7 جولائی کو نیٹو ڈیفنس انڈسٹری فورم بھی منعقد ہوگا، جس میں دفاعی صنعت، سرمایہ کاری، اختراع اور مشترکہ پیداوار پر اعلیٰ سطحی تبادلۂ خیال کیا جائیگا۔ اگر اتحادی ممالک اپنے اختلافات سے بالاتر ہو کر مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو یہ اجلاس نیٹو کی تاریخ میں ایک نئے باب کا آغاز ثابت ہو سکتا ہے۔ چند سال پہلے تک نیٹو کی توجہ زیادہ تر یورپ تک محدود تھی، لیکن اب چین بھی اس کے طویل المدت اسٹرٹیجک جائزے کا اہم حصہ بن چکا ہے۔ بالآخر تاریخ اس اجلاس کو ان فیصلوں سے یاد رکھے گی جو آنیوالے برسوں میں عالمی امن، سلامتی اور بین الاقوامی تعلقات کی سمت متعین کریں گے۔انقرہ آج صرف ترکیہ کا دارالحکومت نہیں بلکہ عالمی سیاست کے مستقبل کا ایک اہم مرکز بن چکا ہے، جہاں ہونیوالے فیصلے آنیوالے کئی برسوں تک دنیا کے سیاسی اور تزویراتی منظرنامے پر اثر انداز ہوتے رہیں گے۔

تازہ ترین